سیاست

حملہ کا جواب مذمت نہیں

            فوج کے 17جوانوں  کی قربانی اور 25جوانوں  کے زخمی ہونے کا واقعہ حادثہ نہیں ، حملہ ہے۔ جیش محمد ہو، لشکر طیبہ ہو یا جماعت الدعوہ، جنھوں  نے بھی چار بدبختوں  کو جہاد اور شہادت کے فضائل سنا سنا کر جنت کا یقین دلا کر ہندوستان کی سرحد میں  داخل ہو کر اندھا دھند گولیاں  برسانے کے لیے اور جواب میں  شہادت کی موت حاصل کرنے کے لیے تباہی کے سامان لاد کر بھیجا تھا انھوں  نے میلوں  پاکستا ن کی سرحد پر سفر کیا ہوگا اور ہندوستانی تجربہ کاروں  کے نزدیک چار گھنٹے ہندوستان کی سرحد کے اندر سفر کیا ہوگا۔ ان کے بارے میں  کیسے مان لیا جائے کہ پاکستانی فوج کو خبر نہ ہو یا انہیں  ان کی حمایت حاصل نہ ہو؟

            ماہرین نے بتایاہے کہ خاردار تار کانٹے کے کٹر سے انھوں  نے سرحد کے تار کانٹے ہیں ، ظاہر ہے کہ رائفلیں ، کارتوس، گولہ بارود اور تارکٹر جو لاد کر چلیں  گے وہ ممکن ہی نہیں  کہ بغیر کسی کی مدد کے سفر کرسکیں ۔ اس لیے کم از کم یہ باب تو بند ہوجانا چاہیے کہ پاکستان سے گفتگو ہوگی۔ یہ حملہ اتنا خطرناک ہے کہ وزیر داخلہ نے اپنا روس اور امریکہ کا دورہ ملتوی کردیا اور شاید پہلی بار صدرجمہوریہ کو بھی بیان دینا پڑا اور انھوں  نے کہا کہ دہشت گردوں کے ناپاک منصوبوں  اور ان کی حمایت کرنے والوں  کو ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

            ملک کے لیڈر جب یہ بات کہتے ہیں  کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے اور پتھر کا جواب لوہے سے دیں گے تو ظاہر ہے اس کا مطلب یہی لیا جائیگا کہ ہم بھی اپنے فدائی پاکستان بھجیں گے اور ۱۷ کے جواب میں  ۳۴ فوجیوں  کو موت کی نیند سلادیں گے۔ لیکن ہم یہ نہیں  کرسکتے۔ ملک کے پہلے وزیر داخلہ اور ملک کے بہت بڑے لیڈر ملک کو حکم دے چکے ہیں  کہ مسلمانوں  کو فوج میں  بھرتی نہ کیا جائے۔ ملک کے حاکموں  نے ویر عبدالحمید اور بریگیڈیر عثمان کو ملک پر جان قربان کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن انہیں یہی ڈرہے کہ مسلمان فوجی میدان جنگ میں  اگر پاکستان سے جا کر مل گئے تو؟ اور اس کا تو مسلمانوں  کے پاس کوئی جواب نہیں  ہے اور جب فوج میں  صرف ہندو ہوں گے تو انہیں  کون یقین دلائے گا کہ اگر تم ملک پر قربان ہوگئے تو اگلے جنم میں  برہمن میں  پیدا ہوگے اور اگر برہمن مرے تو وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ہوگے؟

            ملک کے سیاسی دانشوروں  کو اچھی طرح معلوم کرلینا چاہیے کہ آخر یہ کیاچیز ہے جو مسلمانوں  کو اس یقین کے بعد بھی کہ ہمیں  ہندوستان میں  گھس کر زندہ واپس نہیں  آنا ہے، مرنا ہے اور نہ جانے کیسی کیسی تکلیفوں  کے بعد مرنا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ گولی سے نہ مریں ۔ اگر گرفتار ہوجائیں  اور ہمیں  تو تڑپا تڑپا کر مارا جائے تو کیسی کیسی تکلیف اٹھانا پڑے گی لیکن اس کے بعد بھی وہ آرہے ہیں ۔ کبھی پنجاب کے گورداس پور میں  کبھی پٹھان کوٹ میں  اور کبھی اُری میں ۔ انھیں  صرف یہ یقین ہے کہ ہندوستان کے ہندوئوں  سے جہاد ہورہا ہے اور ہندو کی گولی سے مرنا شہادت ہے۔ وہ شہادت جس کے لیے اسلام کے دوسرے خلیفہ عمرؓ رو رو کر دعا کرتے تھے کہ مجھے شہادت نصیب ہو اور موت آئے تو مدینہ میں  آئے اور انہیں  زہریلی تلوار سے شہید کیا گیا اور شہر مدینہ ہی تھا۔

            اسلام کے ابتدائی دور میں  حضرت خالد ابن ولیدؓ جنھیں  سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا خطاب دیا گیا تھا وہ مرض الموت میں  رورو کر کہتے تھے کہ میرے جسم پر کہیں  بھی دو انگل کی جگہ ایسی نہیں  ہے جہاں  تلوار کے زخم کا نشان نہ ہو لیکن مجھے شہادت نہیں ہوئی اور میں  اپنے خیمہ میں  بیمار اونٹ کی طرح مررہا ہوں  اور جب شہید ہونے والے کو ایسی جنت کا یقین دلایا جاتا ہے کہ جس میں  کھانے پینے اور عیش کرنے کا ایسا سامان اور ایسی چیزیں  ہوں گی جو نہ دیکھی ہوں گی نہ سنی ہوں گی اور نہ کسی نے سوچی ہوں گی تو کس کا دل نہ چاہے گا کہ پاکستان کی غربت اور فاقوں  بھری زندگی سے نکل کر جنت میں  جائوں  جسکے لیے بس ہندوستان میں  داخل ہونا اور گولیوں  سے مارنا اور مرنا ہے۔

            ہم جب اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرتے ہیں  تو وہ کیوں  نہیں  کرتے جو افغانستان میں  امریکہ نے بغیر پائلٹ کے جہاز ڈرون کے ذریعہ بیت اللہ محسوداور حکیم اللہ محسود کو امریکہ میں  بیٹھے بیٹھے ختم کردیا۔ رات ٹی وی چینل نیشنل نیوز نے ایک گھنٹہ تک دکھایا کہ ہمارے پاس بغیر پائلٹ کے ایسے جہاز موجود ہیں  جن میں  کیمرے لگے ہوئے ہیں  اور وہ دشمن کو دیکھ کر رموٹ کے ذریعہ نشانہ بنا تے ہیں ۔ حافظ سعید، اظہر مسعود اور صلاح الدین یہ سب وہ ہیں  جو افغانستان کی تورا بورا پہاڑی میں  چھپے نہیں  بیٹھے ہیں ، وہ کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں  تقریر کرتے ہوئے ہر دن نظر آتے ہیں ۔ تو پھر ہندوستان کے نشانے باز اینٹ کا جواب پتھر سے دینے میں  دیر کیوں  کررہے ہیں ؟ ان کی بات ہماری سمجھ میں  نہیں  آتی کہ ہر بات کا جواب دینا چاہیے مگر سوچ سمجھ کر اور یہ سوچنے سمجھنے کا ہی انجام ہے کہ ہم ہر حملہ کے بعد گنتے ہیں  کہ فلاں  تاریخ کو کتنے مرے اور فلاں  حملہ میں  کتنے اور ہماری طرف سے جواب نام کی ایک اینٹ بھی نہیں  گئی۔

            جب سے انٹرنیٹ پر اخبارات آرہے ہیں  ہمیں  معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے کئی اخبار ہمارے مضامین چھاپتے ہیں ۔ خدا کرے وہ اس مضمون کو چھاپ کر مسلمانوں  پر احسان کریں  کہ جنھیں  شیطان صفت مولوی صورت، ہندوستان بھیجتے ہیں  کہ جنت کا راستہ جموں  کشمیر سے ہو کر جاتا ہے وہ مسلمانوں کو جہنم میں  بھیج رہے ہیں ۔ جہاد وہ ہے جب ہندوستان پاکستان پر حملہ کرے۔ ہندوستان تو پاکستان سے دوستی چاہتا ہے اور اس کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان ملک کی آدھی دولت جو فوجی سامان چین اور امریکہ سے خرید کر پاکستان کے مسلمانوں  کو بھوکا ماررہا ہے اس کے خلاف پاکستان کے مسلمانوں  کو جہاد کرنا چاہیے۔

            پاکستان کے کسی بھی عالم سے معلوم کرو وہ بتائے گا کہ کسی بھی انسان کو چاہے اس کا مذہب کچھ بھی ہو دھوکہ سے مارنا قتل کرنا ہے اور ایک انسان کو قتل کرنا اللہ پاک کے گھر خانہ کعبہ کو گرانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ پٹھان کوٹ ہو، اُری ہو یا ممبئی ہو جس میں  تین سوانسانوں  کو قتل کیا جن میں  پچاس مسلمان بھی تھے ، وہ سب جہنم میں  جائیں گے۔ اور جنھوں  نے ان بھولے بھالوں  کو جنت کا دھوکہ دیا ہے وہ ان سے زیادہ دہکتے ہوئے جہنم میں جلائے جائیں گے اور قبر میں  ان کے جسم میں  کیڑے پڑنا شروع ہوجائیں گے۔

            کشمیر میں  بیشک مسلمان مارے گئے۔ ہندوستان میں  بے شک مسلمانوں  پر ظلم ہوا لیکن ہندوستان میں  ان کی طرف سے ہم جیسے بہت ہیں  جو انھیں  ذلیل کررہے ہیں  اور یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ہم مسلمان جس کی حکومت گرانا چاہتے ہیں  گرا دیتے ہیں  اور جس کی بنانا چاہتے ہیں  بنا دیتے ہیں  اور پھر خدا کا شکر ہے کہ ہم ۲۰ کروڑ ہیں  جبکہ پاکستان بھی ۲۰ کروڑ کا ملک ہے۔

            جب پاکستان بنانے کی مانگ تھی تو ہماری عمر ۱۵ سال تھی لیکن ہم اس وقت بھی اس کے مخالف تھے اور جب بن گیا تو یہ نہیں  چاہتے کہ مٹ جائے لیکن اگر وہ ایسی ہی حرکتیں  کرتا رہے گا تو ہم چاہیں گے کہ وہ دنیا کے نقشہ سے مٹ جائے ، اس لیے کہ اس کی ان حرکتوں  کی وجہ سے ہی ہندوستان کے ہندو مسلمانوں  کے دشمن بن گئے ہیں ۔ اگر پاکستان اور ہندوستان دوست ہوجائیں  تو ہندوستان کے مسلمانوں  کے آدھے مسئلے حل ہوجائیں گے۔ پاکستان کا چین کو دوست بنانا اور ہندوستان کو دشمن بنانا شرم کی بات ہے۔ ہندوستان میں  مسلمانوں  کو جو مل رہا ہے چین میں  اس کا تصور بھی نہیں  کیا جاسکتا۔ وہ اسلام کا دشمن ہے، اس کے باوجود پاکستان اسلام کے دشمن کا دوست بنا ہوا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close