سیاست

حکومت اور عدالتوں کا دوستانہ میچ

حفیظ نعمانی

الہ آباد ہائی کورٹ اور اس کی لکھنؤ بینچ حکومت کو آٹھ مہینے میں کئی بار ہدایت دے چکی ہے کہ غیرقانونی مذبح کے نام پر جو حکومت نے پورے اُترپردیش میں ہر مذبح کو تاراج کردیا وہ اس کی تلافی میں بھی اپنا فرض ادا کرے اور وہ کروڑوں شہری جو گوشت کھانا چاہتے ہیں یا جو گوشت، کھال اور جانوروں کا کاروبار کرتے ہیں ان کا روزگار واپس کرے۔

15 نومبر کو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک جج کی بینچ نے حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل کو پھٹکار لگائی اور حکم دیا کہ آئندہ پیشی 28  نومبر کو پوری تیاری اور معلومات کے ساتھ حاضر ہوکر بتائیں کہ حکومت نے کیا کردیا ہے اور کب تک ہر کام پورا کردے گی؟

نئی حکومت کے بنتے ہی وہ منظر کسے یاد نہیں ہوگا کہ وزیر اعلیٰ کو ساتھ لے کر امت شاہ نے پورے اُترپردیش میں غیرقانونی کے نام پر ہر مذبح پر بلڈوزر چلوائے اور ان کی زبان پر صرف ایک نعرہ تھا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ غیرقانونی ہر مذبح کو حکومت بنتے ہی گرا دیں گے۔ اس وقت فتح کا جنون ایسا تھا کہ کوئی یہ بھی معلوم نہ کرسکا کہ قانونی کون سا ہے اور غیرقانونی کون سا؟ امت شاہ اور ان کے کارسیوکوں نے تو گوشت کی لاکھوں دُکانیں توڑپھوڑکر برباد کردیں اور سب کچھ پولیس کی نگرانی میں ہونے کی وجہ سے کوئی مخالفت بھی نہیں کرسکا۔

15 نومبر کی پیشی میں جب چیف جسٹس نے حکومت کے کاموں اور پروگراموں کی تفصیل طلب کی تو ایڈوکیٹ جنرل نے مہلت کی ایک درخواست بڑھا دی۔ یہ ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ سرکاری وکیل ہر پیشی پر ذلیل ہوتا ہے اس کی یہ ہمت تو ہوتی نہیں کہ حکومت سے کہہ سکے کہ یا تو جواب دیجئے یا میرا استعفیٰ قبول کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری وکیل کا کوئی قصور نہیں وہ صرف غلام ہے۔ حکومت کا رویہ یہ ہے کہ وہ ہائی کورٹ کو بھی اپنا ایک محکمہ سمجھتی ہے جس کا کام مقدموں کا فیصلہ کرنا ہے۔ وہ اس کے احکام پر جواب تیار کرانا اور ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی لیکن اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ یہ کہہ سکے کہ جب فرصت ہوگی جواب دے دیا جائے گا۔ موجودہ صوبائی حکومت کے کسی وزیر کے منھ سے ایک بار بھی نہیں سنا گیا کہ حکومت ہر شہر میں مذبح کے لئے کیا کررہی ہے؟ جبکہ یہ حکومت اور شہری بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی سے دور مذبح بنائے ایک ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگائے اور وہاں کا سرکاری عملہ اپنی فیس وصول کرکے جانور ذبح کرائے اور اس کا گوشت بازار میں فروخت کرائے۔

آٹھ مہینے میں وزیر اعلیٰ یوگی نے اجودھیا میں رام چندر جی کی بلند و بالا مورتی بنوانے سرجو ندی کے گھاٹوں کو چاندی اور سونے کی پالش سے چمکانے اور اجودھیا کو ایک مثالی بستی بنانے کا ذکر تو نہ جانے کتنی بار کیا لیکن کسی شہر میں مذبح کا ذکر ایک بار بھی نہیں کیا اس لئے کہ یہ مسلمانوں کے روزگار اور ان کے کھان پان کا مسئلہ ہے اور جو لاکھوں شہری اس سے جڑے ہوئے ہیں ان میں اکثریت ہی نہیں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اور الیکشن میں امت شاہ نے یا وزیر اعظم نے مسلمانو ں کے روزگار کا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے روزگار کو اپنی ذمہ داری سمجھتے بھی نہیں ہیں ۔

پورے اُترپردیش میں 38  مقدمے حکومت کے خلاف ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہیں مقدمات کی پیروی کرنے والے بی کے سنگھ ایڈوکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے انتہائی سخت الفاظ میں حکومت سے کہا ہے کہ ان کی پیشی پر ہر چیز کی تفصیل عدالت کے سامنے پیش کی جائے اور بتایا جائے کہ کتنا کام ہوگیا اور باقی کب تک ہوجائے گا؟ حکومت کے خلاف مقدمات میں عدالتوں میں جو ہوتا ہے اس کے نہ جانے کتنے نمونے سامنے ہیں ۔ ہمارا اپنا مشاہدہ یہ ہے کہ حکومت کو جو کرنا ہوتا ہے وہ کرتی ہے اور جب جج صاحبان زیادہ برہم ہوتے ہیں تو اپنے سرکاری وکیل بدل دیتی ہے جو کہتے ہیں کہ سر ہمیں تو یہ فائل ایک ہفتہ پہلے ملی ہے۔ اور 38  مقدمات کی تفصیل اتنی ہے کہ اسے پڑھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔ ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ کسی حکومت کی بے نیازی سے عدالت اتنی ناراض ہوئی ہو کہ اس نے حکومت کے خلاف کوئی سخت فیصلہ کردیا ہو۔

عدالت بیشک بہت محترم ادارہ ہے لیکن جو 325  ممبروں کی مدد سے وزیر اعلیٰ بنایا جائے وہ ہائی کورٹ تو کیا سپریم کورٹ کو بھی اپنے سے کمتر سمجھتا ہے۔ اور یہ نوبت کبھی نہیں آتی کہ آر پار کی جنگ ہوجائے۔ ان مقدمات کو آٹھ مہینے ہوچکے ہیں اس درمیان میں بقرعید بھی آکر گذر گئی اور لاکھوں جانور بغیر قانونی اور کسی شرط کے بغیر سڑکوں کے کنارے ذبح ہوکر تقسیم بھی ہوگئے لیکن مذبح کا مسئلہ جس جگہ تھا وہاں سے ایک اِنچ بھی نہیں بڑھا۔ جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے حکومت کو پھٹکار لگائی یا سرکاری ایڈوکیٹ جنرل سے صاف صاف کہا کہ آئندہ یہ یہ اور یہ لے کر آئیے گا وہ کچھ ہونے کا انتظار نہ کریں کیونکہ اگر حکومت کو کچھ کرنا ہوتا تو بجٹ میں آچکا ہوتا اور ہر شہر میں کام شروع ہوگیا ہوتا یا بقرعید کے موقع پر عارضی مذبح بناکر مستقبل میں انہیں قانونی درجہ دے دیا جاتا۔ اب تک کچھ بھی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ بات نہ سڑکوں پر ہے اور نہ سڑکوں پر آئے گی کیونکہ امت شاہ نے اسے ہندو مسلم مسئلہ بنا دیا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close