سیاست

حکمراں سے زیادہ اہم مسئلہ اپوزیشن کے سامنے ہے

اپوزیشن کا جنتا پارٹی کی طرح ایک گٹھ بندھن تو ممکن ہی نہیں ہے اگر ملک میں تین یا چار بلاکوں میں بھی الگ الگ ہوگیا تو بی جے پی کی واپسی مشکل ہوجائے گی۔

حفیظ نعمانی

2019ء مشن اب ملک کا سب سے اہم موضوع ہے۔ یہ مشن اپوزیشن سے زیادہ مودی حکومت کا ہے۔ جب اپوزیشن نے یہ دیکھا کہ اب وزیراعظم صرف 2019 ء کے خاکہ میں رنگ بھر رہے ہیں تو اس نے بھی اپنا خاکہ نکال لیا۔ سب سے اہم مسئلہ اترپردیش کا ہے۔ جہاں گورکھ پور میں ضمنی الیکشن ہوا تو کانگریس نے یہ مانتے ہوئے بھی وہاں اپنا امیدوار اتار دیا کہ اکھلیش سنجیدگی سے نشاد کو ساتھ لے کر یوگی کی سیٹ پر اپنا پرچم لہرانے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور انہوں نے ایک بدنام مسلمان ڈاکٹر کو بھی سب کچھ جانتے ہوئے ساتھ لے لیا ہے۔ راہل گاندھی اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ مل کر اسمبلی کا الیکشن لڑچکے تھے جس میں صرف سات سیٹوں پر وہ کامیاب ہوسکے تھے۔

کیرانہ اور نور پور میں اکھلیش یادو نے چودھری اجیت سنگھ کو ساتھ لے لیا اور دونوں سیٹوں پر خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دیا مس مایاوتی پارٹی کی حیثیت نہ گورکھ پور اور پھول پور میں شریک ہوئیں اور نہ کیرانہ اور نور پور میں لیکن ان کا یہ نعرہ گونجتا رہا کہ جو بی جے پی کو ہراسکے اس کی حمایت کرو۔ اس کے بعد بغیر اعلان کے کانگریس اور ایس پی کا اتحاد خود بخود ختم ہوگیا۔ اب اکھلیش یادو لوک سبھا میں صرف اتنا کرنا چاہتے ہیں کہ رائے بریلی اور امیٹھی میں اپنے اُمیدوار کھڑے نہ کریں اس کے علاوہ وہ کانگریس سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتے۔ اور کانگریس کے سامنے صرف حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اپنی حکومت بھی ہے وہ اس سے کم پر تیار نہیں ہوگی اور کوئی علاقائی پارٹی ان کی پالکی کو کاندھا اس لئے نہیں دے گی کہ وہ اپنے بل پر حکومت بنائے اگر وہ بنی تو اس میں باوقار حصہ چاہے گی۔

راہل گاندھی اور ان کی محترمہ والدہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کانگریس 1977 ء کے بعد جب 1980 ء میں دوبارہ واپس آئی تب بھی اس کے پاس 70  ممبر تھے جس کے بل پر اس نے چودھری چرن سنگھ کو وزیراعظم بنوایا اور چندرشیکھر کو بھی۔ اور ان 70  کے علاوہ کتنے صوبے تھے جہاں کانگریس کی حکومت تھی اور جن صوبوں میں حکومت گراکر جنتا پارٹی کی حکومت آندھی کی وجہ سے بن گئی تھی وہ بھی واپس آنا چاہتی تھیں۔  آج صورت حال یہ ہے کہ کانگریس کے پاس ان 45  ممبر لوک سبھا میں ہیں اور پنجاب کے علاوہ کسی قابل ذکر ریاست میں اس کی حکومت نہیں ہے۔ ایسی حالت میں اس کا کوئی امکان نہیں کہ کانگریس اتنی سیٹیں لے آئے کہ اسے حکومت بنانے کی دعوت دی جاسکے۔ اور مضبوط علاقائی پارٹیاں کیوں کانگریس کی حکومت بنوائیں گی جبکہ چار سال پہلے ان کا نشانہ کانگریس ہی تھی۔

گجرات میں ایک سوال کے جواب میں راہل گاندھی نے پہلی بار کہا تھا کہ اگر پارٹی کو اتنی حمایت ملی تو وہ وزیراعظم بننے پر تیار ہیں۔  جس پر ناسمجھ بی جے پی کے لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ راہل ہر کام وزیراعظم بننے کے لئے کررہے ہیں۔  یہ اتنا احمقانہ اعتراض تھا کہ ہر سنجیدہ آدمی حیران رہ گیا۔ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے کون انکار کرسکتا ہے؟ کرناٹک میں 38 سیٹوں والی پارٹی کا لیڈر وزیراعلیٰ ہے۔ اور صرف اسے دیکھ کر ہی مدھیہ پردیش میں بی ایس پی کے صوبائی صدر نے کہہ دیا کہ وہ کانگریس سے اتحاد نہیں کریں گے تمام سیٹوں پر اپنے آدمی کھڑے کریں گے اور وہ پوزیشن حاصل کریں گے کہ ان کے بغیر حکومت نہ بن سکے۔ یعنی وہ 25  بھی لائیں تو اس کا امکان ہو کہ انہیں وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔

یہ بات معمولی نہیں ہے کہ راہل گاندھی کی افطار پارٹی میں نہ اکھلیش گئے اور نہ انہوں نے اعظم خان یا رام گوپال یادو سے کہا کہ وہ چلے جائیں۔  م افضل اسے افواہ کہیں یا فضول اسے مان لینا چاہئے کہ اترپردیش میں اکھلیش، مایاوتی اور اجیت سنگھ کا اتحاد رہے گا۔ راہل گاندھی یا سونیا گاندھی نے سب سے پہلے حزب مخالف کو عشائیہ پر جب بلایا تھا تو اس میں سب نے اس لئے شرکت کی تھی کہ ایک بڑی پارٹی کی صدر نے دعوت دی تھی۔ کھانے کے علاوہ اس کا کوئی ایجنڈہ نہیں تھا۔ اب افطار پر صرف 2019 ء مشن کو سامنے رکھ کر بلایا تھا۔

راہل گاندھی کو ہمارے خیال سے صبر سے کام لینا چاہئے اگر اترپردیش میں ان کو دو سیٹیں ملیں تو صبر کرنا چاہئے اور لوک سبھا میں آنے کا اپنا تو پکا کرلینا چاہئے بہار میں جو لالو دیں اس سے زیادہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے اس لئے کہ لالو سے زیادہ ان کا مخلص کوئی نہیں ہے۔ بنگال میں ممتا کی محبت سے زیادہ یا کیرالہ میں اپنے حصہ سے زیادہ مانگ کر رشتہ کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہئے۔ کانگریس کو جو جنگ لڑنا ہے وہ وہاں لڑے جہاں صرف بی جے پی یا اس کی نمک خوار پارٹی برسراقتدار ہو۔ انہیں تمل ناڈو میں جو نئی پارٹیاں بنی ہیں ان سے بات کرنا چاہئے۔ ان کی مخالف جے للتا تو رہی نہیں اور کروناندھی اب آدھے تمل ناڈو کے مالک رہے نہیں۔  اور ان کے آدمیوں نے جو حکومت کو رُسوا کیا ہے اسے راہل یا سونیا جی کیسے بھول سکتی ہیں ؟

راہل گاندھی کو گجرات، راجستھان، آسام اور ان ریاستوں پر زیادہ توجہ دینا چاہئے جہاں بی جے پی نے 2014 ء میں سب کا صفایا کردیا تھا۔ راہل گاندھی نے چھوٹی ریاستوں یعنی ہریانہ اور دہلی کی طرف سے اپنی توجہ ہٹالی ہے وہاں یہ دیکھنا چاہئے کہ بی جے پی سے کون ٹکر لے سکتا ہے؟ دہلی میں وہ کانگریس پر جتنا خرچ کررہے ہیں اس سے بی جے پی کو طاقت مل رہی ہے۔ کجریوال ان کے ساتھ آئے نہ آئے مودی جی کے ساتھ تو نہیں جائیں گے۔ اور اب تو راجیہ سبھا میں بھی ان کے تین ممبر ہیں جن کی حمایت کی بڑی قیمت ہے۔

ہر پارٹی میں ایک گروپ وہ ہوتا ہے جو لیڈر کا دماغ خراب کردیتا ہے اور پھر وہ تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ جو راہل سے کہے کہ ملک میں ہر جگہ یہ چرچا ہے کہ راہل جی آرہے ہیں اسے گھر میں نہ گھسنے دیں۔  مودی جی کے بارے میں اب سنجیدہ ہندو یہ تو نہیں چاہتے کہ وہ وزیراعظم نہ رہیں لیکن یہ ضرور چاہتے ہی کہ اتنے بے قابو نہ رہیں کہ جس دن ان کا ملک سے کھیلنے کو جی چاہے وہ رات کے آٹھ بجے مائک کے سامنے کھڑے ہوکر اعلان کردیں کہ آج رات کو 12  بجے کے بعد دو ہزار کا نوٹ صرف بینک میں تبدیل ہوگا۔ بلیک منی بھرنے والوں نے دو ہزار کے سارے نوٹ قبضہ میں کرلئے ہیں اور ہر بینک میں سو سو کے نوٹ مل رہے ہیں۔  اب وہ واپس آئیں گے تو معلوم ہوگا کہ کس نے کتنا کالا دھن دبا لیا ہے۔ وہ وزیراعظم بنیں تو بی جے پی کی 150  سے زیادہ سیٹیں نہ ہوں تاکہ اگر وہ ہٹلری کریں تو انہیں بدل دیا جائے۔ جو لوگ کانگریس کی واپسی سوچ رہے ہیں وہ راہل کے دوست نہیں کچھ اور ہیں۔

اپوزیشن کا جنتا پارٹی کی طرح ایک گٹھ بندھن تو ممکن ہی نہیں ہے اگر ملک میں تین یا چار بلاکوں میں بھی الگ الگ ہوگیا تو بی جے پی کی واپسی مشکل ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب سے اہم مسئلہ یہ ہوگا کہ کسے وزیراعظم بنایا جائے۔ کیونکہ ہر جگہ ہر پارٹی وہ نہیں کرسکتی جو کرناٹک میں کانگریس نے کیا ہے۔ اور اگر جذبات میں آکر کسی کمزور کو بنا دیا تو؟ ملک کے بڑے سیاست دانوں کو سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ اگر دودھ کی طر ح پھٹ گیا تو وہی ہوگا کہ 1980 ء کی طرح مودی جی کو ہی لایا جائے گا۔ کاش مودی جی نے من مانی کرکے ایسے فیصلے نہ کئے ہوتے کہ پورا ملک چیخ رہا ہے تو سکون سے 2019 ء کا الیکشن ہوجاتا۔ جو کچھ بگاڑ ہوا وہ یا ان کا خود ہے یا آر ایس ایس کا ہے جس کا بھی ہے وہ ملک کا دوست نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close