سیاستہندوستان

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

حفیظ نعمانی

فیصلہ تو مودی کا بینہ کا لال بتی والا بھی اتنا ہی بڑا تھا کہ ہر زبان اور قلم کئی دن اس سے کھیلتے رہتے لیکن بی جے پی کے بڑے بڑے 12 کلغی داروں کی گردن جھکے رکھنا اتنی بڑی بات تھی کہ لال بتی کی روشنی اس میں دب کر رہ گئی۔ یہ بات بہرحال کہی جائے گی کہ وی آئی پی کلچر پر پہلا حملہ کجریوال نے ہی کیا اور انھوں نے پہلے ہی دن اپنے سب ساتھیوں کی طرف سے کہا کہ بے ضرورت سرکاری مراعات سے پرہیز کیا جائے گا اور کسی کی گاڑی میں لال بتی نہیں لگے گی۔ کل ہی یہ بات بھی ذکر میں آئی کہ سپریم کورٹ نے پہلے بھی یہ مشورہ دیا تھا لیکن منموہن سرکار اسے تین سال دبائے بیٹھی رہی اور اس کے بعد وہ ختم ہوگئی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ غلامی کی یہ ذہنیت کانگریس کی ہی سنت ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ کانگریس نے ہی انگریز و! ہندوستان چھوڑو کا نعرہ دیا اور جب انگریز چھوڑ کر جانے لگے تو سب گانے لگے کہ:

 ابھی نہ جائو چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں

مائونٹ بیٹن کو گورنر جنرل بنادیا اور لیڈی مائونٹ بیٹن کو ایک کمیشن کا چیئر پرسن اور اس کے بعد ان کی جتنی لعنتیں تھیں ان سب کو گلے کا ہار بنایا اور اب تک ان سے نجات نہیں ملی ہے۔

حکومت صرف لال بتی پر ہی نہ رُکے بلکہ یہ جو ہزاروں پولیس والے جن کے سپرد ملک کی اور شہریوں کی حفاظت ہے وہ وزیروں اور ممبروں کی حفاظت پر لگے ہوئے ہیں ۔ ہر وزیر اعلیٰ اور حد تو یہ ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ کی حفاظت کے لیے بھی کمانڈو لگائے گئے ہیں ۔ اترپردیش کے سنیاسی وزیر اعلیٰ جن کا کوئی دشمن نہیں ہے ان کی حفاظت پر اتنے سپاہی لگائے گئے ہیں جتنے ایک تحصیل میں بھی نہیں ہوں گے۔ کم از کم ہر سابق وزیر اعلیٰ سے تو کہہ دیا جائے کہ اگر اب بھی جان کو خطرہ ہے تو سیاست چھوڑو اور گھر بیٹھو۔ ان کے علاوہ قصر صدارت کے اخراجات برطانیہ کے قصر بکنگم اور امریکہ کے وہائٹ ہائوس سے بھی زیادہ ہونے کا کیا تُک ہے؟ جو صدر پانچ برس ایک تقریر بھی اپنی نہ کرسکے اور کوئی فیصلہ اپنا نہ لے اس کے اوپر کروڑوں روپے خرچ کرنا عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا ہے۔ یہ سب جواہر لال نے گوری چمڑی والوں سے لیا تھا۔ اگر اسے وزیروں کی کالونی بنانے سے تکلیف ہوتی ہے تو اسے عوام کے لیے ٹکٹ لگا کر دیکھنے کی چیز بنادیا جائے اور ایک بہت اچھا آرام دہ بنگلیہ بنا کر صدر کو اس میں رکھ دیا جائے۔ اور وہ ساری انگریزی لعنتیں جو حلف برداری یا بجٹ اجلاس کو خطاب کرنے کے لیے آتے وقت دکھائی جاتی ہیں انہیں ختم کردیا جائے اور ایک بڑی گاڑی میں صدر آئیں اور حکومت کی لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر چلے جائیں ۔

پارلیمنٹ کے ممبروں کے لیے بھی دہلی میں ایک مستقل گھر کی کیا ضرورت ہے؟ ہم نے دیکھا ہے کہ ابتدا میں پارلیمنٹ کے ممبروں کے لیے ہوٹلوں میں سہولت تھی۔ وہ آتے تھے ہوٹل میں قیام کرتے تھے اور اجلاس ختم ہونے کے بعد اپنا کام پورا ہونے کے بعد واپس چلے جاتے تھے۔ اب ہر ممبر حکومت کے داماد کی طرح مکان پر قبضہ کئے بیٹھا ہے اور الیکشن ہارنے کے بعد خالی کرنا نہیں چاہتا۔ مفت بجلی کے ساتھ بے رحمی کا یہ حال ہے کہ ہر جگہ اے سی لگے ہیں اور ہر اے سی خالی کمرہ میں بھی چل رہا ہے جبکہ آسان بات تھی کہ جسے مکان دیا جائے اسے بجلی کے یونٹ الاٹ کیے جائیں کہ اتنا اس کا حق ہے ان کے علاوہ ممبر کو اپنی جیب سے پیسے دینے پڑیں گے۔

حکمراں پارٹی کا ہر ممبر وہ گدھا ہو یا گھوڑا وزیر بننا چاہتا ہے اور حکومت کی یہ کمزور رگ ہے کہ جسے وزیر نہ بنائو اس کے اس لیے نخرے اٹھائو کہ کہیں پارٹی چھوڑ کر نہ بھاگ جائے۔ وی آئی پی کلچر صرف لال بتی کو ہی نہیں کہا جاتا وہ تمام عیاشیاں اور منہ بھرائی جو شیوسینا ایم پی گائیکواڑ کے معاملہ ممں دیکھی وہ وی آئی پیکلچر ہے۔اگر کوئی ایم پی ہوگیا تو وہ مرکزی حکومت کے تمام شعبوں کا آقا ہوجاتا ہے۔ ہم نے ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ بھی ریل کا سفر کیا ہے اور وزیروں کے ساتھ بھی۔ وزیر کو اگر ضرورت پڑی تو ٹی ٹی کو بلوانا پڑا ہے اور پارلیمنٹ کا ممبر جس بوگی میں سفر کررہا ہے اس میں جس ٹی ٹی کی ڈیوٹی ہے وہ غلام کی طرح ہر بڑے اسٹیشن پر دروازہ پر آتا ہے کہ سر کوئی چیز لانی تو نہیں ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی سے ہم جیسے لوگوں کو بھی امید تھی کہ وہ ہر اس بات کو ختم کردیں گے جو انگریز چھوڑ گئے ہیں ۔ انگریزوں نے جو قانون 1860میں یا اس کے بعد بنائے تھے وہ اب تک کیوں ہیں ؟ پولیس مینول میں ان کو اتنی چھوٹ ہے کہ وہ کچھ بھی کریں ان سے باز پرس نہیں ہوگی۔ یا اگر عدالت نے کسی کو پولیس کے کہنے سے جیل بھیج دیا ہے تو عدالت پولیس سے معلوم نہیں کرے گی کہ ثبوت کہاں ہیں ؟ اور 90دن میں چارج شیٹ دینے کا قانون موجود ہے لیکن جسے جان بوجھ کر پریشان کرنا ہو اس پر کوئی خصوصی دفعہ لگا دینا اور پھر برسوں خبر نہ لینا یہ صرف انگریزوں کا قانون تھا جو غلاموں کے لیے تھا۔

جن لوگوں نے ایمرجنسی میں 19مہینے جیل میں کاٹے تھے وہ سب حکومت میں ہیں اور کسی ایک کے منہ سے آواز نہیں نکلتی کہ کسی کے خلاف خصوصی دفعات نہیں لگائی جائیں گی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں جس پر شبہ ہوتا ہے اس کی جاسوسی کی جاتی ہے اگر الزام غلط ہے اور ثبوت مل جاتا ہے تب گرفتار کیا جاتا ہے۔ یہ ہماراپھٹیچر ملک ہے جس میں گرفتار پہلے کیا جاتا ہے ثبوت بعد میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ ہم نے سعودی عرب میں دیکھا تھا کہ کسی پولیس والے کے ہاتھ میں لاٹھی نہیں ہوتی۔ یورپ اور امریکہ میں بھی یہی طریقہ ہے تو 70 سال کی آزادی کے بعدہم پھر وہیں کیوں کھڑے ہیں جہاں انگریزوں نے کھڑا کیا تھا؟

اگر وزیر یہ ہمت نہیں کرتے تو ممبروں کو کھل کر سامنے آنا چاہیے یا پھر کسی کو جے پرکاش بن کر کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ حکومت، حکمراں اور حکم کی اصطلاحیں معمولی آدمی کا بھی دماغ خراب کردیتی ہیں ۔ضرورت اس کی ہے کہ ایک کمیٹی کسی انا ہزارے جیسے سادے گاندھی وادی کی نگرانی میں قائم کی جائے اور وہ حکومت کو عوامی ادارہ بنانے کی تجویز پیش کرے۔ یہ وہ سنت ہے کہ جس کی وجہ سے اقتدار اور حزب مخالف کے بجائے دو دشمن ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور جب تک یہ نہ ہو کم از کم وزیر اعظم کو پارٹی لیڈر بننے سے روکا جائے وہ الیکشن سے پہلے جو کہتا ہے کہ میں الیکشن کے زمانہ میں لنگوٹ باندھ کر منچ پر ڈنڈ نہ کریں ۔ اس لیے کہ پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور نہ وہ کسی کے دشمن ہیں نہ کوئی ان کا دشمن۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close