سیاستہندوستان

حالیہ الیکشن اور مسلمانوں کا لائحۂ عمل

حالیہ 5 ریاستوں اور ممبئی کے الیکشن کا بگل بج چکا ہے اور مسلمانوں میں اس بات کو لے کر کافی ہل چل بھی ہے کہ کس کو ووٹ دیا جائے؟ بی جے پی کے لئے یہ الیکشن اس لئے بے حد اہم ہے کہ اس الیکشن کی جیت خاص کر یوپی، پنجاب، گوا، اس کے لئے2019 کے الیکشن کو جتانے میں اہم رول ادا کرے گی۔ اس نے بہار میں نتیش کو واپس اپنے پالے میں کرلیا ہے۔ اور سماجوادی میں بھی دلوں کا بٹوارہ کردیا ہے۔ بی جے پی کے حوصلے پہلے ہی سے بلند ہیں اس نے نوٹ بندی کے باوجود بھی مہاراشٹر میں ہونے والے پنچایت الیکشن میں 1000 ہزار سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اور مہاراشٹر میں کئی مراٹھا لیڈران و عوام بی جے پی سے جڑتے جارہے ہیں۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ اور علماء دیوبند کا یہ فیصلہ کہ وہ آنے والے الیکشن میں کسی کے بھی حق میں فیصلہ نہیں کریں گے سپریم کورٹ کے آرڈر کے عین مطابق ہے کہ جس میں سپریم کورٹ نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگنے کو غلط قرار دیا ہے۔ اور یہ بات قابل ستائش ہے۔  حالیہ الیکشن کو لے کر مسلمانوں کی بےچینی کو سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ سیکولرزم کے نام پر اب تک جتنے لوگوں نے ان کا ووٹ حاصل کیا اور انہیں ووٹ بینک بناکر رکھا اور ان کی ترقی کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا۔  مسلمانوں کی حالت زار سچر کمیٹی رپورٹ نے ظاہر کردی ہے۔

سیکولر پارٹیوں کی دھوکہ دہی سے تنگ آکر مسلمانوں کی کئی نئی پارٹیاں بھی سیاست میں اتر گئی ہیں اور پہلے سے موجود ایم آئی ایم بھی اپنے پیر تیزی سے پھیلانے جارہی ہے۔ خاص طور پر مہاراشٹر میں وہ اپنا پیر جما رہی ہے۔ اس کے مہاراشٹر اسمبلی میں دو ممبران اور 36 ممبران پنچایت الیکشن میں جیت چکے ہیں۔ اسد الدین اویسی مسلم نوجوانوں اورسوشل میڈیا میں کافی مقبول ہیں۔ نوجوان اس سے کافی تعداد میں جڑے ہیں۔  اس سے پہلے بھی مسلم نوجوانوں نے اپنے اکابرین کی باتوں کے خلاف جاکر عام آدمی پارٹی کے لئے بڑھ چڑھ کر ووٹنگ کی تھی جس کے نتیجے میں آج آپ پارٹی جسے لوگ ووٹ کاٹنے والی پارٹی کہتے تھے دہلی میں حکومت کررہی ہے۔  اس کا مطلب مسلم نوجوان بدلاؤ چاہتے ہیں اور مسلم لیڈران حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

مسلمان نئی پارٹیوں کو ووٹ کٹوا سمجھنے کی بجائے ایک بہتر متبادل سمجھ کر اس کے اچھے امیدواروں کو بے فکر ووٹ کریں اور سیکولر پارٹیوں کے خوف کے جال کو توڑ دیں کہ فلاں کو ووٹ دینے سے بی جے پی یا شیوسینا آجائے گی۔  یہ ووٹوں کا بٹوارہ روکنا اور کمتر برائی کو چننا خوف کی سیاست ہے، اس جال کو توڑنا بے حد ضروری ہے اور یہ حکمت عملی بھی قلیل مدتی ہے کہ ووٹوں کے بٹوارے کو روکا جائے۔  افسوس ہے کہ یہ جال سیکولر پارٹیوں،  مسلم لیڈران، علماء و دانشوران نے مل کر بُنا ہے۔

 طویل مدتی حکمت عملی یہ ہے کہ ہم فرقہ پرست پارٹیوں کو چھوڑ کر جس کے لئے بھی ووٹ کریں وہ احتساب کے بل پر ہونا چاہئے۔  اگر کسی امید وار نے ہمارا ووٹ لے کر ہمارا کام نہیں کیا تو اگلی بار اس کو موقع نہیں دینا چاہئے۔  تبھی جاکر ہم ان سیاسی پارٹیوں اور امید واروں کے دلوں میں اپنا خوف پیدا کر سکتے ہیں کہ مسلم علاقوں میں یا ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر اگلی مرتبہ یہ ہمیں اپنا ووٹ نہیں دیں گے۔

 یوپی میں جو حالات ہیں اس میں مسلمان تذبذب کا شکار ہے کیونکہ ان کا ووٹ بےحد اہم ہے اور بقول سینئر صحافی ’’سواتی چترویدی‘‘ یوپی میں مسلمان 140 سیٹوں پر فیصلہ کن حیثیت کے مالک ہیں۔  سماجوادی پارٹی نے ان کی ترقی کے لئے کئے گئے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے ہوئے فسادات خاص کر مظفرنگر اور اخلاق کے معاملے میں مسلمانوں کے ساتھ ووٹ بینک والا وہی کھیل کھیلا جو کانگریس ہمیشہ سے کھیلتی آئی ہے۔ کم ازکم یوپی کے مسلمانوں کو ان ۶۸ مسلم ایم ایل اے کو معاف نہیں کرنا چاہئے اورکراری شکست دینا چاہئے جو محض مسلم ووٹوں کے بل بوتے پر چن کر آئے اور برے وقتوں میں اپنی قوم کی حفاظت کرنے اور انصاف دلانے میں ناکام رہےہیں۔  مسلمان یوپی میں 18 سے 19 فیصد ہیں اور یادو ۸ سے نو فیصد ہیں اس کے باوجود بھی یادو مسلم ووٹ کے بل پر حکومت کرتے ہیں اور مسلمانوں کو انصاف اور تحفظ کے حصو ل کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے رہنا پڑتا ہے، شاید مسلمانوں نے اس بات پر کبھی غور نہیں کیا کہ اس طرح کے تناسب کے بل پر یا نئی سوشل انجیئرنگ کے ذریعے وہ خود بھی حکومت کرسکتےہیں۔  صرف سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ یا تو ہمارے اکابرین کے پاس ایسا کوئی خواب ہی نہیں ہے یا پھر ہم خود حکومت چلانے کے اہل نہیں ہیں۔  کیا ہمارے پاس ایسا کوئی ویژن ہے؟

 بی جے پی کی حکومت اور کسی اور فرقہ پرست پارٹی کی حکومت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔  آج بی جے پی ملک اور دنیا میں پوری طرح سے بےنقاب ہوگئی ہے کہ وہ حکومت میں آنے پر کس طرح جمہوریت، آزادی،  مساوات اور فرقہ وارانہ یکجہتی کو نقصان پہونچا سکتی ہے۔  مسلمانوں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ کسی پارٹی کا ووٹ بینک بننے کے بجائے ایسے ایماندار امید وار کو ترجیح دیں جو ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرسکے، اور انہیں  ملک کے وسائل میں حصہ داری اور انصاف دلاسکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close