سیاست

دہلی کی جنگ اب قومی جنگ بنے گی

آج جہاز کو ڈوبتے دیکھ کر جب وہ چوہوں کی طرح بھاگ گئے یا بھاگ رہے ہیں تو انہیں ناراض دامادوں کی طرح منانے کی کوشش ہورہی ہے۔

حفیظ نعمانی

وزیراعظم کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ 2014 ء میں انہوں نے حکومت کے خلاف محاذ کھولا تو پورے ملک نے محسوس کیا کہ یہ ہمارے دل کی آواز ہے اور ان پر اتنا اعتماد کیا کہ 120  سال پرانی اپنے وقت کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس 44  سیٹوں پر سمٹ گئی۔ اور دہلی بھی ان صوبوں میں سے ایک تھا جس نے نریندر مودی کو سو فیصدی سیٹیں دیں ۔

اس کے ایک سال کے بعد جو دہلی کا صوبائی الیکشن ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے پوری دہلی وزیراعظم نریندر مودی کو ان کے اس سب سے پہلے، پہلے اعلان کے جھوٹ نکلنے کی سزا دے رہی ہے جو انہوں نے ہر کسی کو بلاتفریق پندرہ پندرہ لاکھ روپئے سو دن کے اندر دینے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ وہ کالا دھن ہے جو کانگریس کے بڑوں نے غیرممالک میں جمع کررکھا ہے وہ سرکار کا نہیں عوام کا ہے اس لئے وہ لاکر یا منگواکر بانٹ دیا جائے گا۔ دہلی، ہندوستان کے شمالی مغربی اور مشرقی صوبوں کی طرح نہیں ہے جہاں 70  فیصدی سے زیادہ جاہل رہتے ہوں اور ان کا بینکوں سے تعلق نہ ہو۔ انہوں نے نہ مودی جی کو 56  اِنچ سینہ والا سچا اور بہادر لیڈر سمجھ کر نہ جانے کیسے کیسے پلان بنائے ہوں گے۔ اور جب انہوں نے دیکھا کہ سو دن نہیں ایک ہزار دن گذر گئے اور نریندر مودی وزیراعظم بننے کے بعد اس کا ذکر بھی نہیں کرتے تو انہوں نے ان کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کیا جو مودی جی نے کانگریس کے ساتھ کیا تھا کہ دہلی اسمبلی میں ان کو تین سیٹوں پر سمیٹ دیا۔ وزیراعظم کے لئے اس سے زیادہ توہین کی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟ انہوں نے اسے دل پر لکھ لیا اور فیصلہ کرلیا کہ اروند کجریوال نام کے آدمی کو اتنا رُلائوں گا کہ وہ حکومت چھوڑکر بھاگ جائے۔

اور دہلی میں جو آئی اے ایس افسروں نے ایک انتہائی مقبول وزیراعلیٰ کے ساتھ بدتمیزی، نافرمانی اور حکم عدولی کا رویہ اپنا لیا ہے وہ صرف اس لئے کہ ان کی ترقی تبادلہ اور تنزلی سب وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے۔ صوبائی وزیراعلیٰ نہ ان کا کچھ بنا سکتا ہے اور نہ بگاڑ سکتا ہے۔ اور یہ بیان کہ کوئی افسر ہڑتال پر نہیں ہے سب کام کررہے ہیں ہر میٹنگ میں جاتے ہیں اور جو وزیر کہتے ہیں وہ کرتے ہیں یہ اتنا ہی بڑا جھوٹ ہے جتنا پندرہ پندرہ لاکھ روپئے والا سنہرا خواب تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر جو مرکزی حکومت یعنی مودی جی کا نوکر ہے اس کی یہ ہمت کس کے بل پر ہے جو وزیراعظم مودی سے زیادہ مقبول بن کر اُبھرا تھا اور کروڑوں لوگوں کا منتخب وزیراعلیٰ ہے اس کے ماتحت کی طرح کام کرنے کے بجائے اس پر حکومت کرنا چاہتا ہے؟

ہم یہ بات وزیراعظم سے محبت کی بناء پر کہہ رہے ہیں کہ دہلی میں سات سیٹیں لوک سبھا کی ہیں اور اس وقت سب پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ پانچ سال اگر کجریوال آرام اور آزادی کے ساتھ حکومت کرتے تو یہ ناممکن تھا کہ ان کے ووٹ کم نہ ہوتے۔ لیکن وزیراعظم اپنی بے عزتی کے انتقام میں سب کچھ بھول گئے اور وزیراعلیٰ کجریوال نے دہلی والوں کے لئے جو بھی کرنا چاہا اپنے نوکر گورنر کے ذریعہ اس میں رخنہ اندازی کی اور تعلیم یافتہ عوام نے محسوس کرلیا کہ وزیراعظم کجریوال کے ہاتھ پائوں باندھے ہوئے ہیں ۔ اس کا نتیجہ ہمارے نزدیک اور ہر غیرجانبدار کے نزدیک یہ ہوگا کہ دہلی والے بھی اس فوج میں سب سے آگے ہوں گے جو 2019 ء میں مودی کو سونیا گاندھی بنانے کے لئے جنگ کررہی ہوگی۔ حیرت تو دہلی کے ان کم عقل لوک سبھا کے ممبروں پر ہے جن کو مودی جی کی آواز پر ووٹ ملے اور اب ان کی مخالفت میں وہ ساتو ں بھی شکست کا منھ دیکھیں گے۔ وہ صرف اپنے ٹکٹ کے لئے سڑکوں پر گھرتڑوا رہے ہیں ۔

یہ بات دہلی کے بہت اونچی سطح کے لوگوں نے کہی کہ کجریوال صاحب جس انداز سے حکومت کرنا چاہ رہے تھے ان کو اگر آزادی سے کام کرنے دیا جاتا تو وہ ایک مثالی حکومت کا نقشہ ملک کو دیتے۔ یہ بات آج کی نہیں ہمیشہ سے ہے کہ دہلی کی آدھی سے زیادہ حکومت مرکز نے اپنے ہاتھ میں رکھی اور کانگریس کی اس وقت کی غلطیوں میں سے ایک غلطی یہ بھی ہے اور اس لئے ہے کہ اس نے جب یہ قانون بنایا تھا اور دہلی نام کی آدھی دولھن اپنے پاس اور آدھی عوام کو دی تھی تو اس نے کہیں سے کہیں تک یہ نہیں سوچا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوگا کہ مرکز میں اس کی حکومت ہوگی اور دہلی میں دوسری پارٹی کی یا مرکز میں مخالف کی ہوگی اور دہلی میں کانگریس کی یا دونوں میں ایک دوسرے کے مخالف کی۔ بہرحال یہ ماننا پڑے گا یہ آخری درجہ کا احمقانہ فیصلہ تھا۔ جس نے بھی کیا اس نے تین طلاق کے فیصلہ کی طرح ایک دن میں کردیا۔

جب یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ جن محکموں پر مرکز کی حکومت ہوگی اس کی جواب دہی لیفٹیننٹ گورنر کی ہونا چاہئے اور ان معاملات میں جو منتخب وزیراعلیٰ اور حکومت کے ہاتھ میں ہیں انپر اس آدھے گورنر کا بس وہ رشتہ رہنا چاہئے جو عام صوبوں میں وزیراعلیٰ اور گورنر کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم مودی سے زیادہ اسے اور کون سمجھ سکتا ہے جنہوں نے بارہ برس گجرات میں وزیراعلیٰ بن کر حکومت کی اور کانگریسی حکومت کے گورنر کو کتا بناکر رکھا۔ اب وہ اپنے آدھے کتے کو بھی شیر بنا رہے ہیں ۔ اور جو شیر ہے اس پر دبائو ہے کہ وہ بلی بن کر رہے۔ وزیراعظم مودی ہمیں معاف فرمائیں مگر یہ حقیقت ہے کہ کجریوال ان سے کم نہیں ہے اور دہلی کے معاملہ میں وزیراعظم جو کررہے ہیں وہ ہمارے نزدیک کجریوال کو فائدہ پہونچائے گا۔ جو اب دھرنے پر بیٹھ کر 2019 ء میں دہلی سے مودی جی کو صاف کرنے کی مہم کی ابتدا کررہے ہیں ۔ دہلی میں اگر ساتوں سیٹیں کجریوال کو مل جائیں گی تو ان کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن مودی جی کا بہت بڑا نقصان ہوگا جب لوک سبھا میں اقتدار کے لئے انہیں سو سو کروڑ میں ایک ممبر بھی نہیں مل رہا ہوگا۔

کل تک مودی جی 280  کے نشہ میں چور تھے اور جو اُن کا حلیف تھا جیسے نائیڈو، پاسوان وغیرہ ان کو بھکاری سمجھتے تھے۔ آج جہاز کو ڈوبتے دیکھ کر جب وہ چوہوں کی طرح بھاگ گئے یا بھاگ رہے ہیں تو انہیں ناراض دامادوں کی طرح منانے کی کوشش ہورہی ہے۔ لیکن وہ نہ کسی کے محتاج ہیں نہ کسی کے پابند، اب وہ الیکشن کے بعد دیکھیں گے کہ ان کا فائدہ کس کی حمایت میں ہے؟ اور اب وہ بھکاری نہیں چھوٹے پارٹنر بن کر آئیں گے جس کے ساتھ بھی آئیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close