سیاست

جینا ہے تو لڑنا سیکھیں!

احساس نایاب

 کچھ قصے کہانیاں اتنی سبق آموز ہوتی ہیں کہ انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں اور بہت کچھ سکھا بھی جاتی ہیں اسی طرح کی ایک کہانی آج صبح ہم بھی سُنی جس میں مسلمانوں کے موجودہ حالات کی عکاسی تھی جس کے مدنظر آپ سبھی کے ساتھ شئر کرنا ہم نے ضروری سمجھا.

 کہانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جب گِدھوں کا ایک بڑا سا جھنڈ کھانے کی تلاش میں اُڑتا ہوا ایک ٹاپو پر پہنچتا ہے جہاں ڈھیر ساری مچھلیاں اور چھوٹے، کمزور جانوروں کی بھرمار تھی اور تو اور وہاں پہ کوئی جنگلی جانور بھی نہیں تھے جس سے انہیں خطرہ محسوس ہو .

یہ دیکھ کر سبھی گِدھ بہت خوش ہوگئے اور سبھی نے وہیں پہ رہنے کا فیصلا کرلیا.

وقت یونہی گذرتا جارہا تھا کسی بات کی فکر نہ تھی، زندگی بڑے ہی مزے و آرام سے گزر رہی تھی

لیکن ایک دن اچانک بزرگ گِدھ کو احساس ہوا کہ اس ٹاپو پہ آنے کے بعد سارے نوجوان گدھ سُست، آلسی ہوچکے ہیں آرام دہ زندگی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اپنی حقیقی پہچان کھو کر بزدل اور کمزور ہوتے جارہے ہیں نہ ان میں شکار کرنے کی صلاحیت بچی ہے نہ ہی یہ اڑان بھرنے کے قابل ہیں بس مرغیوں کی طرح زمین پہ چلتے پھرتے آسان غذا چگنے کے عادی بن گئے ہیں.

 جیسے ہی اس بات کا احساس ہوا بزرگ گدھ مستقبل کو لے کر فکرمند ہوگیا وہ پریشانی کی حالت میں تمام نوجوان گِدھوں کو بلا کر سمجھانے لگا "کہ ابھی ہمیں خود کو بدلنا ہوگا اپنے اس کمفرٹ زون آرام دہ زندگی سے باہر نکل کر حقیقی دنیا میں اپنی حقیقی پہچان کو واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی ہوگی ورنہ مستقبل میں کوئی بھی ناگہانی آفت درپیش آگئی تو ہم اُس کا مقابلہ نہیں کرپائینگے. اس لئے ہماری بہتری اسی میں ہے کہ ہم واپس اپنی پرانی جگہ لوٹ چلتے ہیں وہاں پہ ہم جدوجہد کے ساتھ اپنی حقیقی زندگی جئیں گے جس سے ہم دوبارہ مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بن سکتے ہیں ۔

بزرگ گدھ کی بات سن کر سارے نوجوان گدھ اُس کا مذاق اڑانے لگے اُس پہ لعن طعن کرتے ہوئے اُس کی رائے کو سرے سے نکار دیا گیا .

لیکن بزرگ گدھ سبھی کی مخالفت کے باوجود اپنے فیصلے پہ اٹل تھا……..

وہ ٹاپو کو چھوڑ کر اپنی پرانی جگہ پہ واپس لوٹ آیا.

کئی دن گذرنے کے بعد ایک دن بزرگ گدھ کو شدت سے اپنے ساتھیوں کی یاد آنے لگی تو وہ ملاقات کی نیت سے ٹاپو ہر پہنچا لیکن آج وہاں کا سارا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا سارا ٹاپو لہولہان ہوچکا تھا، نوجوان گدھ زخمی حالت میں خون سے تربتر زمین پہ پڑے کررا رہے تھے اور کئی جان بحق ہوچکے تھے. اس منظر کو دیکھ بزرگ گدھ ہکا بکا پریشان ہوکر زخمی گدھوں سے وجہ دریافت کرنے لگا تو پتہ چلا کہ دو دن پہلے ٹاپو کے پاس ایک جہاز آکر رکا اُس میں سے کئی جنگلی کتوں کو ٹاپو پہ چھوڑا گیا، پہلے تو چنگلی کُتوں نے ڈر کر گدھوں پہ حملہ نہیں کیا لیکن جب انہیں احساس ہوا کہ ان گدھوں میں گدھ والی کوئی صلاحیت صفات نہیں بچی کے وہ اپنی دفا کے لئے لڑسکیں یا اُڑان بھر سکیں تو وہ ایک کہ بعد ایک تمام گدھوں پہ حملہ آور ہوگئے اور سبھی گِدھوں کو زیرِزمین کردیا.

 اُس وقت ہمیں یہ احساس ہوا کہ خطروں سے گھبراکر بزدلی والی آرام دہ زندگی کا انتخاب کرنا ہماری سب سے بڑی بیوقوفی تھی …………

آج مسلمانوں کا حال ہوبہو ان بزدل آلسی گدھوں سا ہوگیا ہے.

ایک دور تھا جب ہماری پہچان محمد بن قاسم، صلاحدین ایوبی و ٹیپوسلطان جیسے جنگجو سپاہیوں سے کی جاتی تھی جن کی فتح کے ڈنکے ساری دنیا میں بج رہے تھے.

 جن کی بہادری، دلیری عدل و انصاف کے قصے دشمنان اسلام کی زبانوں پر تھے آج وہی مسلمان اپنے حق و انصاف کے خاطر اوروں کے محتاج ہیں، اپنی اصل پہچان کھو کر زمین پہ رینگنے والے بنا ریڈھ کی ہڈی کے جاندار بن چکے ہیں اور ہماری اس بزدلی کی وجہ سے دشمن کبھی ہمارے گھروں میں گھس کر ہماری باحیا پردی نشین بہنوں کی عزتیں پامال کررہے ہیں تو کبھی 8 سالہ عظیم اور آصفہ جیسے معصوم  بچوں کو روندھ رہے ہیں تو کبھی گلیوں، چوراہوں پہ ہمارے بزرگوں کی داڑھیاں نوچی جارہی ہیں .

کہیں کسی پہلو خان و جنید کو جانور کے نام پہ قتل کیا جارہا ہے تو کہیں بےگناہ افرزول کو زندہ آگ میں جلایا جارہا ہے .

 دن بہ دن ان دہشتگرد سنگھیوں کے حوصلے اتنے بلند ہوچکے ہیں کہ اب یہ وندے ماترم اور جئے شری رام و جئے ہنومان کے نعرے لگاتے ہوئے کسی پر بھی جنگلی کتوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں اور تبریز انصاری، ثنااللہ جیسے ناجانے کتنے ہی بےگناہ نوجوانوں کو تڑپا تڑپا کر قتل کیا جارہا ہے.

اُس پہ ستم ظریفی تو دیکھیں مظلوم ہونے کے باوجود مسلم نوجوانوں کو ہی گنہگار ٹہرا کر کھٹکھڑے میں کھڑا کیا جاتا ہے انصاف کا مطالبہ کرنے پہ گرفتار کرکے سالوں سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جاتا ہے یا پولس کسٹڈی میں ان کا جھوٹا اینکاؤنٹر کردیا جاتا ہے اور اس ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے، سنگھیوں کے آگے للکارنے والے چند مٹھی بھر بیباک صحافیوں اور مفتی رئیس احمد قاسمی جیسے رہنماؤں کی آواز کو خود ہمارے اپنے ہی دبانے کی کوشش کررہے ہیں یہ کہہ کر کہ ملک میں انتشار پھیلنے، نفرت کی آگ بھڑکنے کا خدشہ ہے

آج ہمارا ان سبھی امن کا پیغام دینے والے امن دھوتوں سے سوال ہے

آج ہندوستان میں ایسا کونسا علاقہ بچا ہے یا کونسی جگہ بچی ہے جہاں مسلمانوں پہ امن پیار محبت کے پھول کھل رہے ہوں؟ ایسی کونسی جگہ ہے جہاں مسلمانوں و اقلیتوں پہ تشدد نہ کیا جارہا ہو ؟

اُن کے حقوق سلب نہ کئے جارہے ہوں ؟

 دن دہاڑے کھُلے عام مسلم نوجوانوں کا نرسنگھار نہ ہورہا ہو ؟؟

بلکہ آشرموں سے لے کر مندروں میں تک عورتوں، بچیوں کے ساتھ درندگی کا ننگا ناچ کھیلا جارہا ہے، بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے.

ایسے میں کس امن کس اتحاد اور کونسے حسن سلوک کی بات کی جارہی ہے ؟

رہنے ہی دی جئیے اگر حسن سلوک، نام اتحاد پہ ہمیں اپنے بچوں، عورتوں، بےگناہ نوجوانوں اور اپنے ایمان کی قربانی دینی ہے تو دفعہ کریں ایسے حسن سلوک کو، خاک ڈالیں ایسے اتحاد پہ .

اگر بزدلی کا چولا پہننا ہی حکمت و صبر کی علامت ہے تو اُتار پھینکے ایسے چولے کو، اگر تھوڑی سی بھی غیرت باقی ہے اور ضمیر زندہ ہے تو ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، مظلوموں کے حق کے خاطر سپاہی کی طرح لڑنے مرنے کے لئے تیار ہوجائیں ورنہ زنانا لباس پہن کر اپنے گھروں میں چھُپ جائیں.

کیونکہ جو ظلم کے خلاف آواز تک نہ اٹھا سکیں ایسے بزدلوں کا سماج میں محض مردانہ لباس میں گھومنا کسی بھی قوم کی خواتین کے لئے باعث شرم ہے.

آج ملک میں جو حالات پیش آرہے ہیں

اب تو ہر انسان کا ایک ایک پل خوف کے سائے میں گذر رہا ہے،صبح گھر سے نکلتے ہیں تو اس بات کا یقین نہیں رہتا کہ شام میں اپنوں کو دوبارہ دیکھ پائینگے بھی یا نہیں . ملک کی آب و ہوا میں نفرت کا زہر گھول کر اس قدر خوفناک بنادیا گیا ہے کہ ہر چہرہ پہ ڈر ہر آنکھ اُداس، ہر دل مایوس و ناامید ہے

اور اس طرح کے حالات صرف ظالم کے ظلم کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ مظلوم کی خاموشی بھی برابر کی ذمہ دار ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی ہم پہ اُس وقت حاوی نہیں ہوسکتا جب تک ہم اُس کو موقعہ نہ دیں، جہاں اللہ سبحان تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہتر طریقے سے زندگی گزارنے کے خاطر کئی قسم کی مثالیں پیش کی ہیں لیکن افسوس کے ہم اپنی جہالت میں دیکھ کر بھی نظرانداز کررہے ہیں جبکہ ایک چونٹی بھی ہاتھی پہ بھاری پڑجاتی ہے ایک حقیر سا کیڑا بھی اپنی دفا کے لئے حملہ آور ہوجاتا ہے لیکن ہم اُس چونٹی اور کیڑے سے بھی گئے گذرے ہوچکے ہیں اور ان حالات میں مسلمانوں کی قیادت کا دم بھرنے والے ملی و سیاسی قائدین تماشبین بن کر محض مذمتی بیانات جاری کرنے کو ہی اپنا اہم فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ان کا فرض ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رہنمائ سے مایوس ناامید مسلمانوں کے اندر جوش، ہمت و حوصلے کی نئی روح پھونکیں، حالات سے نمٹنے کے لئے جگہ جگہ اپنی قیادت میں دلیر نوجوانوں کی ٹیم بنائیں، انہیں ہر ناگہانی صورت حال سے نپٹنے کے لئے تیار کریں

 لیکن افسوس کہ آج ہمارے رہنماء قائد ہی ہمیں مضبوط بنانے ایک جُٹ کرنے کے بجائے اپنے اختلافی بیانات سے توڑنے اور کمزور کرنے میں لگے ہیں صبر و حکمت کے نام پہ نوجوانوں کے حوصلوں کو  پست کیا جارہا ہے۔

اور ہماری اس بزدلی، مفادپرستی و منافقت سے سنگھی بخوبی واقف ہیں انہیں یقین ہوچکا ہے کہ آج کا مسلمان مکمل ذہنی اپاہج ہے نہ یہ اپنی دفا میں لڑسکتا ہے نہ ہی اپنوں کی حفاظت کرسکتا ہے بلکہ اس کی حالت اتنی بدتر ہوچکی ہے کہ کوئی اسے گال پہ تھپڑ مارے تو یہ ڈر کے مارے اپنا دوسرا گال یہاں تک کہ اپنی آل و اولاد کو بھی دشمن کے سپرد کردے اور ہمارے اس ڈر کی وجہ سے ذلت بھری موت ہمارا مقدر بن چکی ہے

یہاں پہ ہمیں بڑے ہی دکھ کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ان تمام حالات کے ذمہ دار ہمارے رہنما و قائدین ہیں اور جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ انہیں کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔

کاش ہمارے رہنماء اُس بوڑھے گدھ کی طرح دوراندیش ہوتے اور مسلم نوجوانوں کو حکمت و مصلحت کے نام پہ بزدل بنانے کے بجائے ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے ظالم کو منہ توڑ جواب دینے کی سیکھ دیتے جبکہ

قرآن پاک میں اللہ سبحان تعالیٰ خود اس کا حکم دیتے ہیں کہ اپنی جان، مال، آبرو و ایمان کے خاطر دشمنان اسلام سے جہاد کرتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچائیں، حق کے خاطر لڑتے ہوئے شہادت کو اپنائیں   لیکن

افسوس صد افسوس ہم نے اللہ سبحان تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات کو بھلادیا ہے اس لئے ہم بار بار ستائے جارہے ہیں ذلیل و خوار کئے جارہے ہیں.

 یاد رہے ہمارے حالات اُس وقت تک نہیں بدلینگے جب تک کہ ہم خود کو نہ بدلیں

اس لئے ہماری اپنے بزرگوں سے مخلصانہ گزارش ہے

مسلم نوجوانوں کو نام حکمت پہ بزدل نہ بنایا جائے، صبر کے نام پہ اور جنازے نہ اٹھوائے جائیں بلکہ حالات کی سنجیدگی کے مدنظر ٹھوس اقدامات اٹھائیں کیونکہ مستقل 10 سے 15 سالوں تک ملک کی موجودہ صورت حال ہرگز نہیں بدلنے والی بھلے ہم جتنے بھی محبت و عقیدت بھرے نظرانے پیش کردیں، حسن سلوک کے نام پہ جتنی چاہے جی حضوری کرلیں بدلے میں وہ ہمارے گلے کاٹتے ہی رہینگے اور جب تک ہم اُن کے آگے جھگتے رہینگے وہ ہمیں اپنے پیروں تلے کچلتے ہی رہیں گے .

ایسے میں اگر ہم اپنے حالات بدلنے کے خاطر مٹھی بھر سیکولر سوچ رکھنے والوں سے مدد کی امیدیں جوڑیں گے اُن پہ پوری طرح سے منحصر ہوجائینگے تو ماضی کی طرح بار بار ہمیں منہ کی کھانی پڑے گی ویسے بھی 2019 میں سیکولر جماعتوں کے جتنے بھی امیدواروں کو کامیاب کر کے ہم نے پارلیمنٹ تک پہنچایا تھا سبھی ایک کے بعد دیگر بھاجپا کے بھگوا  رنگ میں خود کو رنگ رہے ہیں اور ان سیکولر جماعتوں پہ یقین کرنے کی قیمت تو ہم 70 سالوں سے چکاتے ہی آرہے ہیں اگر دوبارہ یہی بیوقوفی دہرائی جائے گی تو یقیناً ہندوستان کے صفحہ ہستی سے ہمارا نام و نشان مٹتے دیر نہیں لگے گی اس پہ

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے

نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہند کے مسلمانوں 

تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں 

 ویسے بھی دورحاضر ملک میں ہندوتوا کا جو غلبہ ہےاُس سے خود سیکولر کہلانے والوں کا انجام گوری لنکیش جیسا ہونے میں  کوئی تعجب نہیں اور یہ سب کچھ کرکے ان فسطائی طاقتوں کو کوئ فرق بھی نہیں پڑے گا کیونکہ پولس، قانون سب کچھ اُن کے گھر کی باندی ہے تمام ذرائع ابلاغ انہیں کے اشاروں پہ ناچ رہے ہیں۔

اس لئے ہمارے  چند دن کے احتجاج سے کوئی تبدیلی نہیں آنے والی نہ ہی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی چلے گی بلکہ محض کچھ وقت کے لئے تاریخ پہ تاریخ کا ڈرامہ کیا جائیگا پھر ایک دن امت شاہ، پرگیہ سنگھ ٹھاکور اور موب لنچنگ کے اب تک کے تمام ملزمان کی طرح آئندہ بھی تمام قاتلوں کو کلین چٹ ملتی رہے گی اس بیچ ایک اور نجیب، جنید، افرزول، گوری لنکیش جیسی صحافی، سی بی آئی کے سینئر جج جسٹس لوحیا اور تبریز جیسے مزید نوجوان ان کا شکار بنتے رہیں گے اس لئے سمجھداری اسی میں ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صبر کی تلقین دینے کے بجائے پلٹ وار کرنا سکھائیں، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے قابل بنائیں اور اپنے ساتھ دیگر سیکولر بھائیوں کی بھی دفا میں لڑنے مرنے کا جذبہ جگائیں

کیونکہ اللہ سبحان تعالیٰ بھی انہیں کی مدد فرماتے ہیں جو اپنی مدد آپ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں

ویسے بھی دنیا میں کوئی بھی کمزور کا ساتھی نہیں ہوتا

ایسے میں لڑو یا مرو کے سوا مسلمانوں کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا، ایک بار اگر ہم پلٹ وار کرنے لگ جائیں تو ان نامردوں کی اتنی اوقات نہیں کہ وہ ہمارے آگے ٹک سکیں آج ہم ڈر رہے ہیں اس لئے وہ ہمیں ڈرا رہے ہیں، ہم مار کھارہے ہیں تو وہ ہمیں مارے جارہے ہیں جس دن ہم مارنے لگ جائیں تو یقین جانیں انہیں بھاگنے کے لئے زمین بھی میسر نہیں ہوگی

اس لئے ہوش کے ناخن استعمال کریں، خواب غفلت سے خود کو جگائیں، بزدلی و چاپلوسی کو حکمت کا نام دینے کے بجائے  مردوں کی طرح حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا سیکھیں .

بھلے پہلا وار نہ سہی اپنی اور سے آخری وار تو ایسا کریں جس کے بعد ظالم اور کسی وار کے قابل نہ رہے.

ویسے بھی صبر کے تمام پیمانے لبریز ہوچکے ہیں اور وقت آ چکا ہے کہ سکھ بھائیوں سے سبق سیکھیں اور تسبیح کی جگہ ہاتھوں میں شمشیریں اٹھائی جائیں

کیونکہ جہاں جنگل راج عام ہوجائے وہاں جینے کے لئے قدم قدم پہ لڑنا ضروری ہے ورنہ کوئی حیرانگی نہیں کہ ہمارا حال نوجوان گدھوں سا ہوجائیگا جو بےموت مارے گئے اس لئے جینا ہے تو آخری سانس تک لڑنا سیکھیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close