سیاستہندوستان

جو نوکر کو بگاڑے گا وہ خود کل پچھتائے گا

حفیظ نعمانی

دہلی کی نازک حکومت اور مرکز کی دیوقامت حکومت کے درمیان تنازعہ اس وقت کا نہیں ہے جب نریندر مودی صاحب وزیراعلیٰ تھے بلکہ اس وقت کا ہے جب وہ 280 سیٹیں جیت کر ایک مضبوط حکومت بنا چکے تھے اور پورے طور پر ہریانہ کو فتح کرچکے تھے اور بڑی حد تک مہاراشٹر میں پاؤں جما چکے تھے۔ 2014 ء کے لوک سبھا الیکشن کے بعد ہریانہ اور مہاراشٹر فتح کرکے وہ دہلی آئے تو اسے ایک کھیل سمجھا جہاں دس سال کی منموہن حکومت کی سرپرستی میں پندرہ سال سے مسز شیلا دکشت راج کررہی تھیں۔ مودی جی نے سمجھا تھا کہ وہ دکشت حکومت کو پھونکوں سے اُڑا دیں گے۔ انہوں نے جب سیاست کی دُکان لگائی اور امت شاہ کو ایک بہت بڑا صندوق دے کر بٹھایا تو وہ منظر سب کو یاد ہوگا کہ اچھے اچھے سیاسی گرگے بی جے پی کے سامنے سر جھکانے آرہے تھے اور امت شاہ ان کے گلے میں بھگوا غلامی کا پٹکا ڈال کر ایک بنڈل دے رہے تھے۔

دہلی میں اروند کجریوال انا ہزارے کی فوج کے ایک باغی کمانڈر دہلی میں پاؤں جما چکے تھے اور وہ کانگریس یعنی دہلی کی حکومت سے مقابلہ کررہے تھے۔ ان کے سامنے مودی جی یا بی جے پی نہیں تھی وہ ہر تقریر میں شیلاجی کو نشانہ بنا رہے تھے اور انہوں نے شیلاجی سے ہی مقابلہ کی ٹھانی تھی اور جب ایک اہم سیاسی لیڈر نے یہ معلوم کیا کہ اگر آپ ہار گئے تو آپ کا کیا ہوگا؟ تو اس کے جواب میں کجریوال نے کہا تھا کہ یہ میرے سوچنے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ شیلاجی کو سوچنا چاہئے کہ وہ ہار گئیں تو ان کا کیا ہوگا؟ اور جب نتیجہ آیا تو ہندوستان کی سیاسی دنیا حیران رہ گئی کہ شیلاجی اپنی پارٹی کے ساتھ صاف ہوچکی تھیں اور وہ مودی جی جو آندھی کی طرح ملک پر چھائے ہوئے تھے صرف تین سیٹیں لئے بیٹھے تھے اور اس سے زیادہ حیران تھے جتنی حیران سونیا جی 44 سیٹیں لے کر بھی نہیں ہوئی تھیں۔

بات مودی جی کی نہیں ہمارا بھی اگر یہ حشر ہوتا ہم بھی نہ جانے کیا کر بیٹھتے۔ مودی جی کو معلوم تھا کہ شیلا دکشت ہوں یا کوئی اور دہلی کی آدھی حکومت اسے ملے گی اور آدھی میری مٹھی میں رہے گی۔ شیلاجی نے الیکشن سے پہلے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ صاحب کو بنا دیا تھا وہ اسوقت جامعہ ملیہ کے وائس چانسلر تھے شیلا جی نے انہیں یہ سوچ کر بنایا تھا کہ انہیں مسلمان ووٹ مل جائیں گے۔ اور کانگریس کا صفایا ہونے کے بعد مودی جی نے انہیں اس لئے رکھا کہ ان پر کوئی الزام نہ آئے۔ وہ جانتے تھے کہ بولی تو ان کو وہی بولنا ہے جو ہم بتائیں گے۔

جنگ صاحب نے کجریوال کو خوب خوب رلایا۔ پھر وہ خود ہی چلے گئے اور جو صاحب ان کی جگہ آئے انہیں بتانے کی ضرورت نہیں تھی کہ انہیں کیوں لایا گیا ہے؟ انہوں نے کجریوال کو اور زیادہ پریشان کیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ کجریوال بدنام ہوجائیں اور دوبارہ حکومت ان کو نہ ملے۔ چار مہینے ہوئے کہ چیف سکریٹری نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ بعد میں تمام آئی اے ایس افسروں نے ہڑتال کردی اور کجریوال کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک گیا اور جو فیصلہ ہوا اس کا حاصل یہ بتایا جارہا ہے کہ حکومت کے تین شعبے ایل جی کے پاس رہیں گے اور پورا انتظام منتخب حکومت کرے گی۔

وزیراعظم پوری طرح پردے میں ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ سب کچھ وہی ہیں وہ نہیں چاہتے کہ عام آدمی پارٹی کے تیز طرار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ باصلاحیت نوجوان دہلی کو ایسا کردیں کہ عوام پھر دہلی ان کے سپرد کردیں۔ انہوں نے تین سال سے زیادہ برباد کردیئے اور وہ اتنا وقت برباد کرنا چاہ رہے ہیں کہ کجریوال دہلی کو چاند نگری نہ بنا سکیں اور یہ نہیں سوچ رہے کہ جن عوام نے عام آدمی پارٹی کو 77 سیٹیں دی تھیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ کون کیا ہے اور کیا کررہا ہے؟ اور وقت آنے پر وہ ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسا فیصلہ کریں کہ وہ 2015 ء سے بھی زیادہ عبرت ناک ہو۔ وزیراعظم کہنے کے لئے اپنے بارے میں جو چاہیں کہیں لیکن وہ پورے ملک کے ڈکٹیٹر ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ہوں یا صدر محترم ہوں یا نائب صدر کاغذ پر کوئی ان کا ماتحت نہیں ہے لیکن حقیقت میں سب ان کے ماتحت ہیں۔ حیرت اس پر ہے کہ ایک اتنی چھوٹی سی حکومت جو پوری حکومت بھی نہیں ہے وہ ان کے دل کی پھانس بنی ہوئی ہے۔ اور صرف اس لئے کہ کجریوال بدنام اور ناکام ہوجائے وہ کبھی چیف الیکشن کمشنر سے کجریوال کے 20 ممبروں کو داغی بنوا دیتے ہیں اور پھر عدالت سے وہ چیف الیکشن کمشنر اور صدر جمہوریہ کو رسوا کرادیتے ہیں۔ کبھی آئی اے ایس افسروں سے مقدمے قائم کرادیتے ہیں کبھی ان سے ہڑتال کرادیتے ہیں اور پوری دہلی کے تعلیم یافتہ ووٹر دیکھ رہے ہیں کہ پتنگ کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔

ایک اتنے بڑے ملک کے وزیراعظم کیلئے اگر دہلی کی آدھی حکومت سر کا درد بنی ہوئی ہے تو وہ اپنے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے تباہ کن نتائج کا 2019 ء میں کیسے سامنا کریں گے؟ کیا یہ اچھا نہ ہوتا کہ وہ ایل جی یا آئی اے ایس افسروں سے کہلا دیتے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہتھیار اسلحہ خانے میں رکھ دو اور قلم پکڑلو۔ وزیراعظم خود سوچیں کہ کیا اب بھی کجریوال سے لڑنے سے ان کا زیادہ نقصان نہیں ہوگا؟ کیا وہ مانتے ہیں کہ کوئی حکومت بغیر افسروں کے چل سکتی ہے اگر ہاں تو خود چلاکر دکھادیں۔ وہ خود درجنوں افسروں سے کام لے رہے ہیں کیا وہ ان کی خود سری برداشت کرسکتے ہیں ؟ جو آئی اے ایس آج دہلی میں ہیں کل وہ لکھنؤ بھی آسکتے ہیں اگر ان کے منھ کو خون لگ گیا اور لکھنؤ آکر انہوں نے یوگی صاحب کو رلایا تو کیا ہوگا؟ مودی جی بڑے ہیں انہیں اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ نوکر جب تک نوکر ہے فرماں برداری کرے ورنہ ملک کی گاڑی نہیں چلے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close