سیاست

دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے!

مسلمان مایوس نظر آرہے تھے کہ اچانک خوشی کی لہر آگی کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں مل پایی۔ مایوسی خوشی میں بدل گئی۔

محمد انور حسین

 (اودگیر)

کرناٹک الیکشن کے رزلٹ آگیے، وہ بھی کسی آی پی ایل میچ کی طرح ۔ ایک وقت لگ رہا تھا کہ بی جے پی کو اکثریت مل جاے گی۔ مسلمان مایوس نظر آرہے تھے کہ اچانک خوشی کی لہر آگی کہ بی جے پی کو اکثریت نہیں مل پایی۔ مایوسی خوشی میں بدل گئی۔

دوسری خوشی تب ملی جب کانگریس نے جے ڈی ایس کی تایید کا اعلان کردیا۔ محسوس ہوریا تھا کہ کمار سوامی حلف لیں گے۔ لیکن جمہوریت کی بقا کے لالے پڑ گیے۔ کون بنے گا مکھیے منتری کے کھیل کے ساتھ کون بنے گا کروڑ پتی کا کھیل شروع ہوگیا۔

معاملہ ڈرامائی شکل اختیار کر گیا۔ گورنر نے ثابت کردیا کہ وہ بی جے پی کے وفادار ہیں۔ معاملہ  کورٹ پہنچا اور راتوں رات سنوائی ہوہی، بی جے پی کے چیف منسٹر کو حلف بھی دلوایا گیا، چیف منسٹر نے سیکریٹریز کے ساتھ میٹنگ بھی کی اور کسانوں کو لون منظور کردیا، کئ تبادلہ بھی کردیے جبکہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دیا گیا جبکہ دو یا تین میں یہ کام کیا جا سکتا تھا۔ خبر آئی کہ کوٹ نے کل تک کا وقت دیا ہے۔ بہرحال جمہوریت اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہی ہے۔

 ان ہی ہنگاموں کے درمیان خدا کا کرم ہوا کہ رمضان کا مہینہ آگیا سب اپنا اپنا چاند دیکھنے میں مشغول ہوگیے۔ سحر، افطار، ہریس، دہی بڑے، تراویح اور تلاوت میں ملت مصروف ہو گئی۔ کرناٹک کے مسلمان اس لیے بھی زیادہ خوش ہوگیے کہ الیکشن کے فوری بعد رمضان آگیے۔ دانستہ اور بظاہر نا دانستہ غلطیاں جو الیکشن میں ہو گئ ہیں ان سے توبہ و استغفار کا بہترین موقع ہاتھ آیا ہے۔

سوال مگر یہی ہے کہ کب تک آخر کب تک کانگریس کی جیت پر ہم تالی پیٹتے رہیں گے اور جہاں کہیں کانگریس کمزور محسوس ہورہی ہو تو ہم مایوس ہوتے جاییں گے۔

اب 2019 بھی قریب ہے۔ وہی ہوگا۔ ملت کے رہبران مل بیٹھ کے طے کریں گے کہ سیکولر طاقت کو مضبوط اور بی جے پی کو شکست  کس  طرح دے سکتے ہیں۔ بہت غور وخوص کے بعد یہ اعلان ہوگا کہ نام نہاد سیکولر طاقتوں کا تعاون کیا جاے گا۔ شاید اس بات پر کم ہی غور ہوگا کہ واقعی ان نام نہاد سیکولر طاقتوں کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔ ہمارے اکثر جگہ کے یونایٹیڈ، یا متحدہ فورمس اور محاذ مل کر ایسا ہنگامہ کریں گے  کہ الیکشن آتے آتے ووٹ پولارایز ہوجاے گا اور نتیجہ وہی جو ہم نہیں چاہتے ہیں۔

آخر اس مرض کی دوا کیا ہے۔ اس کا جواب ہماری اب تک کی تاریخ ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے کے باوجود ہم پر الزام ہے کہ ہم ملک کے وفادار نہیں ہیں۔ تقسیم ملک نے اس الزام کو ہمارے نام کردیا۔ جس قوم پرستی کے جذبہ نے ہم کو یہ الزام سہنے پر مجبور کیا تھا وہی جذبہ قوم پرستی ہمارے اندر آج بھی باقی ہے۔ دوسری وجہ ہم نے سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھ کر اس سے کنارہ کشی اختیار کی۔ ملت کے مذہبی رہنما سیاست میں ہمارے رول کو کوئی شرعی جامہ نہیں پہنا سکے۔ تیسری وجہ تعلیم اور معاش میں ہم بہت پیچھے رہ گئے۔

  ایک لمبے عرصے تک ہم کو یہ گمان تھا کہ ہم کنگ میکر ہیں لیکن آہستہ آہستہ اس بھرم کا غبارہ بھی پھوٹ گیا۔ آیندہ آنے والے الیکشن میں بھی ہماری صورتحال کچھ مختلف ہونے کا امکان نہیں ہے۔

  مستقبل کیسا ہو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر ہم مستقبل قریب کی منصوبہ بندی کرلیتے ہیں لیکن مستقبل بعید پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ ملت کے دانشوروں کو اب یہ سوچنا پڑے گا کہ اس ملک عزیز کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے ہم سیاست میں کس طرح اپنا رول ادا کرسکتے ہیں۔

ملک میں موجود مسلمانوں کی سیاسی پارٹیوں نے بھی اپنا اعتیبار کھو دیا ہے۔ ان سے صرف اس صورت میں کچھ امید بنتی ہے کہ وہ اپنی قومی شناخت کو ختم کردیں اور پوری انسانیت کی بھلائی کے بارے میں غور کریں اور جمہوریت میں رہتے ہوے اپنی پارٹیوں میں جمہوری طرز عمل کو اپناییں۔

  کچھ اہم اور ضروری اقدام جو کیے جانے چاہئے وہ اس طرح ہوسکتے ہیں۔

* مسلمانوں کو ایک نیے سماجی ڈھانچے میں ڈھلنے کی ضرورت ہے جس میں دیگر قوموں کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر ہوجاییں۔

* مسلمانوں کے ذہین اور باصلاحیت افراد کو  عملی سیاست میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا ہوگا۔

* نوجوانوں کو سیاست میں آگے آنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال اس ملک کی تعمیر نو کے لیے لگانا ہوگا۔

* ملک کی اہم یونیورسٹیز میں پڑھنے والے مسلم طلبا اپنا مستقبل ملک کے باہر تلاش نہ کریں بلکہ اس ملک کی سیاست میں حصہ لینے کے لیے آگے آییں۔

* صرف مسلمانوں کی الگ سیاسی پارٹی بنانے سے کام نہیں ہوگا بلکہ سیکولر ایجڈہ رکھنے والی مختلف سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوکر اپنا لوہا منوا نا ہوگا۔

*صرف حقوق اور مطالبہ کی سیاست سے آگے جاکر ملک میں جمہوری قدروں کی جو پامالی ہورہی ہے اس کو روکنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

*مسلمانوں کی طرف سے پوری انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے سیکڑوں خدمت خلق کے ادارے چلاے جانے کی ضرورت ہے۔

اگر اس طرح کی کچھ کوششیں سنجیدگی کے ساتھ کی جاییں تو مستقبل میں ہم اس ملک کی تقدیر کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت اور ان کی بھلائی کے کام ہی تو ہمارے اصل کام ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close