سیاست

دہلی پر زیادہ حق منتخب حکومت کا ہے

اِس فیصلہ نے واضح کیا کہ آئین میں انتشار کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

فیصل فاروق

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر انِل بیجل کے درمیان جاری اختیارات کی جنگ میں بالآخر سپریم کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے حق میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کردیا کہ ایل جی کو کابینہ کے مشورہ پر کام کرنا ہوگا اور اگر وہ کابینہ کے کسی فیصلہ سے متفق نہیں ہیں تو پھر وجہ بتاتے ہوئے اس کو صدر جمہوریہ ہند کے پاس بھیج سکتے ہیں۔ لیکن حکومت کے ہر فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ ایل جی کچھ ہی امور میں دہلی کے اِنتظامی افسر ہیں، وہ گورنر قطعی نہیں ہیں۔ اِس فیصلہ نے واضح کیا کہ آئین میں انتشار کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

دہلی حکومت کے اختیارات اِس قدر محدود کر دیئے گئے تھے کہ وہ اپنے افسران کے تبادلے تک نہیں کر پا رہی تھی۔ جب بھی ایسی کوئی تجویز بھیجی گئی اُس میں مداخلت ہوئی۔ حالات اتنے ابتر ہو گئے تھے کہ تنگ آکر وزیراعلیٰ کو اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ بھوک ہڑتال کرنی پڑی۔ ایل جی اور حکومت نے عوامی طور پر ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھالا ہے۔ دونوں کے درمیان تصادم اس حد تک بڑھا کہ دہلی کا نظام حکومت بری طرح متاثر ہوا۔ جبکہ دہلی کے عوام خاموش تماشائی بنے رہے۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ سے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ تک پہنچا جہاں یہ سوال کھڑا ہو گیا تھا کہ آخر دہلی کس کی ہے؟ لیکن اب، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ سے صاف کر دیا کہ دہلی پر زیادہ حق عوامی طور پر منتخبہ حکومت کا ہی ہے، مطلب دہلی عام آدمی کی ہے۔

حالانکہ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے بہت ہی متوازی فیصلہ سنایا ہے۔ تاہم منتخبہ حکومت کو زیادہ اہمیت دیتے ہوئے جمہوریت کا قد بڑھا دیا ہے۔ پولیس، زمین اور عوامی حکم ناموں کے علاوہ تمام اختیارات اور معاملات میں فیصلہ کرنے اور پالیسی مرتب کرنے کا اختیار صرف منتخبہ حکومت کو ہے۔ کسی بھی ریاست کا گورنر گو کہ صدر کو جواب دہ ہوتا ہے لیکن اُس کی کارکردگی اصلاً مرکزی حکومت کی مرضی کے مطابق ہی ہوتی ہے اور گزشتہ کچھ دنوں میں اِس کی کئی مثالیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

اب دہلی حکومت کو فائلیں لیفٹیننٹ گورنر کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایسے میں کام نہیں رُکے گا۔ ایل جی کو کابینہ کے فیصلے کو قبول کرنا ہوگا۔ کیجریوال حکومت نے الزام لگایا تھا کہ مرکزی حکومت دہلی میں آئینی طور پر منتخبہ حکومت کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ اِس وجہ سے دہلی کے ترقیاتی کام متاثر ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اب کیجریوال اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔

حکومت میں ہوتے ہوئے بھی عام آدمی پارٹی اور اُس کے لیڈروں کا اپوزیشن جیسا رویہ اپنانا اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہیں سرکار چلانے کا بھی تجربہ نہیں ہے۔ آج دہلی کا عام شہری فضائی آلودگی سے لے کر آبی پریشانی تک بہت سے مسائل سے دو چار ہے۔ ایسے میں چونکہ فیصلہ اروند کیجریوال کے حق میں آیا ہے تو انہیں جشن منانے کے بجاۓ ان مسائل کو حل کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہئے۔ اور ایل جی کو بھی اب سپریم کورٹ کی ہدایات کو زہن میں رکھ کر حکومت کے کام کاج میں رخنہ نہیں ڈالنا چاہئے بلکہ ساتھ مِل کر عوام کیلئے کام کرنا چاہئے۔ اِسی میں سب کی خیر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فیصل فاروق

فیصل فاروق کالم نگار اور صحافی ہیں۔

2 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close