سیاستہندوستان

حکومت گائے کے متعلق واضح پالسی بنائے

 ڈاکٹر عابد الرحمن 

  گؤ رکشا کے نام پر ایک اور انسانی بلی چڑھا دی گئی ۔ دادری میں جو کچھ ہوا تھا اس میں گوشت کی موجودگی کا بہانہ تھا ،لیکن یہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔جو شخص گائیں لے جارہا تھا وہ پیشے سے قصائی نہیں تھا ،بلکہ دودھ کا کاروباری تھا اور اسی مقصد سے وہ گائے خرید لایا تھا ۔خبروں کے مطابق اس کے پاس اس خریداری کے کاغذات بھی تھے ۔لیکن گؤ رکشکوں نے اس کی ایک نہ سنی اسے اور اس کے ساتھیوں کو مار پیٹ شروع کردی اور اس مظلوم کو تو اتنا مارا کہ اس کی موت واقع ہو گئی ۔یہ واقعہ دراصل گؤ رکشا سے زیادہ مسلم مخالف فرقہ واریت کاہے کیونکہ گائے لے جانے والے ٹرک کا ڈرائیور ہندو تھا ،جب گائے کی نقل و حمل غیر قانونی ہے تو اس میں ملوث سبھی افراد بغیر کسی مذہبی امتیاز کے دوشی مانے جانے چاہئے لیکن اس میں اس ہندو ڈرائیور کو چھوڑ دیا گیا اور صرف مسلمانوں کو ہی مارا پیٹا گیا ۔

یوں تو گائے کا ذبیحہ ہمیشہ ہی سے ایک گرم اشو رہا ہے لیکن مودی سرکار آنے کے بعد سے حالات بہت خراب ہو ئے ہیں ۔اور اس کے لئے براہ راست حکومت ہی ذمہ دار بھی ہے ۔حکومت ان معاملات کی مذمت تو کرتی ہے لیکن اس مذمت کو قانون کا جامہ پہنا کر کبھی عملی کارروائی تک پہنچانے کی کوئی خاص سنجیدہ کوشش نہیں کرتی ۔اس طرح کے معاملات میں پولس جو قانونی کارروائی کرتی ہے وہ بھی بڑی عجیب ہوتی ہے ۔  ان معاملات میں پولس گؤ رکشکوں یعنی قانون توڑنے اور پورے قانونی نظام کی دھجیاں اڑانے والوں سے پہلے مظلومین کے خلاف معاملات درج کرتی ہے اور ان پر کارروائی کرتی ہے ۔کبھی کبھی توا یسا کمال بھی ہوتا ہے کہ گؤ رکشکوں کا تشدد پولس کے سامنے یا پولس اسٹیشن میں بھی جاری رہتا ہے اور پولس قانون کا مذاق بنانے والے ان گؤ رکشکوں کے خلاف عملی کارروائی کر نے کی بجائے یا تو خاموش کھڑی رہتی ہے یا پھر اپنی کارروائی کو بیچ بچاؤ تک ہی محدود رکھتی ہے ۔پولس کے اس طرح کے طرز عمل کی وجہ سے ہی گؤ رکشا کے نام غنڈہ گردی کر نے والے پولس کو اپنا بغل بچہ سمجھنے لگے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ اب ان کو قانون اور پولس کا کوئی خوف نہیں رہا یہاں تک کہ اب تو یہ اس معاملہ میں وزیر اعظم مودی جی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے ہیں پچھلے دنوں مودی جی نے گؤ رکشکوں کو جو لتاڑ لگائی تھی اور ان کی اصل حرکات کا جو پوسٹ مارٹم کیا تھا اسے بھی انہوں نے ہوا میں اڑا دیا ۔

اسی طرح سیاسی لیڈران خاص طور سے بر سر اقتدار پارٹی بی جے پی کے ممبران، منتخب اراکین اور وزراء تک اس طرح کے معاملات میں انصاف کی علمبرداری کر نے کی بجائے اس میں مزید آگ لگانے کا کام کرتے ہیں ،ان لوگوں کے بیانات میں بھی پہلے نمبر پر مظلومین پر الزام تراشی ہی ہوتی ہے ،گؤ رکشک خاطیوں کے خلاف اگر یہ کچھ بولتے بھی ہیں تواس انداز میں کہ جیسے انہوں جو کچھ کیا وہ جرم نہ ہو بلکہ ان کی غیر قانونی حرکات کسی جرم کو روکنے کے لئے ہی کی گئی ہوں مذکورہ معاملہ میں بھی راجستھان کے وزیر داخلہ یعنی ریاست میں قانون کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ نے جہاں گؤ رکشکوں کے اس عمل کو غلط کہا وہیں یہ بھی کہہ دیا کہ مسئلہ دونوں طرف سے ہے ۔لوگ جانتے ہیں کہ گائے کی ٹریفیکنگ (غیر قانونی خرید و فروخت اور نقل و حمل ) غیر قانونی ہے  پھر بھی لوگ باز نہیں آتے۔گؤ بھکت اس طرح کے جرائم میں ملوث لوگوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔تو کیا گائے کے متعلق قوانین کے نفاذ کی ذمہ داری گؤ رکشکوں کو سونپ دی گئی ؟ اس معاملہ میں تو یہ خبر ہے کہ گائے کی اس نقل و حمل کر نے والوں کے پاس ضروری کاغذات موجود تھے ،تو کیا عزت مآب وزیر داخلہ کو اتنا بھی علم نہیں اور اگر علم ہے تو کیا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ذریعہ گایوں کی کسی بھی قسم کی نقل و حمل غیر قانونی ہے؟ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ مذکورہ معاملہ میں جیسی کچھ نقل و حمل ہوئی وہ غیر قانونی تھی تو بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا گؤ رکشکوں کواس غیر قانونی نقل و حمل کرنے والوں کو سزا دینے اور وہ بھی ڈائریکٹ قتل کر نے کا اختیار دے دیا گیا ہے؟جبکہ ایسا کوئی اختیار تو پولس کو بھی نہیں ہے ۔

مرکزی وزیر عزت مآب مختار عباس نقوی صاحب نے تو سرے سے انکار ہی کردیا کہ ایسا واقعہ کہیں ہوا ہے کہ ’ جس طرح کی گھٹنا پیش کی جارہی ہے ایسی کوئی گھٹنا زمین پر نہیں ہوئی ہے‘۔خیرنقوی صاحب کی بات کی زیادہ اہمیت نہیں ہے سو ان سے کوئی شکایت بھی نہیں ۔ اس سے پہلے وہ بیف کھانے والوں کو پاکستان چلء جانے کا مشورہ دے چکے ہیں جسے انہی کے سرکاری رفیق نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہ’ لوگوں کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہئیں ‘ اور اس طرح کے بیانات سے مودی سرکار کی پالسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ‘ اسی طرح ان کے ایک اور رفیق نے یہ کہا تھا کہ نقوی کا بیان خوش ذائقہ نہیں ہے انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ میں گوشت کھا تا ہوں کیا کوئی مجھے روک سکتا ہے؟ اہمیت انکی بات کی ہے اورشکایت بھی ان سے ہے جو ذمہ دار ہیں ۔ ان گؤ رکشک شدت پسندوں کی دہشت گردی پر حکومت کی تابڑ توڑ کارروائی کی کمی اور خاموشی کی وجہ سے اوروزراء کی انہی کے انداز میں بیان بازی کی وجہ سے ہی شاید پولس بھی ان کے خلاف لاء اینڈ آرڈر کی کسی سخت کارروائی سے اپنے آپ کوروکے رکھتی ہے اور ان شدت پسند عناصر کا بغل بچہ کی طرح کام کر نے کو ہی حکومت کا منشاء سمجھتی ہے ۔

اس معاملہ میں حکومت کی پالسی بد نیتی پر مبنی ہے ۔ گو کہ یہ معاملہ ریاستی سرکاروں کا ہے لیکن اس کی ذمہ داری مرکزی سرکار بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ اس طرح کے معاملات زیادہ تر وہیں ہوئے ہیں جہاں بی جے پی کی سرکاریں ہیں ،اور بی جے پی آجکل مودی پی سے زیادہ نہیں ہے مودی جی چاہیں تو متعلقہ سرکاروں کے کان کھینچ کر انہیں قانون کی پاسداری کرنے اور قانون شکنی کر نے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر نے پر مجبور کر سکتے ہیں ۔الٹ ہو یہ رہا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں گؤ رکشا کے خلاف تو قوانین بن رہے ہیں لیکن گؤ رکشا کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے خلاف نہ کوئی اسپیشل قانون بن رہا ہے اور نہ ہی موجودہ قوانین کو سخت کیا جا رہا ہے ۔بلکہ وزراء اعلیٰ تک اس ضمن میں بھڑکاؤ بیان بازی کر رہے ہیں ،جیسے ابھی گجرات میں گوکشی کے جرم کے لئے عمر قید کی سزا کا قانون بنایا گیا تو چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ نے اس جرم کے لئے پھانسی کی سزا دینے کا اعلان کردیا ،لیکن دونوں جگہ گؤ رکشا کے نام پر انسانوں کے قتل کے جرم کو ’ریئر یسٹ آف دی رئیر(Rarest of the Rare  ) ‘قرار دینے کی بات تو بہت دور اس ضمن میں پولس کارروائی کو فوری اور غیر جانبدار بنانے اور موجودہ قوانین کے تحت ہی سہی خاطیوں کو سخت سزا دینے کی بات بھی نہیں کی گئی ۔حکومت کی اس پالسی کی وجہ سے ہندو عوام یا کم از کم گؤ رکشک تو یہی سمجھ رہے ہیں کہ گؤ رکشا کے نام پر کی جانے والی ان کی ہر غیر قانونی حر کت دراصل ملک کی خدمت ہے ۔

دادری معاملہ میں تو یہ ہوا کہ اخلاق کے قتل کے ملزم کی جیل میں موت ہوجانے کے بعد اسے دیش کے لئے شہید ہو جانے والے فوجیوں کی طرح قومی پر چم میں کفنا یا گیا اور حکومت کی طرف سے نہ اسے روکنے کی کوئی کوشش کی گئی اور نہ ہی اس کا کچھ نوٹس لیا گیا تو کیا حکومت خود بھی یہی مانتی ہے اور عوام کو بھی یہی پیغام دینا چاہتی ہے کہ گؤ رکشا کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ دیش کی اعلیٰ ترین خدمت     ہے اور ایسا کرنے والے اپنی طبعی موت کے بعد بھی شہید ہی مانیں جائیں گے؟مسلمانوں نے حکومت سے اپیل کر نی چاہئے کہ وہ گائے کے متعلق اپنی پالسی واضح کرے ، اگر گائے کی کسی بھی قسم کی نقل و حمل غیر قانونی ہے تو اس کی ہر قسم کی تجارت پر بھی پابندی عائد کی جائے ،اور اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ مسلمان گائے کو ہاتھ ہی نہ لگائیں تو وہ کم از کم اس کا ہی سرکاری اعلان کر دے یا ایسا کوئی قانون بنادے کہ ہم مسلمان جو بے چارے ہر قانون اور قانون کے نام پرسرکاری اور غیر سرکاری ملیشیاء کی غیر قانونیت کے پابند ہیں ،اس کے بھی پابند ہوجائیں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عابد الرحمن

ڈاکٹر عابدالرحمان مشہور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close