سیاست

دادی کا انداز الگ تھا، پوتے کا انداز الگ

حفیظ نعمانی

مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے کانگریسیوں کیلئے یہ کتنی بڑی بات ہے کہ انہوں نے پندرہ برس سے جڑیں گاڑے ہوئے بی جے پی حکومت کو اُکھاڑکر پھینک دیا۔ اس کے بعد ہونا تو وہ چاہئے تھا جو دیوالی اور عید میں ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور ایک دوسرے کے گلے لگتے۔

پندرہ سال بی جے پی نے اس لئے حکومت کی کہ کانگریسی لیڈروں کو گروہ بندی نے جکڑ لیا تھا۔ موجودہ صدر راہل گاندھی نے جب کمل ناتھ کو مدھیہ پردیش بھیجا تو اُن کے فرائض میں سب سے اہم یہ تھا کہ وہ سب کو ایک کریں اور سنا ہے کہ انہوں نے یہ کام کردیا اور تمام کانگریسیوں نے کاندھے سے کاندھا ملاکر الیکشن لڑا اور یہ اسی اتحاد کا نتیجہ ہے کہ مایاوتی اور اکھلیش یادو کے ووٹ تقسیم کرلینے کے بعد بھی اتنی سیٹیں جیت لیں کہ حکومت بن گئی۔ 12  دسمبر کے نتیجہ کے بعد دوسرے تیسرے دن حلف برداری ہوجانا چاہئے تھی لیکن ہر دن یہ خبر آئی کہ حلف برداری کل ہوگی اور وزیراعلیٰ کے نام پر اختلاف ہے۔ یہ بات کتنے شرم کی ہے کہ جب یہ فیصلہ مان لیا گیا تھا کہ جو صدر راہل گاندھی طے کردیں گے وہ سب کو منظور ہوگا تو پھر اتفاق اور اختلاف کیسا؟

کانگریس کے اقتدار میں سب سے زیادہ مدت اندرا گاندھی کو ملی ان کے پورے دَور میں اختلاف کا ذکر بھی کسی کی زبان پر نہیں آیا اس زمانہ میں ہر صوبہ میں پارلیمنٹری بورڈ ہوا کرتے تھے اور وہ فیصلہ کرتے تھے کہ کس حلقہ سے کسے ٹکٹ دیا جائے ہم نے دیکھا ہے کہ ایک ایک نام پر گھنٹوں بحث ہوتی تھی اور تین تین دن بورڈ کی میٹنگ چلتی تھی اور جس دفتر میں آج سناٹا ہے وہاں میلہ لگا رہتا تھا۔ اور ایک اخبار سے تعلق رکھنے والے کی حیثیت سے معلوم ہوا کہ یہ ہوتا تھا کہ جو فہرست لکھنؤ سے تین دن کی بحث کے بعد جاتی تھی اندراجی اسے دیکھتی بھی نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل کرکے جو فہرست بنا چکی ہوتی تھیں وہ پریس کو دے دیتی تھیں جس میں دو چار نام وہ ہوتے تھے جن کا صوبہ میں ذکر بھی نہیں ہوتا تھا لیکن کہیں سے آواز نہیں آتی تھی کہ یہ کیا ہوا؟

اسے آمریت بھی کہا جاسکتا ہے اور اپنی لیڈر سے محبت بھی راہل گاندھی نے بالکل نیا انداز اپنایا اور صرف اسمبلی کے ممبروں سے نہیں بلکہ ووٹروں سے بھی فون کرکے معلوم کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ ان کی اس فراخ دلی کی قدر کرنا چاہئے تھی اور جواب یہ دینا چاہئے تھا کہ ہم نے اپنا کام کردیا اب آپ اچھی حکومت دے کر اپنا کام کیجئے۔ اسی مدھیہ پردیش میں اندراجی کے زمانہ میں ارجن سنگھ نے پورے مدھیہ پردیش کو ہلاکر رکھ دیا اور اتنی سیٹیں جیتیں کہ آرام سے حکومت بناسکیں محنت کے اعتبار سے ارجن سنگھ ہی اس کے حقدار تھے کہ وزیراعلیٰ بنیں انہوں نے ساتھیوں سے مشورہ کرکے وزیروں کی کابینہ بنائی اور اسے لے کر اندرا جی کے پاس گئے۔ اندراجی نے اسے دیکھا بھی نہیں اور ارجن سنگھ سے کہا کہ میں بلانے والی ہی تھی آپ فوراً پنجاب چلے جایئے وہاں کے گورنر کا عہدہ سنبھال لیجئے۔ ارجن سنگھ جو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے گئے تھے بتاشہ کی طرح بیٹھ گئے اور یہ کہنے کی بھی ہمت نہ کرسکے کہ میں نے تین مہینے گورنر بننے کے لئے رات دن ایک نہیں کیا ہے۔ خاموشی سے گئے اور گورنر بن گئے یہ تھا لیڈر کا فیصلہ جس کی بناء پر انہوں نے 20  برس حکومت کی۔

1969 ء میں اُترپردیش میں چودھری چرن سنگھ حکومت بنا رہے تھے انہوں نے جن ساتھیوں کو مناسب سمجھا ان کو مشورہ کے لئے بلالیا۔ ہر کوئی وزیر بننا چاہ رہا تھا اور سفارشیں بھیج رہا تھا دوسرے دن حلف برداری ہوگئی اور وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے حلف لے لیا لیکن تعداد کے اعتبار سے گنجائش باقی تھی جو وزیر نہیں بنے تھے وہ دوڑ بھاگ کررہے تھے ایک ہمارے دوست بھی تھے جنہوں نے پہلے ہمارے اوپر زور ڈالا کہ ہم چودھری صاحب کہیں ہم نے صاف انکار کردیا تو انہوں نے شہر کے چند علماء کو بھیجا کہ وزارت میں آپ نے کسی شیعہ کو نہیں لیا جبکہ… آپ کی پارٹی سے جیتے ہیں اور ممتاز شیعہ ہیں۔ چودھری صاحب نے کہا کہ میں نے وزارت بنائی ہے اور وزارت میں میرے نزدیک یہ دیکھنا چاہئے کہ جسے وزیر بنایا ہے اور اسے جو ذمہ داری دی جائے گی وہ پوری کرپائے گا؟ اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ سنی کون ہے شیعہ کون ہے۔ ہندو کون ہے مسلمان کون ہے ان میں کس کس برادری اور ذات کا ہے اور کس کا نہیں ہے؟ آپ جس کی سفارش کررہے ہیں وہ صرف اُردو کے ادیب ہیں اور سرکاری کام سب ہندی میں ہوتے ہیں اس لئے ان پر بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ اگر شیعہ مسلک کے کسی کام میں رکاوٹ ہو تو میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں ہر آدمی وزیر بننا چاہتا ہے اور جو بن رہے ہیں وہ اپنی مرضی کا محکمہ چاہتے ہیں اور اس کا نام گروپ بندی ہے۔ اگر مدھیہ پردیش کے کانگریسیوں نے اتنی گھٹیا سیاست اور خودغرضی کے لئے حکومت بنائی ہے تو پھر اس کا انجام وہی ہوگا جو پندرہ سال سے ہورہا ہے اور اب ہوا تو ہم جیسے کسی کو تکلیف نہیں ہوگی اس لئے کہ آپ ہیں ہی اس قابل کہ دشمن کی حکومت میں رہیں اور خون کے آنسو روتے رہیں۔ سب کو سوچنا چاہئے کہ چار مہینے کے بعد لوک سبھا کا الیکشن ہے اور ہر سیٹ نہ جیتی تو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ بات کہ کس گائوں کا وزیر نہیں بنا اور کس شہر کا نہیں بنایا کس برادری کے کتنے بنے بہت گھٹیا بات ہے جب شکایت ہو تو جس طرح سے احتجاج کرنا چاہے کریں اور راہل گاندھی سے کہیں کہ ان کو ہٹا دیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close