سیاست

داغی ممبر حکومت اور سپریم کورٹ

حفیظ نعمانی

پورے سال میں عید کا دن ایسا ہوتا ہے کہ میرے اپنے بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور پرنواسے پرنواسیاں جو ہندوستان میں ہیں وہ میرے پاس ہوتے ہیں۔ ان میں وہ بہوئیں بھی شامل ہیں جن کو بہو بناکر لایا تھا اور بیٹی بناکر رکھے ہوئے ہوں۔ اللہ رب کریم کا کرم ہے کہ ان کی تعداد چالیس سے زیادہ ہے۔

اگر عید کے اس دن جب میرا ہر چھوٹا میرے پاس ہو کوئی غیر آئے اور لان میں کھڑا ہوکر مجھے پھٹکارنے لگے کہ ہم نے تم سے معلوم کیا تھا کہ تمہارے بچوں میں کون کون بیمار ہے اور وہ کس کس مرض کا مریض ہے؟ جس کا جواب تم نے یہ دیا کہ ہم نے زمین خرید لی ہے جلد عمارت بن جائے گی اس میں اسپتال کھل جائے گا۔ تو اپنے ہر عمر کے بچوں کے سامنے ہماری کتنی بے عزتی ہوگی؟ اور ہم پھٹکارنے والے سے جتنے شرمندہ ہوں گے وہ تو الگ رہا اپنے بچوں کے سامنے ہم کیسے آنکھ اٹھائیں گے۔ اور بچے بھی کیا سوچیں گے جو اپنے دادا اور نانا کو بہت قابل سمجھتے آئے ہیں؟

ہم چار دن سے مسلسل دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم مودی جی کے چہرے کا رنگ بالکل پیلا ہوتا جارہا ہے چہرہ کی وہ سرخ چمک جو اُن کی شناخت تھی وہ دن بدن ہلکی ہوتی جارہی ہے۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ روپیہ جس کے بارے میں وہ منموہن حکومت کو بار بار آڑے ہاتھوں لے چکے تھے اس کی بے قدری اور پیٹرول اور ڈیزل کی ہر دن قیمت میں اضافہ اور اس کے نتیجہ میں ہر دن مہنگائی میں اضافہ وزیراعظم کا خون جلا رہا ہے۔ لیکن انہیں شاید یہ بات بھی رات کو سونے نہیں دیتی کہ انہوں نے وزیراعظم بننے سے پہلے جتنے سنہرے خواب دکھائے تھے ان میں سے وہ ایک کی تعبیر بھی نہ بتاسکے۔

وزیراعظم نے حلف لینے کے بعد جو تقریر پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں کی تھی اسے حکومت کے منشور کا درجہ دیا جانا چاہئے اسی تقریر میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ صرف ایک سال کے اندر جتنے داغی ممبر ہیں وہ جیل میں ہوں گے اور جو پاک صاف ہوں گے وہ عزت بڑھائیں گے۔ یہ بات ایک وزیراعظم کے لئے کتنی بھاری ہے کہ ان کی تقریر میں جس بات پر سب سے زیادہ اور دیر تک تالیاں بجی تھیں وہی بات ہے جو سوا چار سال کے بعد سپریم کورٹ معلوم کررہا ہے کہ کتنے ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف مجرمانہ معاملے زیرالتوا ہیں اور ان معاملوں کا اسٹیٹس کیا ہے؟

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں اس وجہ سے اس مسئلہ پر سب سے زیادہ زور دیا تھا کہ کیونکہ ہر ٹی وی اور ہر اخبار نتائج آنے کے بعد مسلسل چھاپ رہا تھا کہ پارلیمنٹ کے کتنے ممبروں کے اوپر قتل، ڈکیتی، اغوا، غبن، اقدام قتل جیسے سنگین مقدمے زیرسماعت ہیں اور ان میں کتنے کس پارٹی کے ہیں؟ ہم نہیں سمجھتے کہ اتنے مضبوط وزیراعظم جن کے پاس 280  تو صرف بی جے پی کے ممبر ہوں اور این ڈی اے کی پارٹیوں کو ملالیں تو 325  ہوجائیں وہ ان داغیوں پر ہاتھ ڈالنے سے کیوں ڈر گئے۔ ہم نے ہی نہیں پورے ملک نے یہ دیکھا ہے کہ وہ صرف آر ایس ایس سے ڈرتے ہیں اس کے علاوہ وزیراعظم پوری دنیا کو ٹھوکر سے مارتے ہیں۔ اگر یہی بات ہے تو آر ایس ایس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس کو بھی داغی اور پاک صاف سے کوئی مطلب نہیں بس وہ ان کی جے بولے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ وزیراعظم نے جو 2014 ء میں کہا تھا پھر سینٹرل ہال میں کہا اور اس کے بعد وہ ہر مہینے کچھ کچھ من کی بات میں کہتے رہے ان وعدوں کو عملی جامہ اس لئے نہیں پہنا سکے کہ آر ایس ایس نے روک دیا۔ آج وہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ ان کا سب سے محبوب نعرہ تھا کالا دھن اور بھرشٹاچار۔ اسی کالے دھن کے بل پر انہوں نے روپئے کو ڈالر کے برابر کرنے کا خواب دکھایا تھا اور اس کے نام پر ہی انہوں نے نوٹ بندی جیسا خطرناک قدم اٹھایا (حقیقت جو بھی ہو) اسی کی وجہ سے ایک بہت قابل ریزرو بینک کے گورنر کو نکالا اور گجرات سے پٹیل کو لائے وہ وزیراعظم کے لئے جتنی بھی ڈنڈی مار سکتا تھا مارنے کے بعد بھی یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ 99/3  فیصدی نوٹ واپس آگئے۔ واضح رہے کہ ابھی نیپال کے نوٹ باقی ہیں اور کروڑوں غیرملکوں میں ہونے کی وجہ سے جمع نہیں کرسکے ان میں میری بڑی بہو بھی ہے جس نے بتایا کہ میری فلاں الماری میں نوٹ رکھے ہیں وہ بدلوا دیجئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ جس الماری میں تھے اس کی چابی وہ اپنے ساتھ مدینہ لے گئی تھی اور وہ جلانا پڑے۔

ایک وزیراعظم کے لئے یہ کوئی معمولی بات ہے کہ اس کے کسی فیصلہ کی وجہ سے ایک اخبار کے مطابق 200  آدمی بینک سے اپنے ہی روپئے نہ نکال سکے اور دوا یا غذا نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے۔ کتنا ہی پتھر دل آدمی ہو جب کفن میں لپٹے ہوئے دو سو جنازے دیکھے گا اور اسے معلوم ہوگا کہ ان کی موت اس کی وجہ سے ہوئی ہے تو وہ پیلا ہوجائے گا۔ کہتے ہیں کہ دنیا کا پالن ہار جب کسی کو برباد کرنا چاہتا ہے تو اس کی روح نہیں نکالتا اس کی عقل واپس لے لیتا ہے۔ اور اس خالی خانہ میں غرور، ضد اور میں رکھ دیتا ہے پھر وہ ہر فیصلہ ایسا ہی کرتا ہے جس سے اسے نقصان ہو اور لوگ اس سے کٹتے چلے جائیں۔ اور یہ اسی کا اثر ہے کہ سپریم کورٹ کے جج معلوم کررہے ہیں کہ داغی ممبر کتنے ہیں؟ اور جواب جارہا ہے کہ ہم نے کتنی فاسٹ ٹریک عدالتیں بنا دی ہیں۔ نوجوان روزگار مانگ رہے ہیں تو وہ بتا رہے ہیں کہ پکوڑے بناکر بیچنا بھی روزگار ہے۔ جب 130  کروڑ انسانوں کے آباء، دادا، نانا کا یہ حال ہوجائے تو ملک کی سلامتی کے لئے دعا کرنا چاہئے اور اپنے وزیراعظم کی صحت کے لئے فکر کرنا چاہئے۔

رہی یہ بات کہ انہوں نے داغیوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ تو صرف ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ انہیں بھی اندازہ ہوگیا کہ حکومت بنانے اور بگاڑنے میں داغی ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں اگر جیل بھیج دیا تو حکومت کون بنوائے گا؟ اسی لئے وہ تو اس پر بھی تیار ہوگئے کہ ان کے خلاف چلنے والے مقدمے واپس لے لئے جائیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close