سیاست

دل ملے نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

محمد شمشاد

11 مارچ کو اتر پردیش کے گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا اور بہار کے ارریہ لوک سبھا، جہاں آبادا ور بھبوا اسمبلی کیلئے ضمنی انتخاب کرا ئے گئے تھے جسکے بہت ہی چونکانے والے اور بھا جپا کیلئے جھٹکے دار نتائج آئے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بجا ہوگا کہ اس نتیجہ نے بھا جپا کو چاروں چت کردیاہے اور اسے دو بہت ہی اہم سیٹوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اسے صرف بہار کے بھبوااسمبلی سیٹ پر ہی صبر کرنا پڑا اس انتخاب میں سب سے چونکانے والا نتیجہ اترپر دیش میں دیکھنے کو ملااتر پردیش کے دو اہم لوک سبھا گورکھپورجہاں سے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور پھو لپور جہاں سے نائب وزیراعلی کیشو پرشاد موریہ مستعفی ہو کر اترپردیش کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کی کرسی سنبھا لی تھی ان دونوں ہی حلقو ں گورکھپورمیں وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور پھول پور میں نائب وزیراعلی کیشو پرشاد موریہ کی ساکھ دائو پہ لگی تھی ان کے ساتھ ساتھ سنگھ پریوار اور بھاجپانے اپنے امیدوار کی جیت کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے اس ضمنی انتخاب میں نہ صرف نریندر مودی کی عزت دائو پر لگی ہوئی ہے بلکہ پوری بھاجپا و سنگھ پریوارکے ساتھ ساتھ امیت شاہ، یوگی، موریہ اور نتیش کمار کی عزت ہی دائو پر لگ چکی تھی اس ضمنی انتخاب کا ہی نتیجہ ہے کہ کل تک جو بھاجپا لوک سبھا کی 284 کے بنا پراکیلے دم پر مرکزی حکومت کا دم بھرتی تھی وہ آج272 سیٹوں پہ سمٹ کر این ڈی اے کی پارٹیوں کے دبائو میں آچکی ہے.

 بھارتی سیاست میں اتر پردیش اور بہارہر وقت اہمیت کا حامل رہا ہے آزادی سے لیکرآج تک اس ملک میں جو بھی مرکزی حکومت قائم ہوئی ہیں اس میں ان دو ریاستوں کا بہت ہی اہم رول رہا ہے 2014کی نریندر مودی کی اس بھاجپائی حکومت کو بنانے میں بھی 100 ممبران پار لیمنٹ ان ہی دو صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ کہا یہ جاتا ہے کہ جس نے انہیں کھویا اس نے بھارت کی مرکزی حکومت کو کھودیا اسی وجہ کر سیاسی طور سے انکی ایک خاص نظریہ سے تجزیہ کیا جاتا ہے یہی وجہ ا سکے ہر انتخاب کو ایک نئے انداز سے دیکھا جاتا ہے آج پھر یہاں کے ضمنی انتخاب اہمیت کا حامل ہے ایک طرف اس ملک کو فسطائی طاقتیں اور انکے رہنما اپنے زہریلے اعلانات، بیانات اور تقریروں کے ذریعہ یہا ں کے رہنے والوں کو باٹنے کیلئے طرح طرح کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں تودوسری جانب یہاں کی سیکولر پارٹیاں آپس میں گتم گتھا کیلئے ایسے تیار بیٹھی رہتی ہیں جیسے انہیں نہ ملک کی اتحاد کیلئے کوئی فکر ہے اور نہ ہی اس ملک کے عوام کاہی کوئی خیال، ایسے ماحول میں اگر ملک کے سیکولرزم کے بچانے کیلئے کہیں سے کوئی امید نظر آجائے تو خوش ہونا یقینی ہے اتر پردیش کے لوک سبھا و اسمبلی انتخاب میں جہاں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی و مایاوتی کی بہوجن پارٹی بالکل حاشیہ پر آگئی تھی وہیں اس انتخاب میں بھاجپاکوصفر پہ بولڈکر اور دونوں ہی سیٹوں پر کامیا بی حاصل کرکے سماجوادی پارٹی نے بھاجپا کو حاشیہ پر کھڑا کردیا ہے جس طرح کانگریس نے راجستھان کے ضمنی انتخاب میں نہ صرف اپنا کھاتہ کھولا تھا بلکہ ان سبھی پر کامیابی حاصل کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ ابھی وہ مری نہیں ہے.

 2019 کے لوک سبھا کے انتخاب کے قبل سماجوادی پارٹی اور بہوجن کے درمیان جو قربت ہوئی ہے اب اس کا نتیجہ سامنے آچکا ہے جو کافی اہم سوال بھی تھا کچھ مبصرین انکی اس مفاہمت کو اتحاد کا پہلا قدم مانتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے اتحادکا اچھا شگن کا نام دیتے ہیں اسے ووٹ شیئر کے لئے تال میل کا نام دیا جائے یا مصلحت پسندی کا،بہر حال یہ سکولر پارٹیوں کے اتحاد کا پہلا نمونہ ضرور کہا جا سکتا ہے.

2015کے انتخاب سے قبل پورا ملک اس بات کو اچھی طرح سے جانتا تھا کہ بہار میں لالو اور نتیش ایک ساتھ نہیں آسکتے تھے لیکن لالو پرشاد نے نہ صرف ایک ساتھ بیٹھ کر ایک مثال قائم کی تھی بلکہ ملائم اور مایاوتی کو بھی اسی طرح کا اتحاد کرنے کا مشورہ دیا تھا اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے قبل ملائم سنگھ یادو اور مایا وتی ایک ساتھ تو نہیں آ سکے لیکن اس ضمنی انتخاب میں مایاوتی نے جس عقلمندی سے اپنے امیدواروں کو انتخاب سے باہر رکھ کراوراندرونی طور سے جی توڑ محنت کر کے سماجوادی پارٹی کی حمایت کرتے ہوئے با ضابطہ طور سے اپنے ووٹروں کو بھاجپا کو سکشت دینے کی حکمت اپنائی تھی جو نہ صرف بہتر بلکہ بہت ہی اچھا کام کیاتھا اس کا فائدہ مسلمانوں نے بھر پور اٹھایا اور انکا ووٹ صرف ایک پارٹی یعنی سماجوادی کو ہی گیااگریہ کام مغربی بنگال میں بایاں بازو اور ممتا بنرجی کے درمیان ہو جاتا اوراسی طرح اگر جھارکھنڈ میں مہا اتحاد کے اندر جھارکھنڈ مکتی مورچہ، جے وی ایم، کانگریس اور راشٹریہ جنتادل کے درمیان ہوجاتاتو شائدبھاجپا کیلئے وہاں کھاتہ کھولنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا لیکن کانگریس نے ایسا نہیں کیا اگر کانگریس اس طرح کے اتحاد کے لئے تیار نہیں ہوتی ہے تو انہیں اس حشر دیکھنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ان کی کر سی اور گدی تو جائے گی ہی بلکہ اس آپسی لڑائی کی وجہ کرانکا بوڑیا بستر بھی ہمیشہ کیلئے لپیٹ دیا جائے گا انہیں سوچنا چاہئے کہ وہ ایک ہی مہم اور تحریک کے پیداوار ہیں اور انکی پوری زندگی اسی فکر کے ساتھ گزری ہے اگر انہیں اس ملک میں سیکولرزم کو قائم رکھنے کیلئے اپنی گدی اور کرسی بھی گنوانی پڑے توکوئی بات نہیں جبکہ بھاجپا کسی بھی حال میں سیکولرطاقت کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہے وہ ہر صورت میں دہلی میں اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں چاہے اسکے لئے انہیں کیوں نہ ملک کے دستور سے غداری کرنا پڑے.

اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ بہار اسمبلی الیکشن کے قبل جس طرح سے لالو پرشاد نے نتیش کمار کو سہارا دے کر جدیو کی حکومت کو بچانے میں مدد کی تھی اس سے کانگریس کو بھی انکے ساتھ جانے پر مجبور کردیا تھااور اس مہا گٹھ بندھن نے بھاجپا کو اقتدار سے کوسوں دور کردیا تھا اسی طرز پر انہوں نے اترپردیش اسمبلی انتخاب سے قبل جدیو،کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن پارٹی اور آر ایل ڈی سمیت تمام پارٹیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی تھی گرچہ سماجوادی پارٹی میں مچے گھماسان کی وجہ سے لالو پرشاد کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی اسکے بعد اکھلیش یادو کو سما جوادی کا کمان ملتے ہی کانگریس نے ان سے اتحاد کرلیا.

یہ حقیقت ہے کہ کانگریس نے کبھی بھی کسی علاقائی پارٹی کو اہمیت نہیں دی ہے علاقائی اور سیکولر پارٹیاں کانگریس کے ساتھ اتحادکرنا چاہتی ہیں لیکن کانگریس  کا رویہ اسکے بالکل مختلف نظر آتا ہے وہ کسی کے طرف کبھی ہاتھ بھی بڑھانا نہیں چاہتی یہ حقیقت ہے کہ اگر کانگریس ان سیکولر پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتی تو اسکا فائدہ کانگریس کو اتر پردیش کے ساتھ، بہار، بنگال، اڑیسہ، جھارکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہا راشٹرا، گجرات، اترا کھنڈ، پنجاب اورہماچل پردیش میں ہوتا لیکن اس نے کبھی اس جانب توجہ نہیں دی ابھی اترپردیش کے لوک سبھا کے ضمنی الیکشن میں مایاوتی نے جس طرح سے 25 سالہ عداوت بھلا کر سماجوادی کی جانب خود بڑھ کر ہاتھ بڑھایاہے اس سے صاف ہو گیا ہے کہ اب سیاست صرف یکطرفہ نہیں چلے گی بلکہ ساجھی حکومت کرنے کا مطلب ایک ہاتھ دے اور ایک ہاتھ لے کی ہی پالیسی چلے گی ایسے میں کانگریس کی پالیسی ناکام دکھتی نظر آرہی ہے اور وہ بالکل الگ تھلگ ہوتی نظر آرہی ہے.

بھارت کے عام انتخاب کے بعدملک کے مختلف حصوں میں اب تک جتنے بھی ضمنی انتخاب کرائے گئے ہیں ان میں بھاجپا کا مظاہرہ بے حد خراب رہا ہے اسے نہ کے برابر چند ہی سیٹوں پر ہی کامیابی مل پائی ہے اسکے قبل اترا کھنڈ کے ضمنی انتخاب میں کانگریس نے بھاجپا کو ہراتے ہوئے تینوں اسمبلی پر قبضہ جمع لیا تھا توبہار کے الیکشن میں راشٹریہ جنتا دل نے اپنی جیت یقینی کرکے بھاجپا کا حوصلہ پست کردیا ہے اس سے قبل کانگر یس نے کرناٹک، راجستھان اور مدھیہ پردیش کے ضمنی انتخاب میں بھی بہتر مظاہرہ کرکے اسوقت بھاجپا کو زبردشت جھٹکا دیاتھاتا کہ بھاجپا کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا جائے کہ آخر بھارت کی عوام اس سے چاہتی کیا ہے شائد اسے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں ہوگا کہ جس عوام نے اسے مرکزی حکومت کے طور پرسنگھ اور نریندر مودی کو ایک نایاب تحفہ دیا تھا وہی عوام انہیں اسطرح نظر انداز کرتے ہوئے ایسی مصیبت میں ڈال دیگی اور وہ بھی اسوقت جب اسکے سر پر کرناٹک، راجستھان،اوراندھراپردیش و تلنگانہ جیسے حساس ریاستوں میں الیکشن ہونا ہے انہوں نے ایساکبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ چند ہی سالوں میں اسکے وہ ووٹر اسے اس طرح کے امتحان میں ڈال دینگے ضمنی انتخاب کے نتائج کے اثرات ان ریاستوں میں ضرور دیکھنے کو ملیں گے آندھراپردیش میں تو پہلے سے ہی ٹی ڈی پی بھاجپا سے طلاق لے چکی ہے دوسری بات یہ بھی اہم ہے کے ملک کے عوام نے کانگریس اور اسکے اتحادیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس بار کی طرح سنبھل کر اور سوچ سمجھ کر اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوشش کریں نہیں تو ٹوٹے ہوئے اینٹ کو بکھرنے میں دیر نہیں لگتی.

 بہر حال اس ضمنی انتخاب نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہاں کے ستر فیصد ی لوگ آج بھی ان فسطائی طاقتوں کے خلاف ہیں اور وہ اب بھی سیکولر پارٹیوں کے ساتھ کھڑے ہیں انکا لو جہاد کا نعرہ اور مدرسہ میں جہادیوں کی تعلیم دینے والی وہ باتیں بے بنیادہیں اگر اس الیکشن کا بغور جائزہ لیا جائے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ گورکھپور لوک سبھا جو وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور پھول پور نائب وزیراعلی کیشو پرشاد موریہ کی سیٹ سے بھی بی جے پی کے امیدوار کو سکشت کا سامنا کرنا پڑا اب سوال یہ ہے کہ آخر کون سی ایسی وجہ ہے کہ بھاجپا کے سینیئر رہنما بھی اپنے اپنے حلقوں میں بھی مودی اور امیت شاہ کی اس لہرکو نہیں بچا سکے کیا یہ نہیں مانا جا سکتا ہے کہ مین آف دی میچ امیت شاہ اس پیچ پر سیدھے طور سے بنا کوئی رن بنائے بولڈ ہوتے نظر آئے ہیں یا یہ صحیح ہے کہ عوام نے انکے نقلی بھیس کو اب پہچان کرانکے ان فرقہ پرست نظریات کو کوڑے دان میں پھیکنے کی کوشش کی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد شمشاد

مضمون نگارمصنف ،سیاسی تجزیہ نگاراورسماجی کارکن ہیں رابطہ: +91-9910613313-Email-mshamshad313@gmail.com

متعلقہ

Close