سیاست

جموں کشمیر کے بعد بہار میں غلطی سدھارنے کا وقت

اس بار جہاں بی جے پی کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا  ہے وہیں جنتا دل کے  بھی سمجھ میں یہ بات  آگئی  ہے  کہ اس نے غلط وقت میں بی جے پی کا ہاتھ تھاماہے اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ اس کی بھی لٹیا ڈوب سکتی ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

پچھلے چار سالوں میں بی جے پی  نے جو غلطیاں کی ہیں اب اس کی اصلاح کا وقت آگیا۔ اس مشق کی ابتداء جموں کشمیر سے ہو چکی ہے جہاں کھلے دل سے یہ بات تسلیم کی گئی کہ  محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے ساتھ حکومت بنانا ایک فاش غلطی تھی۔ اس غلطی کو اگر سدھارا نہیں جاتا تو بی جے پی کو  ۲۰۱۹؁  کے پارلیمانی انتخاب تین سیٹوں کا نقصان ہوجاتا۔ جموں کشمیر میں جملہ ۶ نشستیں ہیں ان میں سے ۳ کشمیر کی وادی،  ۲ جموں اور ایک لداخ میں ہے۔ ؁۲۰۱۴ کے اندر یہ ۶ نشستیں نصف نصف بی جے پی اور پی ڈی پی  کے درمیان تقسیم ہوگئیں۔ سرینگر سے کامیاب ہونے والے   پی ڈی پی کےرکن پارلیمان   طارق حمید نے؁۲۰۱۶ میں  استعفیٰ دے دیا اور ایک سال بعد ہونے والے انتخابات نے پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ دوستی کی یہ سزا ملی کہ اس نشست پر نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کامیاب ہوگئے۔ اننت ناگ کی سیٹ محبوبہ مفتی کے استعفیٰ سے خالی ہوئی لیکن پی ڈی پی اور بی جے پی وہاں پر حالات کی سنگینی کا بہانہ بنا کر  انتخاب ٹال دیا  ورنہ وہاں بھہ گورکھپور کی طرح منہ کی کھانی پڑتی۔ اس طرح این ڈی اے کے دوارکان پارلیمان کم ہوگئے۔ بی جے پی کو خوف محسوس ہوا کہ جو حشر اس کے شراکت دار کا کشمیر میں ہوا ہے وہی حال بی جے پی کا جموں اور لداخ میں ہوجائے گا ۔

جموں کشمیر کے صوبائی اقتدار کو اس امید میں بلی چڑھایا  گیا ۳ نشستوں کے نقصانات کو ٹالا جاسکے لیکن بہار میں تو این ڈی اے کو ۳۱ نشستیں حاصل ہوئی تھیں اور نتیش کمار کے ساتھ شراکت داری کے سبب ان پر ناکامی کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ اس لیے بی جے پی کی بھلائی اس میں ہے کہ بہار میں بھی اپنی نشستوں کو بچانے کے لیے  صوبائی حکومت  کی قربانی پیش کردے۔  بہار کے اندر کل ۴۰ نشستیں ہیں۔  ۲۰۱۴؁ کے اندر ان میں سے۲۲  توخود  بی جے پی نے جیت لی تھیں۔ اسی کے ساتھ ۶ رام ولاس پاسوان کی  ایل جی پی کو اور کشواہا کی  آر ایل ایس پی کو ۳ نشستیں ملی تھیں۔  باقیماندہ ۹ میں سے  لالو یادو کی آر جے ڈی کو ۴ اور کانگریس و جے ڈی یو کو ۲ سیٹیں ملی تھیں۔ ایک آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بی جے پی کے حامی جتن رام مانجھی کی   ہندوستان عوام  پارٹی این ڈی سے الگ ہو کر آر جے ڈی کے ساتھ جاچکی ہے اور نتیش کمار کی بدولت کشواہا اور پاسوان بھی بے چینی محسوس کررہے ہیں۔

نتیش کمار کی جے ڈی یو نے چونکہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اس لیے وہ  ایوان پارلیمان میں بھی بی جے پی سے زیادہ نشستوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جنتا دل کی جانب سے آئے دن دھمکیاں مل رہی ہیں کہ وہ این ڈی اے میں وہ سب سے زیادہ مقامات سے انتخاب لڑے گی۔ جے ڈی یو ترجمان سنجے سنگھ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر بی جے پی کو اتنا ہی شوق ہے تو وہ سبھی ۴۰ نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑا کردے۔ بہار کے اندر  اگر بی جے پی نتیش کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے پاسوان  اور کشواہا کو بلی کا بکرا بنانا ہوگا۔ اس کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے اس کی حالت دھوبی کے گدھے کی مانند ہوجائے جو گھر کا ہوتا ہے نہ گھاٹ کا۔ اسمبلی انتخاب میں جنتا دل  کی کامیابی آر جے ڈی اور کانگریس کی حمایت کے سبب تھی ورنہ گزشتہ پارلیمانی انتخاب میں جب اس نے اکیلے الیکش لڑا تھا تو اسے صرف ۲ نشستیں ملی تھیں جبکہ آر جے ڈی کو چار اور کانگریس کو ۲ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی  لیکن چونکہ بلیک میل کرکے بی جے پی نے انہیں این ڈی اے شامل کیا تھا اس لیے اب نتیش کمار کو بلیک میل کرنے کا موقع ملا ہے اور وہ اس کو نہیں گنوائیں گے۔

اس بار جہاں بی جے پی کو اپنی غلطی کا احساس ہورہا  ہے وہیں جنتا دل کے  بھی سمجھ میں یہ بات  آگئی  ہے  کہ اس نے غلط وقت میں بی جے پی کا ہاتھ تھاماہے اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ اس کی بھی لٹیا ڈوب سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوٹ بندی جیسے حماقت خیز فیصلے کی حمایت کرنے والے نتیش کمار نے اب اس پر تنقید شروع کردی ہے اور یوگا دن  کی سرکاری تقریبات میں عدم  شرکت سے اپنی ناراضگی ظاہر کردی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ قومی انتخاب سے قبل ایک اور قلابازی کھا کر پھر سے یو پی اے میں آنے کی کوشش کریں اس لیے کہ اس میں بی جے پی کی بھی بھلائی ہے لیکن اس کے لیے ایک اور صوبائی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ویسے نتیش کمار کے لیے اب پالہ بدلنا آسان نہیں ہے۔ اول تو پارلیمانی انتخاب میں انہیں آرجے ڈی سے نصف نشستوں پر کامیابی ملی اور کانگریس ان کے برابر تھی دوسرے اسمبلی میں بھی آر جے ڈی نے جے ڈی یو  سے زیادہ  سیٹوں پر کامیابی درج کرائی۔ ایسے میں اس کے لیے زیادہ  زیادہ مول بھاو کی گنجائش نہیں ہے۔ اس صورتحال  میں جتن کمار مانجھی کا بیان معقول نظر آتا ہے کہ نتیش کمار کو اسی شرط پر واپس لیا جائے گا کہ وہ تیجسوی یادو کی قیادت میں انتخاب لڑنے پر راضی ہوجائیں۔

کہاوت مشہور ہے کہ اونٹ کو اگر خیمے کے اندر لے آیا جائے تو اندر والے اہل خانہ کو باہر جانا پڑتا ہے۔ بی جے پی نے نتیش کمار کو اندر لاکر یہی غلطی کی ہے۔ اس غلطی کی قیمت اسے اپنے حلیفوں کو گنوا کر ادا کرنی پڑے گی یا تو اونٹ کو پھر سے نکال باہر کرنا پڑے گا لیکن وہ باہر جاتے جاتے خیمے کو گرا کر جائے گا۔ بہار کے اندر سشیل مودی اور نتیش کمار کی دوستی اونٹ اور گیدڑ جیسی ہے۔ پرانی حکایت ہے ایک اونٹ اور گیدڑ میں دوستی ہو گئی۔گیدڑ اونٹ سے بولا دریا کے دوسری طرف خربوزے کا کھیت ہے آؤ کھا کے آتے ہیں۔نتیش نے لالچ میں آکر سشیل کو اپنے اوپر بیٹھا لیا اور تیر کر دریا کے دوسری طرف لے گیا۔دونوں نے جی بھر کر خربوزے(رشوت ) کھائے۔جب ان کا پیٹ بھر گیا تو گیدڑ لگا زور زور سے بولنے۔اونٹ نے گھبرا کر کہا کہ بھائی چپ ہو جا کوئی سن لے گا تو گیدڑ بولا یار میری عادت ہے جب پیٹ بھر جاتا ہے تو شور مچاتا ہوں اور آؤں آؤں کرتا ہوں۔وہ پھر شور مچانے لگا۔

سشیل کا شور شرابہ  سن کے کھیت کا مالک یعنی امیت شاہ  آ گیا۔ گیدڑ تو بھاگ گیا اونٹ پکڑا گیا۔مالک نے اونٹ کی یعنی نتیش کمار  خوب پٹائی کی۔ انتخاب سے قبل سارا ہندوستان اس منظر کو دیکھے گا اور لطف اندوز ہوگا لیکن بہرحال کوشش یہ کی جائے گی نتیش کوڈرا دھمکا کر ساتھ رکھا جائے۔ انتخاب سے قبل تو  نتیش یہ سب برداشت کرلیں گے لیکن الیکشن کے دوران وہی کریں گے جو  کہانی کےاونٹ نے کیا  تھا۔  مار کھانے کے بعد  اونٹ دریا کے کنارے واپس پہنچا تو  گیدڑ وہاں پہلے سے کھڑا تھا۔اونٹ نے اسے چپ چاپ اوپر بیٹھا لیا اور تیرنے لگا۔جب وہ درمیان میں گیا تو اس نے ڈبکیاں لگانی شروع کر دیں۔گیدڑ ڈر کے بولا یہ کیا کر رہے ہو میں ڈوب جاؤں گا۔اونٹ بولا میری بھی عادت ہے جب میرا پیٹ بھرا ہوتا ہے تو ڈبکیاں لگاتا ہوں۔یہ کہہ کر اس نے ایک  بڑی ڈبکی لگائی اور گیدڑدریا میں  بہہ  گیا۔ اس طرح  قوی امید ہے کہ بابائے ابن الوقت نتیش کمار بیچ منجدھار میں سشیل مودی سمیت شاہ جی  کی  نیاّ ڈوبا دیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close