سیاست

دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گئے

ب وہ کسی صوبے میں کامیاب ہوتی ہے سرمایہ داروں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور ہار جاتی ہے توان کو دن دہاڑے تارے نظر آنے لگتے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

للن لکھنوی نے کلن بھٹکلی سے پوچھا بھائی تمہارے کرناٹک میں یہ کیسا ناٹک ہوگیا؟

ویسا ہی جیسا   تمہارےاتر پردیش میں ہوا تھا۔

یار یہ درست ہے کہ دونوں جگہ بی جے پی جیت گئی مگر میں نتائج سے متعلق نہیں بلکہ وجوہات کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔

میں بھی وجوہات ہی بتا رہا ہوں۔ اتر پردیش میں تو بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی تھی  لیکن   ہمارے یہاں  تو کچھ اور ہی ہوگیا۔

کیا مطلب ؟ میں نہیں سمجھا۔

کیا بتاوں یدورپاّ وزیراعظم اور شاہ جی کے ساتھ جشن منانے چارٹر ہوائی جہاز  دہلی جارہے تھے کہ اچانک اس کا ٹائر پنچر ہوگیا۔

ارے بھائی ہوائی جہاز تو ہوا میں اڑتا اس کو پہیوں کی کیا ضرورت؟

آپ نے لگتا ہے کبھی پلین کا سفرکیا نہیں  ہے ؟ ورنہ یہ نہ کہتے۔ ہوا میں اڑنے سے قبل جہاز کو زمین پر دوڑنا پڑتا ہے اور اس دوران  ہوا نکل بھی جاتی ہے۔

جی ہاں سمجھ گیا بے چارے یدورپاّ کے ساتھ یہی ہوا۔ پہلے بدعنوانی کے الزام نے ہوا نکالی اور اب جے ڈی ایس نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔

بھئی تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے وہ  کسی شاعر نے کیا خوب کہا  ہے؎

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند 

  دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گئے

کلن بھٹکلی تم تو سدھا ّ رمیا سے بھی چالاک نکلے  وجہ بتانے کے بجائے بات بیچ ہی میں گول کرگئے۔

جی نہیں میں نے جواب دے دیا تھا اور سوچا تم سمجھ گئے ہوگے۔  چلو دوہرائے دیتا ہوں۔ جس طرح  اکھلیش کی بیجا خوداعتمادی اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی  اسی طرح سدھاّ رمیا کی خوش فہمی اس کے آڑے آگئی۔

لیکن ان دونوں نے عوام کی فلاح وبہبود کے کام بھی تو کیے تھے۔  ان کے دور میں صوبے کے اندر  کافی ترقی ہوئی۔

اس میں کیا شک شبہ ہے لیکن عوام کے نزدیک اس کی اہمیت کب  ہے۔ اسی لیے بیجا خود اعتمادیپر اترانے والےخوش فہمی  کا شکار ہوجاتے ہیں۔

اچھا تو  پھر ۷۰ سال پرانی اس وسیع ترین جمہوریت میں رائے دہندگان کس چیز کو اہمیت دیتے  ہیں ؟

سب سے اہم  ذات پات ہے اسی لیے ٹکٹ دینے سے قبل یہ ضرور دیکھا جاتا ہے اس حلقۂ انتخاب  کس طبقے کے لوگ اکثریت میں ہیں؟

اچھا تو کیا سارا کھیل صرف ذات پات کا ہے ؟

جی نہیں اس کے علاوہ فرقہ پرستی  اور جذباتیت بھی اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ کیا تم قبرستان اور شمسان والی   مثال بھول گئے؟

اچھا میں تو سمجھتا تھا کہ یہ صرف شمالی ہندوستان کی بیماری ہے؟

جی نہیں اب تو یہ مغربی بنگال تک پہنچ گئی ہے اور کرناٹک کی عیدگاہ کا معاملہ بابری مسجد کے زمانے سے چلا آتا ہے۔

للن نے تائید کی  اور بولا جی ہاں  بیچاری اوما بھارتی کو اسی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور اب وہ پوتر  گنگا جل کی صفائی میں جٹی ہوئی ہے۔

لیکن آج کل  دولت  کا جادو  بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ  بدنامِ زمانہ ریڈی برادران نے اس انتخاب میں  کتنااہم کردار ادا کیا    ؟

جی ہاں  اگر یہ کالی دولت ذرائع ابلاغ پر نہ لٹائی جائے تو سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ  کیونکر بنائیں گے؟

کلن بولا بھائی ان کا بھی تو دھندا ہے۔ وہ  سیاست دانوں سے نہیں تو کس سے کمائیں گے؟

لیکن یار یہ معمہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب بی جے پی جیتنے لگتی ہے تو حصص بازار کیوں چڑھنے لگتا ہے اور جب ہارنے لگتی ہے تو کیسے گر جاتا ہے؟

یہ جاننے کے لیے تمہیں ہماری طرح بیوپار کرنا پڑے گا۔ سوال بی جے پی کانہیں مرکز میں اقتدار پر فائز جماعت کی فتح و شکست کا ہے۔ جب وہ کسی صوبے میں کامیاب ہوتی ہے سرمایہ داروں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور ہار جاتی ہے توان کو دن دہاڑے تارے نظر آنے لگتے ہیں۔

ایک بات بتاو اتر پردیش میں تو خیر ووٹر مودی جی زبان سمجھتا تھا کرناٹک کے لوگوں کو تو ہندی بھی نہیں آتی پھر بھی۰۰۰۰۰

جی ہاں للن بھائی۔ اگر وہ ہندی جانتے تو مودی جی کے سارے جھوٹ پکڑ لیتے اور کمل کا ساتھ نہ دیتے لیکن ان کا مترجم ان کی ساری پھیکم پھاک کو سدھار دیا کرتا تھا اس لیے ہمارے یہاں پھر سے کمل کھل گیا۔

ویسے اب تو مودی جی تقریر میں دم نہیں رہا اس کے باوجودتمہارے صوبے کے لوگوں کا ان پر فدا ہوجانا افسوسناک ہے۔

کلن بولا لگتا آج کل آپ نے مشاعروں میں جانا بند کردیا ہے ورنہ یہ سوال نہیں کرتے۔

الیکشن کا مشاعرے کیا تعلق ؟

عوام کا دونوں سے تعلق ہے۔ اس لیے ایک  کےرحجان سے دوسرے کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

اچھا یہ بتاو کہ نواز دیوبندی بڑے شاعر ہیں یا عمران پرتاپ گڈھی ؟

للن نے ہنس کر کہا تم نےکیا مثال دے دی؟ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی ؟؟

لیکن کیا تمہیں پتہ ہے آج کل مشاعروں سب سے زیادہ عمران پرتاپ گڈھی  ہے چلتا۔ عوام اس کی شاعری پر نہ صرف داد دیتے ہیں، تالیاں پیٹتے ہیں بلکہ سیٹیاں بھی بجاتے ہیں۔

اچھا سمجھ گیا وہی لوگ مودی جی کے کہنے پر یدورپاّ کو ووٹ بھی دے دیتے ہیں۔

بہت دیر میں سمجھے للن بھیا۔ مودی جی کی  تقریر پر تو عندلیب شادانی کا یہ مصرع صادق آتا ہے کہ ’ شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول‘

جی ہاں اور دوسرا بھی ’ان سپنوں میں کیا کیا کچھ ہے سپنا سچ ہوجائے  تو‘

یار یہ دوسرا مصرع  عندلیب کا نہیں ہوسکتا یہ تو عمران کا لگتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close