سیاست

حکومت ملک کو آگے نہیں پیچھے لیے جارہی ہے

ہم نے اپنے ہوش میں کسی کے منھ سے کسی کی برائی نہیں سنی۔ وہ نظریات اور طریق کار پر تنقید کرتے تھے ان لیڈروں پر نہیں جن کا نظریہ ہوتا تھا۔

حفیظ نعمانی

اکثر ہمیں وہ زمانہ یاد آتا ہے جب اسی پارلیمنٹ کا اور ان ہی اسمبلیوں کے الیکشن ورکروں کے خلوص سے لڑے جاتے تھے اور کسی پارٹی کے پاس ردّی کاغذ کی طرح نہ نوٹ ہوتے تھے نہ سواریاں ہوتی تھیں اور نہ الیکشن کمیشن کا دبدبہ۔ یہ ضرور ہے کہ پولنگ کا اوسط کم رہتا تھا لیکن کسی مخالف کے دل میں دشمنی کی حد تک زہر نہیں بھرتا تھا۔

امروہہ سنبھل حسن پور ایک پارلیمانی سیٹ تھی کانگریس نے مولانا حفظ الرحمن کو ٹکٹ دیا مخالفت میں دوسری پارٹی کے اُمیدوار آئے۔ مولانا صرف ایک بار سنبھل گئے ایک بار امروہہ اور ایک بار حسن پور۔ وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو تھے انہوں نے ان تحصیلوں میں قدم بھی نہیں رکھا وہ صرف مراد آباد ضلع میں آئے اور ایک تقریر کرکے رام پور اور پھر بریلی چلے گئے۔ مولانا حفظ الرحمن نے 1952 ء، 1957 ء اور 1962 ء کے تین الیکشن لڑے اور ان تینوں الیکشنوں میں ان کے دس ہزار روپئے بھی شاید خرچ نہ ہوئے ہوں۔

پنڈت نہرو سے لے کر مولانا تک جس نے بھی تقریر کی اس میں صرف یہ بتایا کہ ملک کو آزاد کیسے کرایا۔ پہلے ملک کیا تھا انگریزوں نے اسے کیا بنا دیا اور اب ہم اس کے لئے کیا کیا کرنے جارہے ہیں؟ ہم نے اپنے ہوش میں کسی کے منھ سے کسی کی برائی نہیں سنی۔ وہ نظریات اور طریق کار پر تنقید کرتے تھے ان لیڈروں پر نہیں جن کا نظریہ ہوتا تھا۔

کرناٹک میں 212  سیٹوں پر الیکشن ہورہا ہے بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے ہیں نام کے لئے جنتادل سیکولر نام کی پارٹی جو سابق وزیراعظم دیوگوڑا کی پارٹی کہی جاتی ہے اس کے امیدوار بھی ہیں لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ حکومت بنانے کیلئے نہیں بنوانے کے لئے لڑرہی ہے اور کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں یہ آس لگائے ہوئے ہیں کہ اگر حکومت بنانے بھر کی اکثریت نہ ملی تو دیوگوڑا جی سے مدد مانگیں گے اور دونوں کو مدد کی اُمید اس لئے ہے کہ دیوگوڑا کا جھکائو تو اگر ضرورت پڑی تو کانگریس کی طرف ہے اور ان کے بیٹے کا بی جے پی کی طرف۔ اس کشمکش کے ماحول میں آج کے وزیراعظم نے پورے ملک کے مسائل پر خاک ڈالی اور کرناٹک میںڈیرہ ڈال دیا جہاں کے بارے میں یہی خبر کیا کم تھی کہ وہ 15  ریلیاں کریں گے۔ لیکن الیکشن لڑانا ان کا سب سے محبوب مشغلہ ہے اس لئے انہوں نے 6 کا اضافہ کرکے 21  ریلیاں کیں اور کرناٹک تو گیا چولھے بھاڑ میں انہوں نے اس الیکشن میں یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی کہ پنڈت نہرو نے بھگت سنگھ کی پھانسی رُکوانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ یا وہ ان سے جیل میں ملنے گئے یا نہیں؟

وزیراعظم کی کوئی بھی تقریر وہ اترپردیش کی ہو گجرات کے الیکشن کی ہو یا کرناٹک کی کسی میں وہاں کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر نہیں ہوگا بلکہ جیسے آزادی کے بعد کانگریس کے لیڈر انگریزوں کی قبر سے کیڑے نکالا کرتے تھے اسی طرح مودی جی کانگریس کے نہرو خاندان کی چتا کی راکھ سے ان کی کنبہ پروری کی تاریخ بتاتے رہتے ہیں۔

ملک کے وزیراعظم اور ملک دونوں کے لئے کتنے شرم کی بات ہے کہ فلمی دنیا کے ایک سابق ہیرو شتروگھن سنہا جو بی جے پی کے ہی ایم پی ہیں انہوں نے کرناٹک الیکشن کی تشہیر کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی تقریروں میں جارحانہ رُخ اختیار کرنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم بننے سے کوئی ذہین نہیں بن جاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم اور اپنے صدر امت شاہ کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں دائرہ نہیں پار کرنا چاہئے اور ہمیں ذاتی نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا اشارہ شاید اس طرف ہے کہ وہ تاریخ کا ذکر کرکے جھوٹی کہانی اس اعلان کے ساتھ بیان کررہے تھے کہ اگر ایسا نہ ہو تو مجھے بتایا جائے۔ اور ایک چینل پر نیوز ریڈر تھوڑی ہی دیر کے بعد کہہ رہا تھا کہ مودی جی جھوٹ بول رہے ہیں اور پہلے بھی ایسے جھوٹ پر واویلا ہوچکا ہے۔

ہم نے بات شروع کی تھی الیکشن میں ہونے والے خرچ کی کہ وہ پہلے سیکڑوں میںتھا اور اب کروڑوں میں ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن جسے آزاد کہا جارہا ہے وہ بدترین غلام کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس نے خرچ پر پابندی لگانے کے لئے پوسٹر، بینر اور جھنڈوں پر پوری پابندی لگادی۔ لیکن کیا اسے معلوم نہیںہے کہ 2014 ء میںصرف نریندر مودی کی تھری ڈی تقریروں پر 61  کروڑ روپئے خرچ ہوئے تھے اور انہوں نے جو پورے ملک میںریلیوں کے نام پر طاقت کا مظاہرہ کیا وہ لاکھوں کروڑ کا خرچ ہے۔ اتنے روپئے میں ملک خریدے جاتے ہیں جتنے روپئے میں مودی جی الیکشن لڑتے ہیں۔ ہم الیکشن کمیشن سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ روڈشو کیا ہے؟ ایک سجی ہوئی بس میں پارٹی کے لیڈر ہیرو بنے کھڑے ہوں اور چونئی کی رفتار سے وہ بس جس سڑک پر آجائے وہ دن بھر کے لئے ناکارہ ہوجائے۔ اور جو کھڑے ہیں ان کا کام صرف ہاتھ ہلانا ہے نہ کوئی تقریر ہے نہ تحریر بس کاروبار بند؟ اور اگر ایک روڈ شو کا خرچ دیکھا جائے تو لاکھوں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ وزیراعظم کا اپنا مقام ہوتا ہے اور ہر جاہ پرست کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا چہرہ وزیراعظم کو یادرہے۔ نیرو مودی کوئی رشتہ دار نہیں تھا وہ مودی تھا اور تمام بڑے افسروں کو معلوم تھا کہ وہ وزیراعظم سے قریب ہے اسی تعارف نے 22  ہزار کروڑ کا قرض لینے میں اس کی مدد کی۔ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے ہر وزیر پر پابندی لگائے کہ وہ صوبائی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے صرف پارٹی کا صدر اور دوسرے عہدہ دار حصہ لیں گے۔ اور صوبائی لیڈر اپنا الیکشن لڑیں گے۔ وزیراعظم اور وزیروں کا استعمال ایک طرح کی رشوت ہے جو سب سے زیادہ مہلک ہے۔ 1963 ء میں جب آچاریہ کرپلانی سنبھل سے الیکشن لڑرہے تھے تو پنڈت نہرو نہیں آئے تھے لیکن ہر وزیر اور پنجاب تک کے وزیراعلیٰ انہیں ہرانے کے لئے آئے اس وقت ہم نے ہر افسر کا موڈ دیکھا کہ اپنے کام چھوڑکر صرف وزیروں کی چمچہ گیری کررہے تھے۔ حد یہ ہے کہ پیٹرول پمپ والے کرپلانی جی کی گاڑیوں کو پیٹرول دیتے ہوئے ڈرتے تھے۔ اس لئے ہم درخواست کریں گے کہ یا تو الیکشن کمیشن ختم کردیا جائے یا وہ ہر اس بات پر پابندی لگائے جس سے ووٹوں پر اثر پڑے ان میں وزیراعظم پر پابندی سب سے اہم مسئلہ ہے۔ کیونکہ آج افسر اگر بی جے پی کو جتائیں گے تو کل وہ جس عہدہ پر جہاں چاہیں گے بھیج دیئے جائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close