سیاست

جمہوریت: ایک طلسماتی دنیا

رمیض احمد تقی

 ملک میں روز بروز بڑھتی سیاسی بدعنوانی،بلکہ سیاسی دہشت گردی کے تناظر میں کیا لکھا جائے اور کیا پڑھا جائے،غرضیکہ کوئی ایسا موضوع اور عنوان نہیں جس پر ہر روز کچھ لکھا اور بولا نہیں جاتا،لیکن اس کے باوجود ہر روز نت نئے واقعات اور سانحات معرض وجود میں آتے ہی رہتے ہیں اورپھران واقعات کی موافقت یا مخالفت میں کہیے پورے ملک کے کونے کونے سے ہزاروں لوگ میدان میں اتر آتے ہیں۔ اس کے بعد پورے دن اور پوری رات نیوز چینلس اور سوشل سائٹس پر فریقین کے درمیان بڑے ہی گھمسان کا رن پڑتا ہے اور دوسرے دن کا سورج پھرایک نئے مسئلے کے ساتھ مشرقی اُفق سے طلوع ہوتا ہے اور اگلے چنددنوں تک پردۂ سیمیں پر اس نو وارد واقعے کی گھن گرج سنائی دیتی رہتی ہے،جس کے لیے ملک و ملت کی کئی شخصیات وفاداری اور غداری کا طمغہ لیے پردۂ سیمیں پر ظاہر ہوتی ہیں اور پھر ان کے اعتبار سے ان کے اپنے خیموں میں ان کی شاندار تکریم و تشجیع بھی کی جاتی ہے۔

گذشتہ چند مہینوں میں ایسی کئی ہستیاں سامنے آئیں، جو ایک ہی وقت میں دو مختلف انسانی جذبات کی حامل رہی ہیں ؛چنانچہ وہ اگر کسی فریق کی آنکھوں کا تارا بن کر چمکیں، تو اسی لمحہ میں وہ دوسرے فریق کی آنکھوں میں تنکے کی طرح چبھتی بھی رہیں۔ اگر کسی جماعت نے ان کی کارکردگیوں اور کرتوتوں پر ان کی خوب آؤ بھگت کی،تو اسی لمحے میں دوسری جماعت کے لوگ ان کے خلاف سراپا احتجاج بھی بنے رہے،سواگرہم بات کریں طلاق ثلاثہ بل میں فریق اور درخواست گذار عشرت جہاں کی تواس میں بھی آپ کو انہی دو مختلف انسانی جذبات واحساسات کا منظرمبینہ طور پر دیکھنے کو ملے گا؛کیوں کہThe Muslim women (Protection Rights On Marriage) Bill,2017  بنام طلاقِ ثلاثہ بل میں فریق بننے کے بعد جہاں عشرت جہاں بی جے پی اور طلاق ثلاثہ بل کی موافقت کرنے والے لوگوں کی نظروں میں ایک آئیڈیل اور نمونے کے طور پرسامنے آئی،تو اسی وقت اس معاملے میں اس کے تیئیں عام معتدل اور صحیح العقیدہ مسلم جماعتوں میں غم و غصہ کا اظہار بھی دیکھنے کو ملا،بلکہ کئی مسلم خواتین نے آگے بڑھ کر اس کی مخالفت میں صدائے احتجاج بلند کیااور کہا کہ عشرت جہاں جیسی عورتوں ہی کی ناپاک سیاست کی وجہ سے ہزاروں مسلم نوجوانوں کی زندگیاں سلاخوں کے پیچھے تباہ ہوتی رہی ہیں اوراب اگر یہ قانون پاس ہوگیا،تو اس قوم کے زیادہ تر نوجوان جیلوں میں ہی نظر آئیں گے،مگر عشرت جہاں اپنے اس مدعی سے پیچھے نہیں ہٹی اور لڑتی رہی،یا لڑائی جاتی رہی،بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس نے مودی جی اور بی جے پی کا دامن تھام لیا کہ عورتوں کے حقوق کی حصول یابی ان کے در کے سوا کہیں اور ممکن ہی نہیں۔ بی جے پی نے بھی امید سے کہیں زیادہ بڑے ہی گرم جوشی سے اس کا خیر مقدم کیا،گویابرسوں قبل بچھڑی ہوئی کوئی بیٹی دوبارا ہاتھ لگ گئی ہو۔ بی جے پی نے اس کی آمد پرریاستی سطح پر ایک استقبالیہ پروگرام منعقد کرنے کی پیشن گوئی کی،تاکہ اس کی طرح دوسری مظلوم اور مفلوک الحال مسلم خواتین کو بھی حوصلہ مل سکے۔

 عشرت جہاں کو کہاں تک کامیابی ملی،یا اس کی آڑ میں بی جے پی کہاں تک ملک کے عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہی،یہ ایک ا لگ موضوع ِ بحث ہے،تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس واقعے کے بعد عشرت جہاں کی شخصیت لوگوں کی نظروں میں کسی طلسماتی دنیا کی ٹوائے گرل کے طور پر توضرور ظاہر ہوگئی اورپھر ہفتوں اور مہینوں پردۂ سیمیں پراس کی آسیب زدہ کہانیاں دہرائی جاتی رہیں۔

  مغربی بنگال کے ایک غریب مزدور افرازل کو انتہائی وحشیانہ اور بہیمانہ طریقے سے قتل کرکے اس کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرنےوالا سمبھو لال بھی اپنے کئی رنگوں کے ساتھ ہفتوں سرخیوں میں جگمگاتا رہا۔ غریب اور مظلوم کی نگاہوں میں، وہ تو بہرحال ایک قاتل ہی ٹھہرا،تاہم کچھ لوگوں نے اس کو کرانتی کاری اور فدائین کے لقب سے بھی نوازااور پھر جیل سے اس کے الیکشن لڑنے،بلکہ کامیاب ہونے کی بھی تمنائیں جتائی گئیں۔ کون مرا؟کس کا گھر لُٹا؟کس کی بیوی بیوہ اور کس کے بچے یتیم ہوئے،اس سے پرے وہ اس دیش بھگتی جمہوریت کا راتوں رات سوپر اسٹار بن گیا۔

  اسی طرح کی ایک اور شخصیت آج کل شوسل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر بڑی تیزی سے وائرل ہورہی ہے۔ دراصل کیرل کی رہنے والی جمیدا اسلامی روایات کی چودہ سو سالہ قدیم تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کرتی نظرآرہی ہے۔ پیشے سے وہ ایک معلمہ ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ چودہ سو سال سے مسلم خواتین مسلسل مسلم مردوں کےظلم و ستم کی چکیوں میں پستی چلی آرہی ہیں، سو وہ سماجی اور جنسی عدم مساوات،بلکہ مردوں کے ذریعہ قائم کردہ تمام روایات کو ختم کرنا چاہتی ہے،تاکہ ہندوستان کی اس جمہوری فضا میں ہندوستان کی مسلم عورتیں امن و سکون کا سانس لے سکیں۔ جمیدا کا یہ بھی کہناہے کہ اسلام میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ صرف مرد ہی جمعہ کی نماز پڑھا سکتے ہیں، سواس نے بالفعل نماز پڑھا کر یہ ثابت کردیا کہ نماز پڑھانا اس کا بھی حق تھا، جس پر صدیوں سے مسلم مرد قابض تھے۔ چلو اس کی کوشش سے اتنا توصاف ہوگیا کہ جن لوگوں کو مردوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی کبھی توفیق نہیں ملی،انہوں نے بھی اللہ کے سامنے جمیدا کی امامت   میں سجدوں میں اپنا سر جھکالیا،لیکن اس کے برعکس اگر اس کی پوری ویڈیو کو غور سے دیکھیں، تو ایسامحسوس ہوتا کہ سرے ہی سے اس کو نماز کے بنیادی ارکان کا بھی علم نہیں ہے، نیز جو لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہیں ان کی شکلوں سے بھی ایسا نہیں لگتا کہ وہ مسلمان بھی ہیں ؛اللہ بہتر جانتا ہے!

   بہرحال آج کل جمیدا صاحبہ بھی بڑی تیزی سے سرخیوں میں چمکنے لگی ہیں اور ٹی وی چینلوں پر بحث و مباحثہ کا ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا ہے،جہاں کچھ لوگ اسے لعن طعن بھی کررہے ہیں، تو وہیں کچھ لوگ اس کو بھی طلاقِ ثلاثہ بل پر محمول کرکے یہ کہتے ہوئے نظرآ رہے ہیں، کہ واقعی اسلام میں عبادات کو لے کرعورتوں کے ساتھ بھید بھاؤ کیا گیا ہے،سو جمیدا اب اسلام کی ایک نئی اور سچھی تصویرلوگوں کے سامنے پیش کررہی ہے ؛اس لیے ہمیں اس کے حوصلے کو سلام کرنا چاہیے،گو وہ بھول جاتے ہیں کہ سناتن دھرم میں پروہت اور شنکر اچاریہ عورتیں نہیں ہوسکتیں، لیکن اسلام نے عورتوں کو مردوں کی امامت کی اجازت نہ دے کر ان کے ساتھ بھید بھاؤ کیا ہے!

  بہر کیف اس فہرست میں اب جو تازہ نام جڑا ہے،وہ کاس گنج فرقہ وارانہ فساد میں مہلوک چندن گپتاکا ہے۔ ملک میں کئی جگہ،بالخصوص اترپدیش کے کئی علاقوں میں اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کئی پروگرامز بھی منعقد کیے گئے۔ لوگوں کے ساتھ مل کر سیاسی نیتاؤں نے بھی اس کو ملک و ملت پر جان نچھاور کرنے والا عظیم مجاہد تصور کرتےہوئے اسے خراج عقیدت پیش کیا،حالانکہ اس کی حیثیت کسی شرانگیز فسادی سے زیادہ کچھ نہیں تھی،لیکن یہ جمہوریت ہے جہاں شایدپہلی مرتبہ فرقہ وارانہ فساد میں کسی کی جان گئی ہے،حالانکہ ملک کی آزادی کے بعد سے لے کر آج تک،جو ہزاروں کی تعداد میں فسادات ہوئے ہیں، جن میں مبینہ طور پر مسلمان اور مسلم علاقوں کو نشانہ بنا کر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے،عزت مآب خواتین کی عفت وعصمت کے قیمے بنائے گئے،شیر خوا بچوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا گیا اور پھر مسلم نوجوانوں ہی کو ان ناکردہ گناہ کی سزا ملی،لیکن پوری تاریخ میں کبھی کسی سیاسی قائدین نے ان فسادات میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے خون پر آنسو نہیں بہایا۔

قوم کے ان معماروں کی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش نہیں کیا؛ یہ تو بہت دور کی بات،آج تک کسی نے ان کے حق میں آواز بھی بلند نہیں کی،سو میں چندن کی ہلاکت پر آنسو بہانے والے دیش بھگتوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب اخلاق کو سنگسار کیا گیا،تواس وقت تمہاری انسانی حمیت کو کیا ہوا تھا؟جب جنید اپنے بھائی کی گود میں تڑپ رہا تھا،تب تمہاری انسانی ہمدردی کو کیا سانپ سونگھ گیا تھا؟اورجب پہلو خان کو زودوکوب کرکے ماردیا گیا،تب تم نے کیوں نہیں محفلیں سوگ منعقد کیا؟اللہ رے سناٹا آواز نہیں آتی! کتنی عجیب ہے یہ جمہوریت اور کتنے معصوم ہیں اس پر مر مٹنے والے لوگ! جب ان باتوں کو سوچتا ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ اس دیش کو کیا ہوگیا ہے؟ آخر اسی دیش میں تو روش کمار جیسا انصاف پسند صحافی بھی تو رہتا ہے۔ اسی سرزمین نے تو گاندھی جی، بھیم راؤ امبیڈکر اور بھگت سنگھ کو جنم دیا تھا،مگر تبھی گوڈسے،مونجے، ساورکر اور مودی جیسے انسان نما درندوں کا خیال آتاہے،تو بس طبیعت افسردہ ہوکر رہ جاتی ہے۔ کتنی عجیب یہ سیاست ہے کہ اس کو عشرت جہاں کا دکھ تو نظر آتاہے،مگر اس کو جسودابین،نجیب اورجنید کی ماں، اخلاق،پہلو خان اور افرازل کے بیواؤں اور ان کی طرح لاکھوں کروڑوں ماؤں بہنوں کے دکھ اور تکلیف کا کیوں نہیں احساس ہوتا؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close