سیاست

خون کی پیاسی بھیڑ

نازش ہما قاسمی

جب ایک مرتبہ کسی چیز کی لَت لگ جائے، اور اس امر کو انجام دینے سے خاطر خواہ کارروائی کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے، تو اس کام کو انجام دینے کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جاتا ہے. ہمارے ملک میں ایک ایسی ہی وبا ماب لنچنگ کے نام سے شروع ہوئی، جس میں جب، جہاں چاہے چند جنونی بھیڑیے جمع ہوکر کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ان جنونی بھیڑ کی ابتدا میں اگر سخت سرزنش کی جاتی، انہیں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا اور حکومت کی جانب سے مضبوط اور ٹھوس اقدامات اس کی روم تھام کیلیے کیے جاتے تو صورتِ حال اس قدر پیچیدہ نہ ہوتی، معاملہ اس حد تک سنگینی کا رخ نہ اپناتا۔ دادری کے اخلاق سے قتل کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ راجستھان کے صغیر اور ارریہ کے ضعیف کابل میاں تک دراز ہوگیا ہے۔ اگر اخلاق کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا ہوتی تو، اس کے قاتلوں کوقتل کرنے کے جرم میں قتل کردیا جاتا تو شاید عظیم موت کے گھاٹ نہ اترتا، جنید شہید نہ ہوتا، علیم انصاری یوں نہ بھینٹ چڑھتا، رکبر خان کے اہل خانہ بے یارو مددگار نہ ہوتے، نعیم کی والدہ انصاف کی منتظر نہ رہتی۔ لیکن اس پر ڈھیل اور لگام نہ کسے جانے سے یہ سلسلہ یوپی سے شروع ہوکر پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔

بہار جو فرقہ پرستوں کی چیرہ دستی سے پاک تھا وہاں بھی نام نہاد گئو رکشک دہشت گردوں کی دہشت قائم ہوتی جارہی ہے، گائے کے نام پر لیڈران نے اس طرح سیاسی روٹی سینکی ہے کہ یہ ایک جنون بن چکا ہے، جو چند لوگوں کے سروں پر منڈلاتا ہے اور پھر وہ بغیر کسی چوں چرا کے کسی بھی معصوم کی زندگی چھین لیتے ہیں ، جن گناہوں کی سزا عدالت سے طے ہونی تھی اب ان کے فیصلے سرعام کیے جارہے ہیں۔ چند دنوں قبل بہار کے سیتامڑھی میں ایک بوڑھے شخص کو موت کی نیند سلادیا گیا، ابتدا میں حتی الامکان کوشش کی گئی کہ معاملہ کو میڈیا سے دور رکھا جائے، چند نام نہاد سیاسی لیڈران نے لیپا پوتی کی بھی کوشش کی؛ لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ اگر اس وقت برموقع اور سخت کاروائی کی جاتی تو معاملہ اس قدر آگے نہ بڑھتا اور دوسرے افراد اس بھیڑ کا شکار نہ ہوتے۔ ارریہ اور نوادہ سے بھی ماب لنچنگ شروع ہوگئی ہے جو طوفان اترپردیش جھارکھنڈ اور راجستھان سے شروع ہوا تھا، اب اس کی لِپٹیں بہت دور تک پھیل چکی ہے۔

اب یہ سلسلہ اس قدر دراز ہوگیا ہے کہ اس کی روم تھام بظاہر مشکل نظر آرہی ہے۔ ماب لنچنگ کی مذمت ہر کوئی کرتا ہے، عدالت عظمی نے بھی اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی تھی، کئی بار یہ آواز پارلیمنٹ میں بھی گونجی ہے، سڑکوں پر احتجاج بھی ہوا، وزیر اعظم صاحب بھی بارہا اس سلسلہ میں تشویش کا اظہار کرچکے ہیں، کبھی من کی بات کے ذریعہ، کبھی سیاسی جلسوں میں اور کبھی انٹرویو دیتے ہوئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ اب تک یہ خونی سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کیوں اس سلسلہ کو دراز کیا جارہا ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو اس قدر وحشی ہوگئے ہیں کہ انہیں کسی کی جان لیتے ہوئے بھی رحم نہیں آتا، قانون کیوں اس قدر مجبور ہوچلا ہے کہ اس کا خوف ان درندوں کے سخت دلوں سے نکل رہا ہے. کون لوگ ہیں جو اس پورے معاملہ کو شہہ دے رہے ہیں، کن کے اشاروں پر اس خوفناک کام کو بلا خوف و خطر انجام دیا جاتا ہے؟ مسلسل پیش آرہے واقعات کے باوجود پولس محکمہ میں چابکدستی کیوں نہیں آرہی ہے اور اب تک تو اس ماب لنچنگ کے عموما شکار مسلمان ہوا کرتے تھے اور کبھی دلت بھی اس چکی میں پسے جاتے تھے، لیکن جب گاؤں میں آگ لگی ہو تو دور کھڑے تماشائی کو بھی اپنی خیر منانی چاہیے، کہ مبادا کوئی چنگاری ان کے وجود کو بھی جلا کر خاکستر نہ کردے۔ معاملہ اس قدر سنگین ہوگیا ہے کہ اب تو پولس دستہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔

بلند شہر میں پولس والے کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا ہے وہ عام شہریوں کیلیے کسی ڈراؤنے خوف سے کم نہیں ہے ۔ یہ معاملہ ابھی تھما بھی نہیں تھا کہ غازی پور میں مزید ایک پولس والا ان جنونی بھیڑیوں کا شکار ہوگیا۔ جب محافظ خود محفوظ نہ ہو، یکے بعد دیگرے وہ بھی اس کا شکار ہورہے ہوں، تو غریب عوام کا کیا ہوگا؟ وہ کسے اپنا رکھوالا اور محافظ سمجھیں گے؟ اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں کوئی محفوظ نہیں ہے۔ معلوم نہیں کب، کہاں سے کوئی بھیڑ آئے اور راہ چلتے زندگی کا خاتمہ کردے۔ اب تو عمر کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا ہے، کہیں 80 سالہ بوڑھے کو زندہ جلایا جاتا ہے تو کہیں آٹھ سال کا معصوم طالب علم اس نفرت کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ ایک نفرت ہے۔۔۔نفرت کا نتیجہ ہے۔۔۔ایسی نفرت جس میں جنون بھرا گیا ہے۔۔۔ایسا جنون جہاں انسانی ہمدردی اور انسانیت کا گزر تک نہیں ہوتا ہے۔۔۔یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محبت و اخوت کے نام سے بھی ڈر لگتا ہے۔۔۔نفرت کے ان پجاریوں کو کسی معصوم کی چیخ ۔۔۔اور کسی بیوہ کی آہیں نہیں سنائی دیتی ہیں۔۔۔وہ نام نہاد گؤ رکشک دہشت گرد خون پینے والے ’ویمپائر ‘ بن چکے ہیں، جب تک انہیں خون نہیں ملے گا سکون نہیں آئے گا ۔۔۔اس لیے وہ اپنے اس جنون کی تکمیل کےلیے گائے کی آڑ لے کر بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارتے جارہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close