سیاستہندوستان

دامن پر خون کے داغ، زبان پر عدم تشدد

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے 45 ویں من کی بات ایڈیشن میں کہا کہ تشدد اور ظلم سے کسی مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جیت ہمیشہ امن اور عدم تشدد کی ہی ہوتی ہے۔

حفیظ نعمانی

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے 45 ویں من کی بات ایڈیشن میں کہا کہ تشدد اور ظلم سے کسی مسئلہ کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جیت ہمیشہ امن اور عدم تشدد کی ہی ہوتی ہے۔ دو دن پہلے وزیراعظم کے یہ الفاظ سن کر دماغ میں گدگدی ہونے لگی کہ وزیراعظم کے سامنے آئینہ رکھ دیا جائے۔ پھر مہاتما گاندھی کی ایک بات یاد آئی کہ – انہوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ کسی سخت خط کے جواب میں میرے قلم سے بھی کوئی ایسا لفظ نکل جاتا ہے جو اس کا جواب ہوتا ہے اور میرے خیالات کا ترجمان۔ لیکن بعد میں اسے پڑھتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ اس سے اسے تکلیف ہوگی اور اسے میں کاٹ دیتا ہوں حالانکہ اسے کاٹتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اپنی انگلی کاٹ رہا ہوں۔ اور پھر کوئی کہا جملہ لکھ کر اپنی بات ختم کردیتا ہوں۔ ہم نے بھی دو دن چپ رہ کر یہ چاہا کہ اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے وزیراعظم کی خدمت میں کچھ عرض کریں۔

وزیراعظم ہمیں معاف کریں ان کے منھ سے عدم تشدد اچھا نہیں لگتا اور نہ تشدد اور ظلم پر ان کو تنقید کا حق ہے۔ ہم اس گجرات کا ذکر نہیں کرنا چاہتے جہاں سولہ برس کے بعد بھی نرودا پاٹیا میں مسلمانوں کو جلاکر مارنے کے الزام میں کل بھی تین ملزموں کو 10  سال کی سزا دی ہے حالانکہ اگر اب جتنے بھی مقدمے زیرسماعت ہیں وہ سب بند کرکے تمام مجرموں کو رہا کردیا جائے تو کون اس کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا؟ ہم تو یہ کہنا چاہتے ہیں جس وزیراعظم کو بغیر تشدد کے سو سے زیادہ ان انسانوں کی موت سے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی جن کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنا سارا روپیہ بینک میں رکھ دیا تھا اور وہ جب بینک میں اپنے روپئے نکالنے کے لئے گئے تو کھڑے کھڑے مرگئے یا روپیہ نہ نکل پانے کی وجہ سے بغیر دوا کے یا بھوکے پیاسے مرگئے۔ انہیں نہ کسی جنرل ڈائر نے مروایا، نہ حافظ سعید اور اظہر مسعود کے غنڈوں نے گولیوں سے بھونا۔

اور وزیراعظم روز پڑھ رہے یا سن رہے ہوں گے کہ ہر دن کسی مسلمان کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا صرف اس لئے کہ وہ اپنے کھیت سے ان آوارہ گایوں یا بچھڑوں کو بھگا رہا تھا جو اس لئے کھیت میں گھسے ہوئے تھے کہ اب ان کو لاٹھی مارنا سب سے بڑا جرم ہے۔2014 ء سے پہلے بھی ملک میں کہیں کہیں سے یہ خبر آتی تھی کہ گائے کاٹنے کی وجہ سے علاقے کے ہندوئوں نے ایک کھیت میں گائے کی کھال اس کا سر اور اس کے پایے دیکھ کر ان لوگوں کو مارا اور بند کرادیا۔ لیکن 2014 ء کے بعد گائے کی دم کے بال بھی نہیں ملتے مگر جس کو چاہا کہہ دیا کہ وہ گائے کا گوشت لارہا تھا یا لینے جارہا تھا یا اس کے فریج میں رکھا تھا۔ یہ حرکت کرنے والے سب کے سب وہ ہیں جن کے بال کالے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ مودی جی کا بچپن کہاں کہاں گذرا؟ لیکن ہم ہر گائے کے معاملے میں پاگل ہونے والے سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس ہندو کی عمر 80  سال یا اس سے دو چار سال زیادہ ہو اسکے ہاتھ میں گیتا دے کر معلوم کرو کہ کیا 1947 ء سے پہلے بقرعید میں پورے ہندوستان میں صرف گائے کا گوشت نہیں بکتا تھا اور گوشت کھانے والا ہر مسلمان کیا صرف گائے کا گوشت نہیں کھاتا تھا اور کیا کسی شہر میں بھینس کا گوشت بکتا تھا؟

ہم 1935 ء سے 1946 ء تک بریلی کے محلہ شاہ آباد میں رہے جو بریلی کا اس وقت شمال کا آخری محلہ تھا۔ وہاں بھی ہر مسلمان گائے کی قربانی کرتا تھا اور بقرعید سے دو تین دن پہلے گایوں کے ریوڑ شہر بھر میں بکنے کے لئے آتے تھے اور خریدنے والے خریدکر لے جاتے تھے۔ ہم ہر گئو رکشک سے کہنا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے باپ 80  یا زیادہ کے ہوں تو ان سے ورنہ جو بھی پریوار میں بزرگ ہو اس سے معلوم کرو کہ ہماری گائے ماتا ہر گھر میں کٹتی رہی اور تم چوڑی پہنے کیوں بیٹھے رہے؟ کسی عورت یا جانور کا ماں ہونا ملک کی آزادی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ ہم اگر مسلمانوں کی بات کریں تو جس دن آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا کہ کون تمہارے لئے کیا ہے؟ مثلاً کس رشتہ دار لڑکی سے تم شادی کرسکتے ہو اور کون تمہارے لئے نامحرم ہے اس دن مسلمان پابند ہوگیا۔ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ جب مکہ فتح ہوگیا یا مسلمانوں کی کس کس ملک میں حکومت ہوگئی۔ یہی بات ہندو بھائیوں کو بتانا پڑے گی اور وزیراعظم سے ہم معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ گائے ملک آزاد ہونے کے بعد ماں کیسے ہوگئی اور انگریزوں کی حکومت میں ہر شہر میں گائے کا گوشت کیوں بکتا تھا؟ اور آج بھی بنگال، منی پور، گوا، میگھالیہ اور تمام شمال مشرقی ریاستوں میں گائے کیوں کٹ رہی ہے؟ جبکہ وہاں مودی کا پرچم لہرا رہا ہے؟

یہ کوئی معمولی بات ہے کہ جہاں جس کو چاہا پیٹ پیٹ کر مار ڈالا صرف اس لئے وہ کمزور ہے اور اس کے گھر والے انتقام نہیں لے سکتے اور پوری پولیس سنگھی غنڈوں کے ماتحت ہے۔ اگر 20  کروڑ مسلمانوں کے مقابلہ سے وزیراعظم صرف پولیس کو ہٹالیں اور ایمانداری سے اعلان کردیں کہ جس پولیس والے نے گئورکشک کا ساتھ  دیا اسے لائن حاضر کردیا جائے گا۔ اور صرف اعلان نہ کریں بلکہ دس بیس کو لائن حاضر کردیں تو مسلمانوں کو شکایت نہیں ہوگی وہ اپنا حساب خود صاف کرلیں گے۔ ہر اس ریاست میں جہاں بھگوا سرکار ہے پوری پولیس غنڈوں کے ماتحت ہے اور اب تک سو سے زیادہ مسلمان تشدد اور ظلم کا شکار ہوچکے ہیں وہی ظلم اور تشدد جس کے خلاف وزیراعظم من کی بات میں سواسو کروڑ سننے والوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔ اگر ظلم اور تشدد کے واقعی وزیراعظم خلاف ہوتے تو کب کا استعفیٰ دے چکے ہوتے۔ عدم تشدد امن کے حامی اور تشدد کے خلاف گاندھی جی تھے جنہوں نے چوری چورا کی تحریک صرف ایک کی موت سے متاثر ہوکر واپس لے لی تھی۔ اگر ہم اپنے من کی بات کریں تو صرف یہ ہے کہ مودی جی کو معلوم ہے کہ انہیں مسلمان ووٹ نہیں ملے گا اور وہ اس لئے نہیں کہ مسلمان کانگریسی ہے بلکہ اس لئے نہیں ملے گا مودی جی نے چار سال اس کی کوشش کی ہے کہ مسلمان ان سے نفرت کرنے لگے تاکہ ہر ہندو محبت کرنے لگے۔ اب یہ ان کی پالیسی ہے کہ کروڑوں ہندو ان کے ساتھ نہیں آیا اور مسلمان ان کے ساتھ چلا گیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close