سیاستہندوستان

جس ملک کی پولیس فریق بن جائے، اس ملک کے انجام سے ڈرو

ان چار برسوں میں پولیس کھل کر مسلم دشمنی میں مبتلا رہی ہے۔

حفیظ نعمانی

کان پھٹنے لگے ہیں یہ سنتے سنتے کہ کسی کو بخشا نہیں جائے گا کسی کو چھوڑا نہیں جائے گا۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون کس کا بھائی ہے اور کون کس کا داماد سب کو جیل بھیجا جائے گا۔ یا اسی پارلیمنٹ میں چار سال پہلے وزیراعظم نے کہا تھا کہ یہ جو کرسیوں پر سانسد (MP)  بیٹھے ہیں ان میں جو داغی ہیں وہ سب ایک سال کے اندر اندر جیل میں ہوں گے اور جو دودھ کے دُھلے ہیں وہ پارلیمنٹ کی عزت بڑھا رہے ہوں گے۔ اور اب 9  مہینے کے بعد دوسرا الیکشن آنے والا ہے لیکن کسی ایم پی سے ایک بار بھی کسی جج نے یہ معلوم نہیں کیا کہ فردِ جرم میں لگائے گئے الزامات کے بارے میں تمہیں کیا کہنا ہے؟

یہ بات مشہور ہے کہ پارلیمنٹ میں جھوٹ نہیں بولا جاتا۔ اور ملک دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے کہ ہر دن جھوٹ اور صرف جھوٹ بولا جارہاہے۔ وزیرداخلہ سے خاص طور پر ہمیں کہنا ہے اس لئے کہ ان سے ایک رشتہ تو ہمارا یہ ہے کہ وہ اُترپردیش کے رہنے والے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ لکھنؤ یعنی ہمارے شہر سے ایم پی ہیں کہ وہ کیوں یہ نہیں سوچتے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل وہ نہ رہیں اور ان کی بگاڑی ہوئی پولیس اتنی برباد ہوچکی ہو کہ پھر بھول جائے گی کہ وہ انصاف کرانے کے لئے نوکر رکھی گئی ہے۔ اب ہاپوڑ میں قاسم قریشی کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے والوں کے سرغنہ نے اقرار کیا ہے کہ اس نے ہی مارا اور اس نے ہی فخر سے کہا ہے کہ وہ پانی مانگ رہا تھا ہم نے سالے کو پانی نہیں دیا۔ اور اس نے ہی کہا ہے کہ تھانے کی پولیس نے مشورہ دیا کہ جب گائے کٹی ہی نہیں تو اس کا رپورٹ میں ذکر نہ کرو لکھ دو موٹر سائیکل سے ٹکر کا جھگڑا تھا۔ اور اس کا ہی عدالت میں بیان ہے کہ میں تو موقع واردات پر موجود ہی نہیں تھا اور جب میں ضمانت پر آیا تو میرا بہت دھوم سے استقبال کیا گیا۔ قاتل سیسودیا نے جیلر سے بھی کہا کہ وہ گائے کاٹ رہے تھے میں نے انہیں کاٹ دیا۔ اور میری فوج تیار ہے اگر کوئی گئوکشی کرتا ہے تو ہم اسے کاٹ دیں گے اور ہزار بار جیل جائیں گے۔

اسی طرح الور میں ہونے والے پہلو خان کے قاتل نے جو اس لئے ضمانت پر آگیا کہ اس نے بھی کہا کہ میں تو اس وقت گئوشالہ میں تھا اور پولیس نے اس کی تصدیق کردی۔ اس نے خفیہ کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ میں نے مارا اور ایک گھنٹہ تک مارتا رہا۔

الور میں ہی اکبر خان نام کے ایک مسلمان سے اس کی گائیں چھین لیں اور اسے مارا وہ زخموں سے چو ٗر تھا کہ پولیس والے اسے ٹرک میں ڈال کر گھماتے رہے۔ انہوں نے چار گھنٹے لگادیئے اور آخرکار اس نے دم توڑ دیا اکبر کی گایوں کو جو وہ خریدکر لایا تھا پولیس نے گئوشالہ کیوں پہونچایا؟ وہ نہ رانی کے باپ کی تھیں نہ سرکار کی۔ اور آج تک وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ راجستھان حکومت سے کہیں کہ اکبر خان کی گایوں کو اس کے گھر بھجوائو اور پولیس کے جن سپاہیوں نے اسے اسپتال پہونچانے کے بجائے سڑکوں پر چار گھنٹے گھمایا اور صوبائی وزیرداخلہ نے تسلیم کیا کہ موت اس وقت ہوئی جب وہ پولیس کے پاس تھا۔ ان پولیس والوں کو 302  کے تحت جیل بھیجو۔

ایک طرف گائے خریدنے کے جرم میں مسلمانوں کے ساتھ وہ ہورہا ہے جو انسان کے مارنے پر بھی نہیں ہوتا اور دوسری طرف ہندوستان کے سرپر اس لئے تاج رکھا گیا ہے کہ وہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ بیف دنیا بھر میں بیچ رہا ہے۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ ڈالر کی ضرورت ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کٹنے کے قابل ایک گائے بھی ملک میں نہ کٹے سب حکومت کو سستے داموں میں بیچ دیں اور مودی سرکار گوشت سے ڈالر بنالے۔ ہوسکتا ہے اس شیطانی حرکت میں حکومت خود شریک ہو؟ خبر کے مطابق دنیا کا 19  اعشاریہ 60  فیصدی بیف ہندوستان درآمد کرتا ہے۔ لیکن اس معاملہ میں خاموش ہے جبکہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو کہنا چاہئے کہ جب حکومت خود سیکڑوں جانور روز کاٹ کر ان کا گوشت بیچ رہی ہے تو کسی کو گائے کاٹنے پر بھی گرفتار نہ کیا جائے۔ منگلور کی پولیس نے بجرنگ دل کے ایک مشہور کارکن کو گرفتار کیا ہے جو دن میں گئو رکشا دل میں کام کرتا تھا اور رات میں مویشیوں کی اسمگلنگ کراتا تھا۔ اور یہ خبر بھی سب نے پڑھی ہوگی کہ ایک تیز رفتار ٹرک سے ٹکراکر ایک گائے دور جاکر گری اور سیکڑوں ہندو اس سڑک سے گذر گئے کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ ماتاجی کی خیریت معلوم کرے؟

ان چار برسوں میں پولیس کھل کر مسلم دشمنی میں مبتلا رہی ہے۔ وزیر داخلہ یہ کہہ کر ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے کہ یہ ریاستی حکومت کا معاملہ ہے۔ ملک میں جہاں کہیں بھی پولیس کی مسلم دشمنی سامنے آئی ہے اس ریاست میں وزیر داخلہ کی پارٹی کی حکومت ہے۔ کیا یہ وزیر داخلہ کے لئے شرم کی بات نہیں ہے کہ کئی جگہ سے خبر آچکی ہے کہ پولیس کو دوڑا دوڑاکر مارا یا تھانے میں گھس کر پولیس کو مارا کیا یہ وہی پولیس ہے جس کے انسپکٹر کو وزیر بھی نہیں روک سکتا تھا؟ آج وہ کتوں کی طرح ہر نیتا کے سامنے دُم ہلاتے ہیں ؟ یہ حقیقت ہے کہ صوبائی پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ صوبائی حکومت وزیر داخلہ کے ماتحت ہوتی ہے۔ کس صوبہ کے وزیراعلیٰ کی ہمت ہے جو آپ کی بات ٹال دے۔ اور اگر وہ آپ کی بات کو اہمیت نہیں دیتا تو آپ کی کمزوری ہے اور اس لئے ہے کہ آپ کو وزیراعظم کی مداخلت کا خطرہ ہے۔ اور اگر ان کی مداخلت پر آپ استعفیٰ ان کو پکڑا دیں تو بھونچال آجائے گا کیونکہ آپ وہ ہیں جن کو موہن بھاگوت صاحب نے نتن گڈکری کے بعد یہ کہہ کر بی جے پی کا صدر بنایا تھا کہ آپ آر ایس ایس سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔

شری راج ناتھ سنگھ کو اگر اپنی عزت بچانا ہے تو وہ اور کچھ نہ کریں صرف انصاف کی خاطر اتنا کرادیں کہ بھیڑ کے ہاتھوں قتل کے مقدموں کو ان ریاستوں سے ہٹاکر دوسری ریاستوں میں بھجوادیں جیسے بنگال، تلنگانہ اور کیرالہ، وسندھیا رانی یا یوگی آدتیہ ناتھ یا جھارکھنڈ کا وزیراعلیٰ عدالتوں کو انصاف نہیں کرنے دیں گے اور اگر انصاف کا خون کیا گیا تو بے قصوروں کا اتنے دردناک طریقہ سے قتل کائنات کے اس بنانے والے کو جس نے انسان کو اشرف المخلوقات یعنی اپنا شاہکار بنایا ہے کیسے برداشت ہوگا؟ وہ قاتلوں کا عبرتناک حشر تو کرے گا ہی اگر حکومت نے انصاف نہ ہونے دیا تو ملک کا جو انجام ہوگا اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور کیا خبر اگست کے پہلے ہفتے میں ہی پانی کے ذریعہ تباہی ان شہیدوں کے خون کے قطروں کا طوفان ہو اور یہ صرف اشارہ ہو؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close