سیاست

جموں کشمیر میں جمہوری عمل کا آغاز ضروری

جاویدجمال الدین

حالیہ لوک سبھا انتخابات کے دوران برسراقتدار بی جے پی کی لیڈرشپ نے جموں کشمیر میں امن کے قیام کے لیے اپنے ہرممکن تعاون کا یقین دلایا تھا ،لیکن انتخابی نتائج کے تقریباً ایک ماہ گزرنے اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد مودی حکومت کی جانب سے کوئی حوصلہ افزاءاعلان نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس احساس ریاست میں چھ مہینے کے لیے صدرراج میں ایک آرڈننس کے ذریعہ توسیع کردی گئی ہے ،اپریل۔ مئی ،خصوصی طورپر ماہ رمضان میں امن وامان برقراررہنے کے بعد کئی مرتبہ جگہ جگہ تشدد کی خبریں موصول ہوتی رہی ہیں ، گزشتہ ہفتے کے دوران،شورش زدہ ریاست میں تشدد میں اضافہ دکھا ئی دے رہا ہے بلکہ ایک دم سے اس میں مبینہ اضافہ کئی طرح کہ خیالات پیداکرتا ہے ،تشدد کے بعد اچاناک چھ مہینے کے لیے صدرراج میں توسیع اس بات کی علامت ہے کہ مرکزی حکومت فی الحال ریاست میں سیاسی عمل کے حق میں نہیں ہے۔

جموں کشمیر جہاں تک حفاظتی دستوں کی سرگرمی اور کارکردگی کا سوال ہے ، سیکیورٹی فورسز نے جیش محمد کے ایک سرغنہ یا ’اہم آپریٹر‘ کو ہلاک کر نے میں حالیہ دنوں میں کامیابی حاصل کی ہے ،یہ وہی شخص ہے جس کی وین فروری میں پلوامہ میں سی آرپی ایف کے قافلہ پر حملے میں استعمال کی گئی تھی۔عجیب بات یہ ہے کہ ہماری سلامتی دستوں اورنیم فوجی دستوں کی بہتر کارکردگی کے باجود سیکورٹی کی صورتحال کمزور رہ جاتی ہے اور ان جنگجو حفاظتی دستوں اور شہریوں کواپنے حملوں میں نشانہ بنانے سے نہیں چوکتے ہیں ۔

مذکورہ حملوں کے بارے میں سرکاری مشنری کا دعوی ہے کہ ان حملوں کا سبب یہی ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے اس کی کوششوں کے نتیجے میں جنگجوکھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف سخت سلامتی کے خلاف کارروائی کرتے ہیں ،لیکن ان سب سے کے ساتھ ساتھ حکومت کو اگر نیک نیتی سے جموں کشمیر میں تشددکا خاتمہ کرکے بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو راہ راست پر لانا ہے تو انہیں حالیہ سیاسی صورتحال کو بدلتے ہوئے ریاست میں موجودہ پالیسی کا ازسرنوجائزہ لےنا ہوگا تاکہ ریاست کو قومی دھارے میں لانے کے ساتھ ساتھ اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔

مرکزمیں بی جے پی کی قیادت میں نریندرمودی حکومت کو عوام نے ایک زبردست موقعہ فراہم کیا،جس کا بھر پورفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ،مرکزی حکومت کو جموں کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور یہاں امن وامان قائم کرنے کے لیے ایک بار پھر دورخی پالیسی اختیار کرنی ہوگی اور بڑی سنجیدگی اور دانشمندی سے نقطہ نظر پر توجہ مرکوز کرنا ہوگاتاکہ دیر پاحل نکل سکے۔ یہ حقیقت ہے اوراس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کیو یہ جگ ظاہر ہے کہ پڑوسی ملک پاکستان میں خفیہ طورپرجنگجوکئی مقامی تنظیموں کے ہرممکن تعاون اور حمایت سے وادی میں مصیبت کا باعث بن رہے ہیں ۔

یہ بھی سچائی ہے اور اس سے منہ نہیں موڑا جاسکتا ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں ان شرپسند عناصرنے سرحد کے ساتھ ساتھ مقامی طورپر بھی انتہاپسندی کو بڑھانے کی پوری کوشش کی ہے ،جوکہ ایک پریشان رجحان ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کو بہکانے میں کوئی کسر نہیں چھوری گئی ہے بلکہ مذہبی انتہاپسندی کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔اور پہلے کے مقابلہ میں تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جوکہ خطرناک نوعیت کا ہے۔ اس کاسیدھا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو مضبوط اور سخت سلامتی نگرانی برقرار رکھنا پڑے گی اورحالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیز طرار انٹیلی جنس کی ضرورت ہوگی جوکہ جنگجوﺅں اور انتہاپسندوں کی سرگرمی پر پہلی نظررکھیں ۔اور تمام اداروں کے درمیان تال میل بھی ضروری ہے جوکہ وادی میں کام کرنے والی سیکیورٹی فورسز،جن میں فوج،نیم فوجی دستے اور مقامی پولیس کے درمیان زیادہ سے زیادہ آپسی تعاون ہوجوکہ ایک دوسرے پر یقین رکھتے ہیں ۔ جوکشمیری تشدد کا استعمال کرتے ہیں ان پر نشانہ بنانا اور انہیں راہ راست پہ لانے کی کوشش ہونا چاہئے ،اس درمیان عام طورپر ایک ایسی پالیسی تشکیل دی جائے اور موجودہ حالات میں یہ بہتر بھی ہو گا کہ ملک کی فوج کوسرحدوں پر توجہ دینے پرمرکوز کردیا جائے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کے حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ، جبکہ نیم فوجی دستوں اور ریاستی پولیس اندرونی افراتفری کی روک تھام پر توجہ دے ،خصوصی طورپر جنوبی کشمیر میں تشدد سے نمٹنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔

جموں کشمیر میں تشدد کو روکنے کے لیے سلامتی دستوں کو بھر پور طریقہ سے کام کرنے کے لیے انہیں کئی طرح کے اختیار بھی دیئے گئے ہیں ،اور انہیں اس بات کے لیے ہمارے جوان قابل ستائش ہیں جنہوں نے ملک کے اس تشددزدہ ریاست میں امن وامان بحال کرنے کے لیے ہرطرح کی کوشش کی اور تجربے بھی کیے ہیں ،لیکن مقامی لوگوں کو ہموارکرنے اور بیداری کے لیے رکے ہوئے سیاسی عمل کو پٹری پر لاناانتہائی ضروری ہے۔موجودہ حالات میں حکومت کو ریاست میں سیاسی حالات کو سنجیدگی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے، صرف ریاست کو اٹوٹ حصہ قراردینا اور اعلیٰ لیڈروں کے ساتھ ساتھ چھٹ بھیا لیڈروں کے بیان بھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ،اس لیے قومی اور علاقائی پارٹیوں کی لیڈرشپ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ،باربار صدرراج کا نافذ کرنا سیاسی عمل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ایک منتخب حکومت ہونے کے باوجود ہمیشہ امن کی رہنمائی نہیں کرسکتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقیت ہے کہ ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی جائز حکومت مسلسل استحکام کی ضمانت دیتی ہے۔

جموں کشمیر کو ان حالات میں صدراج سے زیادہ جمہوریت کی ضرورت ہے، اور کم از کم یہی پہلا قدم ہونا چاہئے اور بہتر یہی ہوگا کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے ریاست میں انتخابات کا انعقادکرایا جائے،اس سے ایک ایسا ماحول بن سکتا ہے کہ منتخب حکومت کسی بھی طرح مقامی لوگوں کی شکایتوں اور مسائل سے نمٹنے کے قابل ہو گی۔مرکز کی حمایت کے ساتھ ساتھ مقامی اور علاقائی حصول داروں کے ساتھ بھر تعاون میں مصروف ہونا لازمی ہے۔

 کشمیر سے متعلق اہم نظریاتی مسائل کو برقرار رکھنے کے لئے بھارتی جنتا پارٹی کو چاہئے کہ کشمیر میں حالات بہتر ہونے تک آئین کے آرٹیکل 35A یا آرٹیکل 370 پر سخت گیر بیانات سے گریز کیا جائے ویسے بھی انتخابات کا موسم نکل جانے کے بعد اس سلسلہ میں کم ہی بیان سامنے آرہے ہیں ،کیونکہ ایسی کوئی بھی کوشش اور ان آرئیکل کو منسوخ کرنے کے لیے کسی بھی اقدام کی وجہ سے کشمیر میں علاقائی سطح پر محاذ آرائی میں اضافہ ہی ہوگا۔حال میں ایک صحافی نے ملاقات میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ کشمیر کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ریاست سے ترقی سے محروم ہے ،جہاں ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں نمایاں ترقی نظرآتی ہے ،جموں کشمیر میں دوردورتک وہاں کچھ بھی نہیں نظرآتا ہے خستہ حال شاہراہیں اور اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو زبوں حالی نمایا ں ہے ،نہ مال ہے اور نہ ہی ملٹی پلکس۔ان پانچ برس میں کشمیرکے نوجوان تعلیمی ترقی سے بھی محروم رہ گئے ہیں اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔

نریندر مودی حکومت اپنی مضبوط عوامی حمایت کے ساتھ ملک کی سب سے زیادہ پریشان ریاست اور اس کے عوام کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے وہاں امن اور جمہوریت دونوں کو یقینی بنانے پر توجہ دینا چاہئے،تب ہی ”سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب کا وشواش۔“ پر صحیح معنوں میں عمل دکھائی دے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close