سیاست

دلت سے محبت کرنے والے دودھ کے مجنوں

وزیراعظم اور امت شاہ نے اپنی پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو حکم دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دلتوں کو قریب کریں اور ان کی وحشت دور کریں۔

حفیظ نعمانی

آج کل وزیراعظم کو سب سے زیادہ فکر ان کی ہے جن کو دلت کہا جاتا ہے۔ وزیراعظم اور امت شاہ نے اپنی پارٹی کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو حکم دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ دلتوں کو قریب کریں اور ان کی وحشت دور کریں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم مشورہ یہ دیا گیا ہے کہ ان کے گھر جائیں اور وہیں کھانا کھائیں۔ وزیر اعظم اور امت شاہ تو راجہ مہاراجہ ہیں وہ حکومت بننے کے بعد پھر دلتوں کی طرف دیکھیں یا نہ دیکھیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ ایم پی جو 2014 ء میں کانگریس کے خلاف چلنے والی آندھی کے گرے ہوئے آموں کی طرح دسترخوان کی زینت بنے ہیں اور جو دلتوں کے برابر سے گذرنے کے بعد اشنان ضروری سمجھتے ہیں وہ دلتوں سے کیسے گلے مل سکتے ہیں؟

اس حکم کی تعمیل میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے خوب خوب لطیفے مشہور ہورہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جس دلت کا گھر پختہ اور صاف ہو اس کو حکم دیا جاتا ہے کہ حکومت کے لے پالک تمہارے گھر کھانا کھائیں گے۔ اور جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کا سامان، اس کا پکانے والا اور برتن سب کھانے والوں کے گھر سے آتے ہیں اور وہ اپنے گھر سے آئے ہوئے فرش پر بیٹھ کر اپنا ہی کھانا اپنے باورچی کا پکایا ہوا کھاکر فوٹو کھنچواتے اور چھپواتے ہیں۔

ہزاروں برس کے بگڑے ہوئے سماج کو اگر دو آدمی بدل سکتے تو ملک میں اب تک ہزاروں برہمن، ٹھاکر اور راجپوت لڑکیاں دلت لڑکوں کے گھر میں ہوتیں اور ہزاروں دلت لڑکیاں برہمنوں اور ٹھاکروں کے گھر میں ہوتیں۔ جس زمانہ میں بھیک کی طرح وزیراعظم اور امت شاہ دلت ووٹ مانگ رہے ہیں اور جن کی خاطر کھانے کے ناٹک ہورہے ہیں اس کی اصلیت یہ ہے کہ 20  اپریل کو ایک تعلیم یافتہ لڑکے نے نچلی ہر سطح پر ناکام ہونے کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے فریاد کی تھی کہ میں اپنی شادی میں گھوڑی پر بیٹھ کر بارات لے جانا چاہتا ہوں مجھے پولیس اجازت نہیں دیتی تو جواب میں ہائی کورٹ کے جج صاحب نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے تھے اور کہا تھا کہ اس معاملہ میں پولیس فیصلہ کرے گی۔ اس سے بھی زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ مدھیہ پردیش کے ضلع اُجین کی تحصیل مہد پور کے ایس ڈی ایم نے تحصیل کی تمام پنچایتوں کے سرپنچ کے سکریٹری کو یہ حکم دیا ہے کہ گائوں میں کسی بھی دلت خاندان میں شادی ہو یا کوئی دلت بارات نکالے تو تین دن پہلے تھانے میں اطلاع دے اور ہیڈ کانسٹبل سے بارات کی تحریری اجازت لے۔ (یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟)

اہم مسئلہ یہ ہے کہ جو آج ایس ڈی ایم ہے وہ سال دو سال کے بعد ترقی کرتے کرتے سٹی مجسٹریٹ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بھی ہوجائے گا اور جیسے اس کی ڈگریاں اس کے ساتھ ہوں گی اسی طرح اس کی وہ ذہنیت بھی اس کے ساتھ ہوگی کہ دلتوں کو تین دن پہلے ایک سپاہی سے تحریری اجازت لینا ہوگی۔ اس دستور کے پابند ہوتے ہوئے کہ جو نریندر مودی، امت شاہ اور راج ناتھ سنگھ اور موریہ کو برابر کا درجہ دیتا ہے ایسے ایس ڈی ایم کو ایک دن بھی کرسی پر بیٹھنے کی اجازت ہونا چاہئے؟

مسئلہ سیاسی اور سماجی ہو تو اس کا تدارک سال دو سال یا دس بیس سال میں ہوسکتا ہے لیکن جو ہزاروں برس سے مذہبی ہو اور ہر پیدا ہونے والے بچہ اور بچی کو ماں کے دودھ کی طرح پلایا جائے اسے ایک دلت کو وزیر بنانے اور 50  کو پارلیمنٹ کا ممبر بنانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بات صرف ان کی نہیں جو مورتی پوجا کرنے والے ہندو ہیں اور اپنے کو سناتن دھرمی کہتے ہیں بلکہ چودھری چرن سنگھ جیسے بھی اپنے اکلوتے بیٹے اجیت سنگھ کی تلک کی رسم میں پنڈتوں کو پانچ منٹ اشلوک پڑھنے کے بعد یہ کہہ کر روک دیتے ہیں کہ بس کرو پنڈتو میں آریہ سماجی ہوں۔ اسی چودھری چرن سنگھ سے جب ہم ایک امیدوار کو کچھ روپئے دینے کی سفارش کرتے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ میں اگر اسے 10  ہزار دے بھی دوں تو شہر کے الیکشن میں کیا بھلا ہوگا اور اسی دس ہزار میں میرے چار چمار الیکشن لڑیں گے۔ اور انہوں نے جب وزارت بنائی تو یہ پہلی بار ہوا کہ ایک ڈپٹی منسٹر نے اپنے کمرہ پر پلیٹ جو لگوائی اس میں نام کے آگے اتنا ہی موٹا چمار لکھوایا جو 1969 ء کے اُترپردیش کے ریکارڈ میں آج بھی مل جائے گا۔

اور اس خبر پر بھی خوب شور مچ چکا ہے کہ 30  اپریل کو راجستھان کے ضلع بھیلواڑہ گووردھن پورہ گائوں میں ایک دلت کو اپنی بارات کے دوران گھوڑے پر سوار ہونے کی وجہ سے مارا پیٹا گیا اور اسی گائوں کے کچھ لوگوں نے دولھا کو گھوڑے سے اُترنے پر مجبور کردیا۔ اب نام کے لئے کیس درج بھی ہوا اور گرفتاری بھی ہوئی لیکن یہ سب ڈرامہ ہے۔

دلت سماج میں وزیر بھی ہیں صوبوں میں وزیر بھی ہیں ایم پی اور ایم ایل اے بھی ہیں لیکن کتنے ہیں جنہوں نے مایاوتی کا کردار ادا کیا کہ برہمن اور ٹھاکر کو وزیر بنایا لیکن حلف لینے سے پہلے اپنے پائوں کو چھونے پر مجبور کیا اور بڑے سے بڑے سرکاری افسر سے اپنے جوتے صاف کرائے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہزاروں برس انہیں جس طرح رکھا گیا ہے ا ن میں اگر کچھ بڑے ہو بھی گئے تو ان کے اوپر ریزرویشن کی مہر لگی ہوئی ہے۔ اور ہر دن ان کو دھمکی ملتی ہے کہ ریزرویشن ختم کردیا جائے گا۔ یا اب ان کو دیا جائے گا جو ضرورتمند ہیں یہ بات ہر دلت جانتا ہے کہ اگر ان کے خلاف کوئی فیصلہ ہوا تو تمام ہندو ایک ہوجائیں گے اس لئے جو ہمت بھی کرتے ہیں انہیں پوری حمایت نہیں ملتی ورنہ دلتوں کو حمایت کی شرط لگا دینا چاہئے تھی کہ ان کی ہر بارات میں دولھا گھوڑے پر جائے گا اور ضلع کے افسر اور سرکاری ذمہ دار جو اعلیٰ ذات کے ہوں گے وہ بھنگڑا ڈالیں گے۔ حکومت ایسا نشہ ہے کہ اس کے لئے ہر شرط مانی جاسکتی ہے مگر اس کے لئے بنیادی شرط اتحاد ہے اور جہالت اور غربت اتحاد نہیں ہونے دیتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close