سیاستہندوستان

دم توڑتی جمہوریت!

نازش ہماقاسمی

رمضان المبارک کا مہینہ جس آب و تاب کے ساتھ شروع ہوا تھا اسی شان و شوکت کے ساتھ ہم تمام کو داغ مفارقت دے گیا ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نے رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں کا صحیح استعمال کیا ہے یانہیں ، ہم نے کیا کھویا کیا پایا ہے، اس کی برکتوں سے کتنا فیضیاب ہوئے، ابر رحمت سے کتنا استفادہ کرسکے، کیونکہ ہم میں سے بے شمار افراد ایسے ہیں. جنہیں شاید آئندہ رمضان زندگی میں میسر نہ ہو لیکن جن حضرات کو یہ رمضان میسر ہوا ہے کیا انہوں نے اس کی قدر کی ہے، یقیناً مسلمانوں نے اس ماہ مقدس کے صحیح استعمال کی بھر پور کوشش کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ مسجدوں میں نمازیوں کا ہجوم فجر تا عشاء ایسا ہی رہا ہے جیسا کہ بقیہ دنوں میں جمعہ کی نماز میں ہجوم ہوتا ہے۔

مسلمانوں نے اپنے رب کے حضور ہر طرح سے مدد مانگنے کی کوشش کی ہے، رمضان المبارک کا مہینہ جب اختتام کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ اپنے بندوں کی عبادت سے خوش ہوکر انہیں عید تحفہ میں عطاء کرتا ہے، اور عید کے دن سارے مسلمان اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں ، اللہ اپنے بندوں کو اس دن اتنا عطاء کرتا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں تم گواہ رہو میں نے اپنے بندوں کو بخش دیا ہے،اور اسی لئے اس دن کو حدیث میں یوم الجائزة یعنی انعام کا دن قرار دیا گیا ہے، ہم تمام مسلمانوں کیلئے ضروری ہے کہ جس طرح ہم نے اپنی زندگی رمضان المبارک کے مہینے میں گزاری ہے بقیہ دنوں کو بھی اسی طرز پر گزاریں ، جس طرح نماز روزہ صدقہ خیرات کا رواج  رمضان میں عام ہوتا ہے اسی طرح بقیہ دنوں میں بھی اس بات کو عام کریں ، اور خالق کائنات کے مطیع و فرماں بردار رہیں ، جس طرح ہماری مسجدیں رمضان المبارک کے ایام میں پانچوں نمازوں میں مصلیان سے بھری رہتی تھی، آباد تھیں ، پر رونق تھیں ، اسی طرح ہم اب بھی انہیں آباد رکھیں ۔ لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے۔

  وہی مسجدیں جن میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی عید کے بعد وہاں سناٹا پسرا ہوا ہے۔ فجر کی نماز میں جس طرح رمضان المبارک کے ایام میں لوگ سحری کے بعد سے ہی مسجد پہنچ جایا کرتے تھے، لیکن اب حال یہ ہے کہ محض ایک دو صف ہی مسجدوں میں لگتی ہیں ۔ کیا ہمارا ایمان صرف اور صرف رمضان المبارک تک ہی محدود ہوکر رہ گیا یاد رکھیں جس طرح نماز رمضان میں فرض تھی اسی طرح بعد کے ایام میں بھی فرض ہے اور ایک مہینہ رمضان میں جو ریہرسل کی جاتی ہے، بقیہ مہینوں میں بھی اس پر پورا اترنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن نہیں ، جس دن عید کا چاند نظر آیا لوگوں کی وہی پرانی رفتار عود کر آتی ہے۔ ان ہی لغویات میں ملوث ہوجاتے ہیں جو رمضان سے پہلے کیا کرتے تھے۔

آپ سے التماس ہے کہ خدا کا خوف کریں ۔ ان اعمال قبیحہ سے بچیں جن سے رمضان المبارک میں اللہ نے آپ کو بچنے کی توفیق دی تھی۔ نماز و دیگر فرائض کی پابندی کریں اگر ہم نماز پابندی سے پڑھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جو ہمیں زیر کرسکے۔ آج ہم نے اپنا رشتہ اللہ سے جوڑنے کے بجائے توڑ لیا ہے خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا چھوڑ دیا ہے، اسیلئے ہمیں در در  بھٹکنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے ہی اعمال قبیحہ کی وجہ سے ہم پر ظالم حکمراں مسلط ہیں ، جو ہمیں صرف نام کے مسلمان ہونے کی سزا موت کے گھاٹ اتار کر دے رہے ہیں ۔

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے اندر سدھار پیدا کریں ، اللہ سے تعلق جوڑیں ، دنیاوی مفادات کی خاطر دین حنیف سے نہ بھٹکیں ، کیوں کہ ہمارا ایمان واعتقاد ہے، کہ مرنے کے بعد کی زندگی اصل زندگی ہے ہمیں اس کی تیاری کرنی چاہئے۔ اگر ہم نے اپنے عمل کو رمضان سے ہم آہنگ رکھا تو ان شاء اللہ ہمارا ہر آنے والا دن عید کی مانند ہوگا، اور ہررات شب قدر ہوگی، اور ہم بآسانی اس دنیا کے لطف کے ساتھ ساتھ اخروی تیاری بھی کرتے رہیں گے۔

 ایک اہم بات ہے، جس سے ہم سب گزشتہ چند سالوں سے گزر رہے ہیں اور رمضان المبارک میں بھی ہم نے اس تکلیف کا شدت سے احساس کیا ہے، اور عید کے دن بعض جگہوں پر اس کے خلاف کالی پٹی باندھ کر احتجاج بھی درج کرایا گیا، ملک کے حالات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہے اور یکے بعد دیگرے کئی لوگ جنونی بھیڑ کا شکار ہوئے ہیں یہ باعث تکلیف ہے اور اس امر کی روک تھام بہت ضروری ہے اگر معاملہ پر لگام نہیں کسا گیا اور حادثات میں کمی واقع نہیں ہوئی تو آئندہ کی نسلیں یہ ماننے سے انکار کریں گی کہ ہمارا ملک بھی کبھی جمہوریت کا گہوارہ رہا ہے، کبھی وحدت میں کثرت اس ملک کی بھی شان تھی۔ حالانکہ اس قتل وخونریزی پر ہمارے وزیر اعظم مودی کی چپی ٹوٹ گئی ہے انہوں نے بھی بیان دے ڈالا ہے، کہ گئو رکشا کے نام پر قتل ہمیں قابل قبول نہیں لیکن بقول اسدالدین اویسی ’آپ صرف بولتے ہیں کرتے کچھ نہیں ‘ وہی ہونے والا ہے، کیوں کہ جو لوگ ملک میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں ، جنونی بھیڑ بن کر مسلمانوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہیں ، ان لوگوں کا تعلق کسی نہ کسی طرح بی جے پی سے ضرور جاکر ملتا ہے اور دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ملک میں جہاں جہاں گئو رکشکوں نے گئو ماتا کے تقدس میں انسانی جانوں کی حرمت کو پامال کیا ہے وہاں وہاں بی جے پی کی حکومت قائم ہے۔

 سوال یہ ہے کہ کیا مودی جی کے اس بیان سے کہ گئو رکشکوں کی دہشت گردی قابل قبول نہیں ملک میں امن لوٹ آئے گا ؟ کیا ان ہندو دہشت گردوں پر لگام کس دی جائے گی جس سے انسانی جانوں کا ضیاع رک جائے ؟ نہیں ایسا نہیں ہے مودی جی شاید اس سے قبل بھی اس طرح کا بیان دے چکے ہیں جس میں انہوں نے جرائم پیشہ افراد کو گئو رکشکوں کا چولا پہن کر کام کرنے والا بتایا تھا۔ ویسے دیکھا جائے تو ملک کی موجودہ حکومت جب یہ برسراقتدار آئی تھی تو یہ کہا گیا تھا کہ کٹر ہندو حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ وہ اپنے مشن اور اہداف کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے گئو رکشکوں پر لگام نہ کسنا یہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اورگئورکشکوں کے مظالم کے سلسلہ کو2019کے لوک سبھا الیکشن تک دراز کیا جائے گا تاکہ ہندو متحد رہے اور بی جے پی کامیاب ہوجائے۔

اگر نہیں توآخر کیا وجہ ہے کہ دادری کے اخلاق سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ حافظ جنید اور اس سے آگے جھاڑ کھنڈ کے علیم الدین تک پہونچا، سبھی کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا لیکن انتظامیہ صرف دفتری کارروائی تک محدود رہی، اور دہشت گرد آزادانہ طور پر ملک میں خوف وہراس کا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔حتی کہ بی جے پی کہ بہت سے لیڈران کو بے قصور مسلمانوں کا خون نظر تک نہیں آیا، غریب مفلس مسلمانوں کی آہ و بکا ان کے قلوب تک نہیں پہونچی، حقائق کی شدت بھی انکی آنکھوں پر بندھی پٹی اتار نہیں سکی، اور جرائم انہیں افواہ نظر آئے، حالات کا تغیر لوگوں کے مزاج کی تبدیلی بھی انہیں حقائق سے روبرو نہیں کراسکی، یہی بی جے پی کا اصلی چہرہ جو نقوی کے لفظوں سے عیاں ہو رہا ہے، اگر ابھی حقائق کو تسلیم نہیں کیا گیا ان پر اسی طرح چشم پوشی کی گئی تو جمہوریت دم توڑدیگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close