سیاستہندوستان

دیپک مشرا جاتے جاتے غضب ڈھاگئے

حفیظ نعمانی

سابق چیف جسٹس دیپک مشرا صاحب نے جب سپریم کورٹ کی قیادت سنبھالی تو کسی نے ایسا کوئی اشارہ نہیں کیا تھا کہ وہ کس ماحول سے نکل کر آئے ہیں یا مرد و زن کی آزادی میں ان کے نظریات کیا ہیں؟ ہندوستان میں برسوں سے ایک مطالبہ ہم جنسی کے جائز ہونے کا کیا جارہا تھا یہ مطالبہ کرنے والے ملک کی 130 کروڑ آبادی کو دیکھتے ہوئے پہاڑ میں رائی کے دانے کے برابر تھے۔ ہم دوسرے مذاہب کی تو تفصیل نہ بتاسکیں گے لیکن اسلام کی تاریخ میں دنیا بنانے والے کے نزدیک اتنی گندی حرکت بتائی گئی ہے جس کی سزا یہ دی گئی تھی کہ بار بار سمجھانے اور ڈرانے کے باوجود جب لوگ نہیں مانے تو انہیں کسی بیماری میں مبتلا نہیں کیا بلکہ پوری آبادی کو زمین سے اوپر اٹھاکر ایسا پٹخا کہ ہر بدمعاش کا قیمہ ہوگیا اور اس کے بعد پتھروں کی بارش سے مزید مارا۔

ہم نے اپنے بعض بڑے وکیل دوستوں کو دیکھا ہے کہ اکثر وہ ہم سے معلوم کرتے تھے کہ اس جرم کی قرآن یا حدیث میں کیا سزا ہے اور اس کا حوالہ کیا ہے؟ ہائی کورٹ کے جج تو کئی دوست رہے اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اسلامی شریعت کی جزا اور سزا سے وہ واقف تھے اور ان کے چیمبر میں کتابوں کے درمیان انگریزی قرآن پاک اور مسائل کی کتابیں بھی رکھی تھیں۔ اور گفتگو میں وہ بے تکلف حوالہ بھی دیتے تھے۔ تو سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کیا واقف نہیں تھے یا قوم لوط کے ساتھ جو کیا گیا اسے انہوں نے یہ سوچ کر نظر انداز کردیا کہ یہ صرف مسلمانوں کا عقیدہ اور ان کی تعلیم ہے؟ ہم اس مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتے لیکن یہ تو ضرور کہیں گے کہ محترم جج صاحب نے یہ تو دیکھا ہوتا کہ مطالبہ کرنے والوں اور اسے قابل ذکر بھی نہ سمجھنے والوں میں کتنا فرق ہے؟ اور کیا وہ اسے تسلیم کرتے ہیں کہ دو لڑکیاں شوہر اور بیوی بن کر اپنی پوری زندگی گذار سکتی ہیں؟ اور کیا وہ ایسے جوڑوں سے واقف ہیں یا ان سے ملے ہیں؟

اسی زمانہ میں ہم نے کسی کا ایک افسانہ پڑھا تھا کہ دو لڑکیوں نے ساتھ ساتھ تعلیم شروع کی اور کسی کو خبر نہیں کہ انہوں نے کب آپس میں شادی کرلی اور اپنے اپنے والدین کے شادی کے تقاضوں کو ٹالتی رہیں اور ایک ہی بہانہ کرتی رہیں کہ ڈاکٹر تو بن گئیں اپنا نرسنگ ہوم بنالیں اور پھر دونوں نے اپنی ڈیوٹی بانٹ لی اور ایک دن دونوں اپنے اپنے کمپاؤنڈر کے ساتھ حقیقی ازدواجی زندگی گذارنے کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوگئیں۔

ہم نے کاروباری زندگی میں ہر طرح کے انسانوں سے تعلقات رکھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ بعض لوگوں کے ساتھ ہر دو تین سال کے بعد کوئی نیا لڑکا آیا۔ ہم نے کبھی کسی سے معلوم نہیں کیا کہ یہ کون ہے؟ اور ایسے بھی دیکھے کہ کوئی ان کے کاروبار کا نوجوانی میں نگراں تھا تو بڑھاپے میں بھی وہی نگراں ہے لیکن اتنی طویل رنگارنگ زندگی میں کسی لڑکی کے بارے میں نہیں سنا کہ فلاں فلاں زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ شوہر بیوی بن کر رہیں۔ عصمت چغتائی نے جو لکھا وہ وقتی بات تھی اور ایسے واقعات کا ہونا ایسے وقت جب کواڑ بھی پاپڑ معلوم ہو ناممکن نہیں ہے لیکن اسے قانونی جواز دینا ہوا میں گرہ لگانا ہے۔

اور دوسرا بھی اتنا ہی بھیانک فیصلہ دیپک مشرا جی نے کردیا کہ زنا کو ذراسی کلی اور ذراسا پھندنا لگاکر جائز کردیا۔ ہم نہیں کہتے کہ قرآن عظیم کو وہ کلام الٰہی مانیں لیکن جس ملک میں آبادی کا پانچواں حصہ مسلمان ہوں وہاں یہ نہ دیکھنا کہ قرآن میں صاف صاف کہا ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت کو سو سو کوڑے ایسے مارے جائیں کہ مارنے میں ذراسی بھی نرمی نہ ہو۔ اور شادی شدہ۔ مرد یا عورت کی اگر شہادت مل جائے تو سزا رجم ہے یعنی چاروں طرف سے اتنے پتھر مارے جائیں کہ مرجائیں آج دنیا میں اس پر غور ہورہا ہے کہ اگر کسی کو سزائے موت دی جائے تو وہ کون سا طریقہ اپنایا جائے جس سے کم سے کم تکلیف ہو۔ اور خائی فیصلہ یہ ہے کہ سزا کو ایسا بنایا جائے کہ وہ سزا معلوم ہو انعام نہیں۔ انگریزوں نے قانون کے ذریعہ سزا کو ہلکاکر دیا تھا ہندوستان میں انگریزوں کے جانے کے بعد اسے تبدیل تو نہیں کیا مگر اتنا لٹکا دیا کہ حکومت نے ہمارے ایک مضمون کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا وہ بیس برس تک چلتا رہا مگر اس میں چار گواہوں میں سے ایک بھی پیش نہیں ہوا اور جب بیس سال ہوگئے تو جج صاحب نے ایک بھی پیشی کے بغیر اسے خارج کردیا۔ گینگ ریپ کے جن واقعات پر موم بتیوں میں ایک کوئنٹل موم جل جاتا ہے برسوں اس کا فیصلہ نہیں ہوتا اور جسے سزا دے دی جاتی ہے اس سزا کی معافی کے لئے اپیل پھر مہا اپیل اور رحم کی درخواست میں اتنے برس لگ جاتے ہیں کہ جوانی کے جوش میں کی گئی حرکت کی سزا بڑھاپے میں دیتے وقت خیال آتا ہے کہ اب اسے کیا سزا دی جائے دو چار سال میں تو یہ مرہی جائے گا؟

سابق چیف جسٹس دیپک مشرا نے سزا کا قصہ ہی تمام کردیا اور اسے بھی آزادی کا مسئلہ بنا دیا اب یا تو آنے والے چیف جسٹس اس گھناؤنی آزادی کو بے قابو ہونے سے پہلے لگام لگادیں یا پھر اس آگ کو اور ہوا دے کر اسے ایسا شعلہ بنادیں کہ آزادی پسندوں کا ایک طبقہ یہ مطالبہ کربیٹھے کہ ہمیں وہ آزادی چاہئے جو کتوں کو سانڈوں کو گھوڑوں اور گدھوں کو حاصل ہے کہ پردہ کوئی چیز نہیں۔ جہاں کہیں نر اور مادہ ملنا چاہیں مل لیں وہ سڑک ہو پارک ہو یا ٹیلہ۔

ہوسکتا ہے کہ دنیا کے کچھ ملکوں میں 18 سال کے بعد ہر بات کی آزادی ہو لیکن ہمارے ملک کے جج صاحبان اپنے ملک کے ماحول کو تو دیکھیں کہ ہریانہ میں ہر عورت کا چہرہ ایک فٹ لمبے گھونگھٹ میں ہے اور ہم مسلمانوں کی اکثر عورتیں جیسے پردہ میں رہنا چاہتی ہیں وہ ایسی آزادی کو دیکھنا کیا سننا بھی نہیں چاہتیں۔ کیا جج صاحبان کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ صرف اپنی سطح کے سماج کو دیکھنے کے بجائے ہماری سطح اور ہم سے نیچے والی سطح اور غریبی کی ریکھا سے نیچے زندگی گذارنے والے سماج کو بھی پیش نظر رکھیں؟ وہ جس سماج کے مطالبہ کو پورا کررہے ہیں وہ تو بہت دنوں سے آزاد ہیں اور ان کے درمیان بیویوں کا تبادلہ اور عروج بالفروج نہ پہلے عیب تھا اور نہ اب عیب ہے لیکن ان کی تعداد بھی ہم جنسی کی آزادی کا مطالبہ کرنے والوں سے بھی کم ہے۔ ہر ہندوستانی کی زبان پر تھا کہ اب صرف سپریم کورٹ کا ہی سہارا ہے ان فیصلوں نے ان سب کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اب جسٹس گوگوئی کی طرف سب دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھی اسے زخم سمجھتے ہیں یا نہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close