سیاست

دہشت گردوں سے مودی کے رشتوں کا ثبوت

حفیظ نعمانی

مالے گائوں بم دھماکوں میں ملزمہ رہی سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو نریندر مودی کی بی جے پی نے بھوپال سے لوک سبھا کا الیکشن لڑانے کا اعلان کیا ہے۔ اور یہ فیصلہ کانگریس کے سب سے ممتاز سیکولر لیڈر دگ وجے سنگھ کو ہرانے کے لئے کیا گیا ہے۔ پرگیہ ٹھاکر نے کب کیا کیا اور ہیمنت کرکرے نے کس طرح ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بے نقاب کیا یہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور آنجہانی کرکرے کو اس کی قیمت جان دے کر چکانا پڑی جس نے اس پر مہر لگادی کہ ہندو دہشت گردوں کی جڑیں زمین میں کہاں تک اترچکی ہیں کہ تحقیقات کرنے والے افسروں کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

وزیراعظم جو اُن سب کے سرپرست ہیں انہوں نے اپوزیشن پارٹیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذہب کے پیروکاروں کو دہشت گردی سے جوڑکر ان کی توہین کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہندو آتنک واد کا لفظ استعمال کرکے ملک کے کروڑوں لوگوں کی توہین کی ہے۔ ہزاروں سال کی تاریخ میں کیا ایک بھی مثال ہے جہاں ہندو دہشت گردی میں شامل رہے ہوں؟

اگر وزیراعظم اس مٹی کے بنے ہوتے کہ اپنی غلطی پکڑے جانے پر شرمندہ ہونا جانتے تو ہم درجنوں واقعات ابھی لکھ دیتے لیکن سب کو چھوڑکر صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ نکسلی اور مائووادی کیا مسلمان یا سکھ ہیں؟ اور اگر یہ سب ہندو ہیں اور ہندوستان کی زمین پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور ایک ہفتہ پہلے ہی انہوں نے بی جے پی کے ایک ایم ایل اے اور ان کے چار ساتھیوں کو مارا ہے اور بارودی سرنگ بچھاکر مارا ہے تو کیا اس کا نام دہشت گردی نہیں ہے؟ اور اگر یہ ہندو نہیں ہیں تو کہاں ہیں وہ جانباز جنہوں نے رات کو ساڑھے تین بجے دوسرے ملک کے بالا کوٹ میں گھس کر مودی جی کے کہنے کے مطابق دہشت گردوں کو مارا ہے وہ ان نکسلیوں کو جنہوں نے ہزاروں ہندوئوں، لیڈروں اور فوجیوں کو مارا ہے ان کو نیست و نابود کیوں نہیں کرتے؟

مہاراشٹر کے پولیس افسر ہیمنت کرکرے مسلمان نہیں تھے اور نہ ان کا کوئی رشتہ پاکستان سے تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ پہلے فرض شناس تھے بعد میں ہندو تھے نریندر مودی کی طرح نہیں تھے کہ جنہیں کوئی بھی کانا نظر نہیں آتا۔ وہ اُترپردیش بی جے پی کا صدر بنائیں گے تو اسے جس پر دس سے زیادہ مقدمے چل رہے ہوں اور اُترپردیش کا وزیراعلیٰ بنائیں گے تو اسے جس پر صدر سے بھی زیادہ اور سنگین دفعات میں مقدمے چل رہے ہوں اور بھوپال کی نمائندگی کے لئے اسے جو برسوں جیل میں رہی اور اب بھی بم کا دھماکہ کرکے انسانوں کو مارنے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے اور جس کے بارے میں وکیلوں کا اندازہ ہے کہ سزا ضرور ہوگی اسے عدالت کی پیشیوں سے اور عدالت کی حاضری سے بچانے اور مقدمہ کو سہراب الدین قتل کیس کی طرح اِدھر سے اُدھر گھماکر کسی جج سے کلین چٹ دلوانے کے لئے لوک سبھا کا ممبر بنانا مودی جی کا مقصد ہے۔

ہم کیا کریں کہ ہمارے دماغ سے نریندر مودی کی وہ تقریر جو وزیراعظم بن کر سینٹرل ہال میں کی تھی کسی طرح نہیں نکلتی جس میں قوم کو یقین دلایا تھا کہ ہر داغی ممبر ایک سال کے اندر جیل میں ہوگا۔ اور انہوں نے پانچ سال میں دیکھا کہ جتنے داغی تھے وہ لوک سبھا کے قلعہ میں محفوظ رہنے کی وجہ سے عدالت کے بکھیڑوں سے آزاد ہیں اور جو کالے کرتوت کرتے تھے اس سے دوگنا اب کرتے ہیں اس کے بعد سے ہی انہیں ہر داغی اچھا اور ہر کانا پیارا لگنے لگا۔

مودی جی نے سینٹرل ہال میں جب تقریر کی تھی تو ان کا خیال تھا کہ شاید مخالف پارٹیوں میں داغی ہوں گے ان کو جیل میں ڈالنے سے سکون ہوجائے گا پھر جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ داغی بی جے پی کے ہیں اس کے بعد نیت خراب ہوگئی۔ اور جب داغی ممبروں سے ملنے والی نعمتیں دیکھیں اور یہ دیکھا کہ جسے حکومت کے دس افسر نہیں لاسکتے وہ ایک داغی لے آتا ہے تو پھر وہ بھول گئے کہ داغ کیا ہوتا ہے اور جو جتنا بڑا داغی ہے وہ مودی جی کو اتنا ہی اچھا لگا جس کا ثبوت اس سے بڑا کیا ہوگا دنیا کی سب سے بڑی پارٹی کو بھوپال سے اُمیدوار بنانے کے لئے ہندوستان کی سب سے مشہور داغدار پرگیہ ٹھاکر کے علاوہ کوئی نہیں ملا۔ اس کی دہشت گردی سے اڈوانی جی بھی ہل گئے وہ کہا کرتے تھے کہ ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے یہ صرف ٹھاکر کی وجہ سے کہنا پڑا کہ دہشت گرد کا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔

اب ہم نہیں بتاسکتے کہ بھوپال کا حال کیا ہے۔ ہم بار بار بھوپال گئے ہیں اور ایک بار تو ڈاکٹر کے مشورہ پر آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے ایک مہینہ وہیں رہے۔ اخبارات سے بھی وہاں سے ہندو گردی کی خبریں کم ہی آتی ہیں۔ یہ اب مودی جی کی اسکیم ہے کہ وہاں اپنے مزاج کے مطابق ہندو مسلم کریں اور پھر گرم ہندو اور نرم ہندو کو بانٹیں جو بھگوا پٹکا ڈال کر پرگیہ ٹھاکر کی جے بولے وہ گرم ہندو ہے اور جو دگ وجے کی جے بولے وہ نرم ہندو ہے۔ مودی جی جائیں گے اور صرف نفرت کی کھیتی کریں گے اور جو وقت بچے گا وہ بالا کوٹ میں خیالی دہشت گردوں کو ماریں گے اس لئے کہ اب ان کا حال یہ ہے۔   ؎

اچھی پی لی خراب پی لی

جیسی پائی شراب پی لی

عالم یہ ہے کہ اب نشہ ہے نہ کیف

پانی نہ ملا شراب پی لی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close