سیاستہندوستان

دونوں وقف بورڈوں کے سر پر تلوار!

حفیظ نعمانی

1967 ء کے بعد صوبائی حکومتوں کا یہ ریکارڈ ہے کہ جب بھی نئی حکومت آئی ہے مسلم وقف بورڈ سُنی اور شیعہ پر بجلی گری ہے۔ اگر کہیں کنٹرولر ہے تو اسے ہٹاکر دوسرا کنٹرولر بنایا گیا ہے اور اگر بورڈ ہے تو انہیں تحلیل کردیا گیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے وقف کئے تھے وہ تو دنیا میں ہیں نہیں اور جن کے لئے وقف کئے تھے ان میں شاید ہی کوئی ایماندار ہو؟

اکھلیش حکومت کے پورے پانچ سال وسیم رضوی اور اوقاف کے متولیان کے درمیان جنگ میں گذرے وزیر اوقاف اعظم خاں بھی مستقل نشانہ بنے رہے۔ ان کو گئے ہوئے صرف تین مہینے ہوئے ہیں کہ دونوں بورڈ تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اب بورڈ بننے کا تو کوئی امکان اس لئے نہیں کہ ممبروں میں اہم وہ ہوتے ہیں جو ایم ایل اے یا ایم ایل سی ہوں اور حکمراں پارٹی میں ایک بھی مسلمان نہ سنی ممبر ہے نہ شیعہ اور دوسری پارٹی کے ممبروں کا بورڈ کون بنوا سکتا ہے؟ اب پورے پانچ سال کنٹرولر ہوں گے اور وزیر اوقاف محسن رضا صاحب کے اوپر ان کے وزیر بنتے ہی حملے ہونے لگے تھے۔ اب چلتے چلتے وسیم رضوی نے بھی دفتر کے اندر کی بات کھول دی۔

بات 1969 ء کی ہے کہ چودھری چرن سنگھ کی حکومت تھی 1969 ء میں نواب زادہ مرتضیٰ علی خاں آف رام پور بھی ایم ایل اے بن گئے تھے اور شہر لکھنؤ سے امتیاز حسین کامیاب ہوئے تھے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ بورڈ بن جائے نواب زادہ صرف ایک بات چاہتے تھے کہ عابدی الہ آبادی کو ممبر بنا لیا جائے ہم نے امتیاز حسین کو چیئرمین بنانے پر سب کو آمادہ کرلیا تھا۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ایم ایل اے بنتے ہی امتیاز صاحب نے اصرار کرنا شروع کیا تھا کہ چودھری صاحب سے کہہ کر مجھے وزیر بنوائو۔ میں ان کو سمجھاتے سمجھاتے تھک چکا تھا کہ آپ ہندی یا انگریزی کا ایک لفظ نہیں لکھ سکتے اور وزارت اردو میں نہیں چلتی۔ تب وہ اس پر آمادہ ہوگئے کہ اچھا وقف کورڈ کا چیئرمین بنوادو۔ لیکن اس میں وہ تمام شیعہ لیڈر جو کانگریس سے تعلق رکھتے تھے اس پر تیار نہیں ہوئے اور بورڈ نہیں بن سکا دو سال کے بعد چودھری صاحب کی حکومت بھی ختم ہوگئی سبب وہی تھا کہ مختلف نظریات کی پارٹیاں اپنی اپنی پالیسی چلانا چاہتی تھیں اور چودھری صاحب اس پر اَڑے ہوئے تھے کہ جو میں کہوں گا وہی سب کہیں اور کریں ۔ پہلے بھی کملاپتی ترپاٹھی کے ممبر کافی تھے وہ خود تو کچھ نہیں تھے اندراجی کے اشاروں پر ان کو چلنا تھا۔ آخرکار انہوں نے چودھری صاحب کے اوپر الزام لگایا کہ آپ میرے وزیروں کو توڑ رہے ہیں اور حمایت واپس لینے کی دھمکی بھی دے دی۔

چودھری چرن سنگھ سی بی گپتا کے پاس چلے گئے اور اعلان ہوگیا کہ اب گپتا جی سنڈیکیٹ کانگریس سے مل کر حکومت بنائیں گے اور جن سنگھ بھی ساتھ ہوگی۔ گپتاجی نے یہ شرط رکھ دی کہ وزیر اعلیٰ نہ آپ اور نہ میں تیسرے کو بنا دیا جائے اور چودھری صاحب وزیر اعلیٰ سے کم پر تیار نہیں تھے آخرکار ان کے آدمی ہی ٹوٹ کر کملاپتی کے ساتھ چلے گئے۔ امتیاز صاحب نے بھی پر پھڑپھڑائے لیکن ہم نے یاد دلایا کہ 1967 ء میں آپ نے اسمبلی کا الیکشن میرے منع کرنے کے باوجود دوسرے دوستوں کو ساتھ لے کر لڑا تھا اور اپنے بقول اپنی عمر بھر کی کمائی پھونک دی تھی۔ 1969 ء میں میری ضد پر آپ بی کے ڈی کے ٹکٹ سے لڑنے پر تیار ہوئے آپ نے کہہ دیا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ صرف میرے اس کہنے پر کہ آپ کچھ فکر نہ کریں الیکشن ہوا ہر ذمہ داری میری تھی آپ نے جن سنگھ کے شانتی بابو ایڈوکیٹ اور کانگریس کے بابو ترلوکی سنگھ کو ہرایا۔ آپ کے پاس نہ ووٹ تھے نہ پیسے۔ اب اگر پارٹی چھوڑی تو احسان فراموشی ہوگی جو میرے نزدیک بدترین گناہ ہے۔ وہ مان تو گئے لیکن بے چین تھے۔

اتفاق سے ایک کام سے میں کلکتہ گیا تو وہاں دس دن لگ گئے۔ واپس آیا تو انہوں نے بتایا کہ کملاپتی جی نے آدھی وزارت دینے کا وعدہ کیا تو آغا زیدی صاحب  کے کہنے سے ہم چلے گئے۔ پھر خود ہی بتایا کہ وقف بورڈ کا کنٹرولر بننا بھی آدھی وزارت ہے۔ اور وہ شیعہ وقف بورڈ کے کنٹرولر بن گئے جہاں اردو میں وزارت کے کام ہوتے رہے۔ اور یہ احسان فراموشی کی ہی سزا تھی کہ پھر بار بار بڑے وقف بورڈ اور اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے جو کمایا تھا وہ سب پھونک دیا۔ اور کارپوریٹر بھی نہیں  بن پائے۔ ان کے کنٹرولر بننے کے بعد ہم نے جانا کہ اوقاف کیا ہوتا ہے؟ اور متولی کس کس طرح سے وقف کو نچوڑتے ہیں ؟

اب محسن رضا صاحب وزیر اوقاف ہیں اور دونوں بورڈ کے بلاشرکت ِ غیر مالک ہیں ۔ وہ اسپورٹس مین ہیں شیعہ و سُنی اور ہندو ہر طبقہ میں ان کی واقفیت ہے۔ وہ سوچ سمجھ کر کسی سُنی کو کنٹرولر بنا دیں گے اور کسی ایماندار کو شیعہ وقف بورڈ کا کنٹرولر بنا دیں گے۔ شیعہ وقف بورڈ سے تو ہم صرف اس وقت واقف ہوئے جب امتیاز صاحب کنٹرولر بنے۔ سنی وقف بورڈ میں ایک زمانہ میں ذوالفقار اللہ صاحب جو مرکزی وزیر بھی رہے اور ممتاز ہستیوں میں تھے سراج صاحب جو سکریٹری اور بہت نیک نام تھے اور شاید اب بھی ہوں ۔ مقصد یہ ہے کہ کنٹرولر بناتے وقت حیثیت اور علم اور شہرت تینوں چیزوں کو دیکھا جاتا تھا۔ امتیاز صاب یا ان جیسوں کو صرف اس لئے بنایا گیا تھا کہ اندرا کانگریس کو ایک ہاتھ اٹھانے والا مل جائے۔ محسن رضا صاحب ہوں یا کابینہ وزیر اس کا خیال رکھیں کہ کنٹرولر بناتے وقت نہ دوستی دیکھیں نہ رشتہ نہ پارٹی اللہ کے یہاں جواب  دینے کا مسئلہ سامنے رکھیں تاکہ وہاں کہہ سکیں کہ مولا جو ہماری نظر میں ایماندار غیرجانبدار اور نیک بندہ تھا اس کے سپرد ہم نے ان مرحومین کی کروڑوں کی جائیداد سپرد کردی کہ ہر فیصلہ کے وقت منشاء واقف کا لحاظ رکھیں ۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی غلط کرے تو حساب ہم سے نہیں اس سے لیا جائے۔

اوقاف کے معاملات کے جاننے والے جانتے ہیں کہ اب وقف نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں  جبکہ پہلے اپنی جائیداد میں سے وقف علی الخیر اور وقف علی الاولاد کرنے کا گھر گھر رواج تھا۔ مسلمانوں کے بڑے بڑے مدارس کے پاس کروڑوں کی  جائیداد ہے۔ وہ چونکہ ایک مدرسہ یا ادارے کے لئے ہے اس لئے جس سے دس ہزار ملنا چاہئے تھا اس سے سو روپئے نہیں ملتے اس لئے جو جائیداد مکان، دُکان، باغ یا کھیت جس کے قبضہ میں ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ سب میں ہی رکھوں اور وقف علی الاولاد تو ہر متولی فروخت کرنے پر تیار ہے اور بورڈ کے انسپکٹر سے مل کر رفتہ رفتہ جائیدادیں بکتی چلی جارہی ہیں ۔ شرم آتی ہے کہ یہ بورڈ مسلمانوں کے ہیں اور ان کے ہی قبضہ میں ہیں ۔ بورڈ کے ملازم جتنے بے ایمان ہیں ان سے زیادہ متولی بے ایمان ہیں خدا کا خوف تو بورڈ میں نظر ہی نہیں آتا۔ دیکھئے پانچ سال تک کتنی گندگی اچھلتی ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو لوگ دعا کریں گے کہ ہمیشہ ان لوگوں کی ہی حکومت رہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close