سیاست

جهارکهنڈ گٹھ بندھن: ایک ماڈل

مسعود جاوید

بعض پولیٹیکل سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بهی ملک میں ایک تندرست جمہوری نظام کے لئے مضبوط اپوزیشن ضروری ہے۔ ہمارا روز مرہ کے مشاہدے بهی اس نظریہ کو ثابت کرتے ہیں۔  مضبوط اپوزیشن کی غیر موجودگی مقتدرہ پارٹی اور حکومت کو آمریت dictatorship اور مطلق العنانیت کی طرف لے جاتی ہے اس لئے کہ جمہوری نظام میں کیفیت quality نہیں کمیت quantity کی بنیاد پر حکومت بنتی ہے اور ان کی آراء کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون بنتے ہیں اور حکومت کی پالیسیاں طے کی جاتی ہیں۔ تاہم اپوزیشن کا کردار چیک اور کنٹرول کرنے کا ہوتا ہے مگر یہاں بھی اگر مضبوط اپوزیشن نہ ہو تو ووٹنگ میں اکثریت پر فیصلہ ہوجاتاہے اور اپوزیشن کی آواز دب جاتی ہے۔

ہندوستان میں امریکہ کی دو پارٹی نظام انتخاب اور ڈائریکٹ صدارتی نظام حکومت کے برعکس متعدد پارٹی نظام انتخاب ہے اس لئے متعدد چهوٹی بڑی  پارٹیاں انتخاب لڑتی ہیں اور ایسے میں نتیجہ اگر کسی ایک پارٹی کو بہت زیادہ اکثریت absolute majority حاصل ہوتی ہے تو اپوزیشن ظاہر ہے کمزور ہوتی ہے۔ اسی کمزوری کے ازالہ اور طاقتور اپوزیشن بننے کے لیے نظریاتی طور ہم خیال جماعتیں آپس میں سیٹ شیئرنگ کی بنیاد پر گٹھ بندھن ، آپسی اتحاد یا الائنس کرتی ہیں۔

پچهلے 2014 انتخابات میں ایک پارٹی کو واضح اکثریت 300+ ملی اور اپوزیشن کی کسی پارٹی کو اتنی سیٹیں بهی نہ ملیں کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کا مقام حاصل کر سکے۔

2019 میں مضبوط اپوزیشن نہیں بلکہ پائدار حکومت بنانے کے لیے ہم خیال پارٹیوں کا گٹھ بندھن اتحاد لازمی ہے۔ یہ دور الائنس کا ہے اس لئے کہ یہ دور مقامی پارٹیوں کا ہے۔ ان مقامی پارٹیوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں زمینی کام کرکے اپنا وجود منوایا ہے دوسری بات یہ ہے کہ  ریاستی پارٹیوں کی ذات برادی اعلیٰ ادنیٰ طبقات اور اکثریت و اقلیت کے موضوع پر اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں جو الیکشن میں باقی دیگر تمام مسائل پر حاوی ہوتی ہیں۔  اس لئے مقامی پارٹیوں کو نظر انداز کرکے حکومت کی تشکیل دینے یا مضبوط اپوزیشن بننے کے لئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ پچهلے کئی انتخابات میں کانگریس اپنی تاریخ اور ماضی کی کارکردگی اور اکثریتی حکومت کے زعم میں مقامی پارٹیوں کو قابل اعتناء نہیں سمجها تو دوسری جانب بعض اپوزیشن پارٹیاں 1992 کے بعد سے جانکنی کے عالم والی کانگریس پارٹی کو اہمیت دینے کو تیار نہیں تهیں۔ بہار میں گٹھ بندھن کے لئے گهت وشنید میں لالو پرساد یادو جی نے صرف چار سیٹ آفر کیا جو حقیقت حال کچھ بهی رہی ہو، کانگریس کے لیے اہانت آمیز پیشکش تهی۔

در اصل مقامی پارٹیوں کو یہ خدشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں بڑی مچهلی چهوٹی مچهلیوں کو نگل نہ لے۔ اور یہ خدشہ کوئی موہوم نہیں ہے۔ 29+ پارٹیوں کے گٹھ بندھن والی بی جے پی  نے مہاراشٹر خاص طور پر ممبئی اور اس کے متصل علاقوں میں سب سے زیادہ متحرک اور خاص طبقوں میں مقبول عام پارٹی شیو سینا اور ایم این ایس کو تقریباً صفر کردیا۔ اتر پردیش میں شاید یہی خدشہ اکهیلیش یادو میں لچک کے باوجود مایاوتی کو کانگریس سے اتحاد کرنے پر راضی ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی لئے مایاوتی کا یہ عذر کہ’ کانگریس والوں میں غرور اکڑ اور اہنکار کی وجہ سے اس پارٹی سے اتحاد کے حق میں نہیں ہوں’  بہت معقول نظر نہیں آتا خاص طور ہر جب ہم اس غرور کو اس گیسٹ ہاؤس حادثہ سے موازنہ کرتے ہیں جس میں مایاوتی کی جان پر حملہ اور نہایت ہی گھناؤنا سلوک کیا گیا تها اور دسیوں سال تک اس شب خوں کا تذکرہ سنتے ہی مایاوتی کا چہرہ سرخ اور ملائم سنگھ  کے خلاف شدید نفرت ٹپکتی تهی۔  اس لئے میرے خیال میں ذاتی نفرت یا کانگریس کے رویہ میں غرور سے کہیں زیادہ غالباً انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ اتر پردیش میں کانگریس کے مضبوط ہونے سے کہیں بی ایس پی کا اقلیت خاص طور پر دلت ووٹ بی ایس پی اور کانگریس میں بٹ نہ جائے اور پرندے کاشی رام کے لگائے ہوئے درخت جو اب کافی مضبوط اور بڑا ہو چکا ہے اس سے اڑ کر دوسری پارٹیوں خاص طور پر کانگریس کے درخت پر نہ چلا جائے جو با اثر بی ایس پی سے  پہلے ان پرندوں کا جابا پہچانا آشیانہ ہوا کرتا تها۔

کچھ ایسے ہی خدشات  دہلی میں کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے اتحاد میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بہار میں شاید یہ رکاوٹ نہ بنے۔ لیکن 14 سیٹوں والی ریاست جهارکهنڈ،  جس کی ایک تہائی آبادی قبائلی ہے، سے جمہوری نظام سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک امید افزا خبر  ہے  کہ کانگریس اور تین مقامی پارٹیوں کا اتحاد ہوا ہے جس میں  بڑی اور مقامی پارٹیوں کی اپنی اپنی مرکزی اور ریاستی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے ایک ایسے فارمولہ پر اتفاق ہوا ہے جس سے باہمی توانائی برقرار رہے گی۔ فارمولہ یہ ہے کہ لوک سبها کے 14 سیٹوں میں سے 7 سیٹ کانگریس ، 4 سیٹ جهارکهنڈ مکتی مورچہ،  2 سیٹ جهارکهنڈ وکاس مورچہ اور 1 ایک سیٹ پر راشٹریہ جنتا دل الیکشن لڑے گی جبکہ اسمبلی انتخابات جو کہ 2019 میں ہونے والے ہیں،  میں مذکورہ بالا ریاستی جماعتوں کا شیئر زیادہ رہے گا اور کانگریس کا ان کی بہ نسبت کم۔ اس فارمولہ سے اس کا بهی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ راہل گاندھی کا سیاسی شعور پہلے کی بہ نسبت اب بہت ہختہ ہو گیا ہے اور دوسری بات یہ بهی کہ شاید ان کے ارد گرد اولڈ گارڈس اور منافقین ٹولے کے افراد کم ہیں۔ گٹھ بندھن کا یہ فارمولہ زیادہ پائدار ثابت ہو سکتا ہے اس لئے کہ مرکز اور ملکی مسائل سے زیادہ تر تعلق بڑی پارٹیوں کو ہی ہوتا ہے جبکہ ریاستی پارٹیاں بنیادی طور پر مقامی مسائل ، مقامی قیادت اختیارات اور مقامی اقتدار پر مرتکز ہوتی ہیں۔

اس گٹھ بندھن سے یہ امید کی جاتی ہے کہ 2004 کی تاریخ دہرائی جائے گی جب گٹھ بندھن نے 13 اور بی جے پی کو محض ایک سیٹ پر کامیابی حاصل ہوئی تهی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close