سیاست

دیکھو کیا گذرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک 

حفیظ نعمانی

اگر کوئی اکثریت نہیں بہت بڑی اکثریت میں ہے اور اس کی تائید کرنے والے زرخرید اور اندھے ہیں تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔بال ٹھاکرے والی شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ایک بیان مارا ہے کہ ہم نے بابری مسجد 17  منٹ میں گرادی تھی (یہ الگ بات ہے کہ وہ 17 منٹ دن بھر چلتے رہے تھے) تو قانون بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ ان کی تعلیم کیا ہے اور یہ بات وہ کس سے معلوم کررہے ہیں کہ قانون بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ اور یہ اس خبر کے تین دن کے بعد کہہ رہے ہیں کہ 1984 ء میں سکھ مخالف جو فساد ہوا تھا اس کے مجرموں میں سے دو کو سزا دینے میں 34  برس لگے ہیں اور جانے کتنے مقدمے ہیں جو اس سے بھی زیادہ دنوں سے پڑے ہوئے ہیں تو مسجد مندر کے بارے میں کون بتائے؟

اور مسجد گرانے کی ابتدا تو اس دن ہوگئی تھی جس دن پنڈت گووند ولبھ پنت کی حکومت میں 68  برس پہلے رات کے اندھیرے میں مسجد کا تالا توڑکر چوروں کی طرح مورتیاں رکھ دی گئی تھیں اور اس کے بعد رکھنے والے جھوٹ بولتے رہے مگر اترپردیش کی حکومت اسے مسجد ہی کہتی رہی اور تھانے میں رپورٹ بھی یہی ہے کہ مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں۔

سنجے راوت نے کہا ہے کہ اجودھیا سے قصر صدارت تک بی جے پی کی حکومت ہے پھر مندر بنانے میں کیوں دیر کی جارہی ہے؟ یہ بھی ان کی جہالت ہے ورنہ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر 6 دسمبر 1992 ء کو بھی اجودھیا سے قصر صدارت تک بی جے پی کی حکومت ہوتی تو دس بال ٹھاکرے بھی اگر کوشش کرتے تو ایک اینٹ نہیں گرا سکتے تھے۔ بابری مسجد تو صرف اس لئے گرانے میں کامیاب ہوگئے کہ مرکز اور قصر صدارت میں کانگریس کی حکومت تھی اور فوج وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کے حکم سے گولی نہیں چلا سکتی تھی۔ اس کے لئے نرسمہا رائو کو حکم دینا تھا جو وہ نہ دے سکے۔

انہوں نے خود اپنی پیٹھ یہ کہہ کر تھپتھپائی ہے کہ ہم نے رام مندر کے لئے بہت قربانی دی ہے۔ ہم نے نعرہ دیا تھا کہ پہلے مندر پھر سرکار ہوسکتا ہے کسی پارٹی کے نزدیک نعرہ قربانی ہوتا ہو لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ شیوسینا کی کسی صوبہ میں حکومت نہیں ہے اور وہ پارٹی جس کی حکومت نہ ہو وہ غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے لئے آزاد ہوتی ہے۔

آ ج بی جے پی کی دونوں جگہ حکومت ہے اور کچھ بھی ہوتا ہے تو اسے قوم کو اور دنیا کو جواب دینا ہوگا۔ سنجے راوت کیا یہ نہیں دیکھ رہے کہ وزیراعظم مودی جن پر حکومت بنانے کے ساتھ امن و امان کی بھی ذمہ داری ہے بالکل چپ ہیں۔ بابری مسجد کے جس واقعہ پر ملائم سنگھ کے گولی چلوانے کا بار بار ذکر آتا ہے وہ ایک ملائم سنگھ نام کے ہندو نے نہیں اترپردیش کے وزیراعلیٰ نے چلوائی تھی۔ وہ کلیان سنگھ کی طرح ذلیل اور نااہل بننے کے لئے تیار نہیں تھے اسی لئے آج 80  ویں سالگرہ پر بھی کیک کاٹا جارہا ہے اور ہر ہفتہ میں کسی نہ کسی معاملہ میں ان کا نام بھی لیا جاتا ہے اور ذکر بھی آتا ہے لیکن کلیان سنگھ! ہے کوئی جس کی زبان پر اس کا نام آتا ہو؟

اترپردیش کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی نے انکائونٹر میں چاہے پولیس کے ہاتھوں جتنے مسلمانوں کو بھی مروا دیا ہو رام مندر یا دھرم سبھا کے لئے آنے والوں کے ہاتھوں یہ بھی برداشت نہیں کریں گے کہ کسی مسلمان کی دُکان لوٹی جائے یا کسی مسجد کو گرایا جائے۔ اسی لئے انہوں نے تمام بڑے افسروں اور پولیس نیز پی اے سی اور دوسری ایجنسیوں کے ایک لاکھ کے قریب مسلح جوان لگادیئے ہیں۔ یہ ان کے یا وزیراعظم کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ فوراً کرادیں اس کے ساتھ ان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ کا احترام باقی رہے اور سب اس کا فیصلہ مانیں۔ سنجے راوت نے بھی وہی جاہلوں والی بات کہی ہے کہ قانون بناکر زمین کو مندر کے لئے لے لیں انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا کے اندر ایسے بہت سے ممبر ہیں جو رام مندر کیلئے ساتھ کھڑے ہیں اور جو مخالفت کرے گا اس کا ملک میں گھومنا دوبھر کردیا جائے گا۔ یہ وہی غنڈہ گردی کی سوچ ہے جو اس وقت تک رہتی ہے جب تک حکومت کی ذمہ داری نہ ہو۔

سنجے راوت اور وہ تمام لوگ اس نازک فرق کو سمجھ لیں جو تین طلاق بل کے لئے آرڈی نینس میں اور رام مندر کے آرڈی نینس میں ہے۔ تین طلاق کسی کی جائیداد نہیں تھی اور تنویر پریس، ہوٹل ردا اور 31 قیصر باغ کا رہائشی مکان میرے بچوں کے ہیں اگر سنجے راوت وزیراعظم ہوں تو کیا ان تینوں عمارتوں کو اپنے باپ کی جائیداد کہہ سکتے ہیں اور اگر ہم عدالت میں چلے جائیں تو کیا وہ آرڈی نینس کے ذریعہ ان پر قبضہ کرلیں گے؟ اگر یہ ہونے لگے تو راج ٹھاکرے اس بلڈنگ پر اپنا دعویٰ کرسکتے ہیں جس کو بال ٹھاکرے نے بنایا تھا۔ ہر پڑھا لکھا آدمی سابق چیف جسٹس مسرا جی کا یہ بیان سن اور پڑھ چکا ہے کہ میں نہ مذہب دیکھوں گا نہ عقیدہ نہ آستھا میں صرف زمین کی ملکیت کا فیصلہ کروں گا کہ وہ زمین جس پر مسجد تھی میر باقی نے خریدی تھی یا کسی نے انہیں مسجد بنانے کیلئے دی تھی۔ اس ملک میں تو ساکشی مہاراج جیسے لوگ بھی ہیں کہ جامع مسجد کے نیچے سے مورتیاں نہ نکلیں تو مجھے پھانسی دے دینا۔

اگر ملک میں ایسا ہی جنگل راج ہوجائے جیسا بابا لوگ بنائے ہوئے ہیں تو مورتیاں نہ نکلنے پر پھانسی بھی دی جائے گی بابا دیکھ رہے ہیں کہ کسی کو پھانسی کی سزا دینے میں کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ان کو پھانسی دینے سے ملک کا کیا نقصان ہوگا؟ بہرحال اب بھی جو کچھ ہورہا ہے اور جس کی یوگی نے اجازت دی ہے وہ بھی الیکشن کی ضرورت ہے ورنہ اس سے عقل سے کیا تعلق؟ جس دن عدالت کہتی کہ زمین ہندوئوں کی ہی تھی تو دنیا بھر کے ہندوئوں کو بلا لیا جاتا۔ اس وقت جو بھی ہورہا ہے اور جو بھی کررہا ہے وہ دھرم نہیں ہے الیکشن ہے اور یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ حکومت کے لئے دھرم کو دائو پر لگایا جارہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close