سیاستہندوستان

جملوں کی کہانی جملوں کی زبانی

ملک کی تاریخ دن بدن انوکھی ہوتی جا رہی ہے۔ ہر روز نت نئے فتنوں اور وعدوں کی جھڑیوں سے عوام کو سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملکی سیاست بھی مافوق العادت رنگ بدل رہی ہے۔ سیاسی قدریں لمحہ بہ لمحہ سرعت کے ساتھ بدل رہی ہیں گویا یہ قدریں خود کار آلہ ہیں ۔  سیاست تولفظی جنگ اور اکھاڑ پچھاڑ کا نام تھا؛ لیکن اب صورتحال یہ ہوتی جا رہی ہے کہ محض لفظ ہی نہیں ؛ بلکہ اس کے معانی بھی حقیقت حال کاپتہ دیتے ہیں ۔ دیوالی، رمضان اور قبرستان و شمشان بھی اپنی ماہیت بدل کر عوام میں تفریق کی لکیر کھینچ رہے ہیں اور جو بات گائے سے شروع ہوئی تھی وہ اب گدھوں تک پہنچ چکی ہے۔  وکاس کا انتظار کرتے کرتے وناش دستک دے رہا ہے۔

نوٹ بندی کی جبری ستم ظریفی نے ATM سے چورن والے نوٹ نکالنے شروع کردیئے اور اچھے دنوں کا مجموعی نتیجہ یہی رہا کہ شب و روز تیرگی کے دامن سیاہ میں گذر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کے جملوں کے مدنظر تو ملک ترقی کر رہا ہے، کیش لیس کا نظام بھی کچھ جگہوں پر رائج ہے، مگر زمینی حقائق اس سے کہیں مختلف ہے اور برسراقتدار طبقہ کی جملہ بازیوں سے رشتہ استوار رکھتے ہیں ۔ غور سے دیکھا جائے تو مرکزی حکومت کے اس ڈھائی سال کے عرصہ میں تو صرف جملہ بازی ہی کی گئی الا یہ کہ ملکی مفاد کے تئیں امور سر انجام دیئے جاتے حتیٰ کہ ملکی دفاع اور فوجی طاقتوں کو بھی اپنی جملہ بازیوں کی بھینٹ چڑھا دیا، نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کا یوں ڈھنڈورا پیٹا جانے لگا کہ دشمن بھی بیدار ہوکر ہماری اس ابلہی پر طنز کرنے لگے اور سر عام خود دار فوجیوں کی بے عزتی کی جانے لگی۔ ?

سرجیکل اسٹرائیک بچوں اور سیاستدانوں کا کھیل نہیں ہے؛ بلکہ سرحد پار دشمن کے گھر میں گھس کر فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے ? شاید برسراقتدار طبقہ نے اسے بھی لفظوں کا اسرار سمجھ رکھا تھا ؟ اب اسے کیا کہیں کہ سرجیکل اسٹرائیک پر جواب طلبی کو دیش سے غداری بھی کہا جانے لگا ہے  ایسی عقل و دانش پر جمہوری ماتم و گریہ کے اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے نیز اس ابلہی پر سوالیہ نشان لگنا ان کی فطرت کے عین موافق بھی ہے۔ ?ملک میں برسراقتدار طبقہ کے جمیع فعال افراد بشمول قائد خر نے جس طرح جملہ بازیوں اور ان جملوں سے مترشح معانی سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے، وہ ہندوستانی سیاست کا مضحکہ خیز پہلو ہے۔ سیاست لفظوں اور اس کے معانی سے کی جاتی ہے بچکانہ اور احمقانہ جملوں کے ذریعہ سیاست اقتدار جیسے باوقار منصب کے غیر موزوں اور ناروا ہے۔

اس طرح کے جملے وزیر اعظم کی کرسی پر براجمان ہوکر زیب نہیں دیتا کہ’’ میرا کیا بگاڑ لیں گے، فقیر ہوں جھولا اٹھائوں گا اور چلا جائوں گا ‘‘، ’’مجھے مخالفین جان سے مار دیں گے‘‘، ’’ میں گدھے کی طرح کام کرتا ہوں ‘‘، ’’ اگر قبرستان بنا ہے تو شمشان بھی چاہیے ‘‘، ’’ رمضان میں بجلی آتی ہے تو دیوالی پر بھی آنی چاہیے ‘‘۔ ان جیسے اور بھی کئی مجہول بیانات ہیں جو مخصوص علاقہ کیلئے مخصوص اوقات کے پس منظر میں دیئے گئے ہیں ، ساتھ یہ بھی ملاحظہ کرتے چلیں ’’ اقتدار میں آیا تو دودھ کی ندیاں بہا دوں گا‘‘ کتنے ایسے ہفوات ہیں کہ جن کا احاطہ دشوار ہے  جب ملک کا ایک وزیر اعظم لفظوں کا کاریگر ہو تو یقینا ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال افسانچہ ہی ہوگی، دفاعی قوتیں ناکارہ ہوکر دشمن کو دعوت دیں گی، تعلیم صفر ہوگی اور عوام تنگی دست و مفلوک الحال ہوں گے ؟ محض نوٹ بندی نے 150 خاندانوں کو تباہ کیا، مگر افسوس اسے ملک کا وزیر اعظم بدعنوانیوں کے خلاف قربانی سے تعبیر کررہا ہے۔  علاوہ ازیں مزدور و کسان کی زبوں حالی مختلف ہے ؟ جب ملک کا نوجوان طبقہ ایڑیاں رگڑ رہا ہو تو اس ملک کا مستقبل خوفناک ہی ہوگا ؟ 60 روپے کیلو ارہر کی دال کی قیمت پر احتجاجا نیم برہنہ رقص کرنے والے جب 150 روپے کیلو دال پر بسر و چشم راضی ہیں تو پھر اس ملک کی معیشت پر خط تنسیخ کھینچ دینا ملکی معیشت کے لیے کرم گستری ہوگی۔ اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی برادران وطن کی

اکثریت کا بی جے پی کے تئیں پریم کچھ اور عندیہ دے رہا ہے۔ اس موقع پر سیکولرازم کے ٹھیکداروں کو باہم مشورہ کے ذریعے اس لہر اور آندھی کو روکنی ہوگی نہیں تو ملک تقسیم کے دہانے پر پہنچ جائے گا اور شاید یہ تقسیم 1947  کی تقسیم سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی جہاں انسانی جانوں کا ضیاع تو ہوگا ہی ساتھ ہی ملک سینکڑوں سال پستی کی جانب چلا جائے گا۔ ہمیں یاد آرہا ہے جب 2014 کے لوک سبھا انتخابات ہونے والے تھے تو بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار موجودہ وزیراعظم مودی نے وعدوں کے پٹارے کھولے تھے اور ایسے پٹارے کھولے تھے کے عام وخاص سب اس جملہ باز کی جملہ گری کے شکار ہوگئے اور ملک میں پوری اکثریت سے بی جے پی نے اپنی حکومت بنائی۔

اس وقت کانگریس اور دیگر سیکولر پارٹیاں پوری طرح اس بہائو میں بہہ گئیں لیکن جو وعدہ اور جو وفا اس بازیگر نے کیے تھے اسے محض ’جملہ‘ بول کر بی جے پی صدر امیت شاہ نے ٹرخا دیا اور ملک کے سوا سو کروڑ عوام کیجذبات کے ساتھ گھنائونا مذاق کیا لیکن اب ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں کچھ ہی مرحلے باقی ہیں اور یہاں بھی وہی وعدے کیے جارہے ہیں اور ساتھ ہی ووٹ نہ دینے کی صورت میں وعیدیں بھی نازل ہورہی ہیں ۔ اور شاید اب تو شدت سے اس مسئلہ کو مرکزی حکومت اْٹھائے گی کہ اگر ہم غلط ہوتے تو ملک کی سب سے بڑی کارپوریشن میں اس طرح کامیاب نہ ہوتے لیکن ہم یوپی کے باشعور عوام سے کہناچاہتے ہیں کہ اگر ڈھائی سال میں آپ کو ’وکاس‘ حاصل ہوگیا ہو تو یقینا بی جے پی کو ووٹ دیں اگر نہیں تو ان ڈھائی سالوں میں آپ پر حکومتی پھٹکار، بے روزگاری اور معیشت کی بربادی کو یاد رکھتے ہوئے سیکولر ازم کادامن تھامیں اور انہیں کامیاب کریں محض جملہ بازیوں پر اعتماد نہ کریں ۔ بلکہ وزیر اعظم کے بقول میں تو ’گدھے کی طرح کام کرتا ہوں ‘ اپنے ووٹوں کی طاقت سے انہیں گھر کا نہ گھاٹ کر بناکردکھادیں تاکہ ا?پ کے اور ملک کے مستقبل کے لئے بہتر ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close