سیاست

دیکھیں کیا گذرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک

حفیظ نعمانی

بہوجن سماج پارٹی کی چیئرپرسن مس مایاوتی نے ابھی نہ کسی پارٹی سے ہاتھ ملانے کی بات کہی ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں کوئی اشارہ دیا ہے۔ بظاہر ان کے سامنے راجیہ سبھا اور کائونسل کی رکنیت کا مسئلہ تھا جس میں ان کے 19 ممبر اُن کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے تھے۔ مس مایاوتی نے بظاہر ان کا اس طرح سودا کیا ہے کہ اپنے گمنام بھائی کو راجیہ سبھا کا ممبر بنادیں۔ اس سودے میں سماج وادی پارٹی کے فاضل ووٹ اور کانگریس کے سات ووٹ لے کر اپنے بھائی کو راجیہ سبھا کا ممبر بنا دیں گی اور اس کی قیمت صرف ایک بیان کی شکل میں دی ہے کہ پارلیمنٹ کی دو سیٹوں گورکھ پور اور پھول پور کے ضمنی الیکشن میں اس اُمیدوار کو ووٹ دیں جو بی جے پی کو ہرا رہا ہو۔ اور خود فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے ووٹروں پر یہ فیصلہ چھوڑ دیا ہے۔

مس مایاوتی کی زندگی کے فیصلوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ اعلان ایسا ہے کہ جو جس گائوں میں ہے وہاں اسے کوئی بی جے پی کو ہراتا نظر آرہا ہے اور دوسرے کو دوسرا  اور تیسرے کو تیسرا تو کوئی بڑی بات نہیں تھی کہ وہ سماج وادی پارٹی کا نام لے کر اعلان کرتیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عام طور پر سمجھا یہی گیا ہے اور اسی اعلان کے بعد شرد پوار کی کانگریس اور چودھری اجیت سنگھ نے اپنی پارٹی کی طرف سے سماج وادی پارٹی کو حمایت دینے کا اعلان کردیا ہے۔

 پھول پور کے الیکشن میں سابق ممبر پارلیمنٹ عتیق احمد بھی اُمیدوار ہیں شہرت یہ ہے کہ بی جے پی کے ماہر کہے جانے والے امت شاہ سیکڑوں کروڑ ایک ڈاکٹر پر برباد کرکے اب عتیق کو مسلم ووٹوں کا ٹھیکہ دے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عتیق نے معذرت کی تو ان سے کہا گیا کہ اپنی بیگم کو لڑادو پھر نہ جانے کیا سودا ہوا کہ اب عتیق ہی میدان میں ہیں۔ اور میڈیا گلا پھاڑ پھاڑکر چلا ّ رہا ہے کہ مس مایاوتی کے اعلان کے بعد مسلم ووٹ اب پوری طرح سماج وادی پارٹی کے پاس چلے جائیں گے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی کے لیڈر ظاہر تو یہ کررہے ہیں کہ یہ سب بی جے پی کے طوفان، آندھی اور سیلاب کے ڈر سے ایسے ہی ایک ہوگئے ہیں جیسے ایسے موقع  پر سانپ اور چھچھوندر ایک ہوجاتے ہیں لیکن اندر سے ان کا کیا حال ہے یہ وہ جانتے ہوں گے یا دنیا کا پالن ہار۔ اگر سماج وادی پارٹی سنجیدگی سے یہ الیکشن لڑے اور کانگریس اپنے آپ کو ہٹالے تو بی جے پی کا وہی حشر ہوگا جو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں ہوا بلکہ اس سے بھی بہت برا۔ اُترپردیش میں تو حکومت بنے ایک سال ہوگیا اور ایک بھی خبر اس وکاس کی نہیں آئی جس کا ڈھول گلے میں ڈالے مودی جی اور یوگی جی بجائے چلے جارہے ہیں۔

اُترپردیش میں ایک وکاس تو ضرور ہوا کہ ملک کے موٹے پیٹ والے اور دوسرے ملکوں کے چند دولت والوں کو بلاکر دکھایا کہ اُترپردیش میں ہر طرف پھول ہی پھول ہیں۔ اس کے لئے گومتی نگر اور اُن راستوں پر جن سے ان دولت کے پجاریوں کو گذرنا تھا یا جس جگہ پروگرام ہونا تھا ہر جگہ پھولوں سے بھرے گملے رکھے تھے جو تین کروڑ کا ٹھیکہ دے کر منگوائے گئے تھے۔ ان مہمانوں نے اعلان کیا کہ وہ اُترپردیش میں کارخانے لگائیں گے اور یہ بھی اعلان کیا کہ کتنے ہزار کروڑ روپیہ لگائیں گے اور وزیراعلیٰ نے اعلان کردیا کہ اُترپردیش کے چار لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ اُترپردیش کی آبادی 22 کروڑ ہے ہوسکتا ہے گورکھ پور اور پھول پور کے حصہ میں بھی ہزار ہزار نوکریاں آجائیں۔

اُترپردیش کے وزیراعلیٰ گورکھ پور کے ہی رہنے والے ہیں جہاں کے ایک بڑے اسپتال میں آکسیجن کے ہونے نہ ہونے کے چکر میں 50 سے زیادہ بچے مرگئے تھے اس حادثہ نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ اس واقعہ کو شاید 9 مہینے سے زیادہ ہوگئے اتنے دنوں میں ایک اتنا ہی بڑا اسپتال بن کر کھڑا ہوسکتا تھا لیکن آج تک کوئی خبر نہیں آئی کہ جو ماں باپ معصوم بچوں کو لئے عمارت سے باہر پڑے رہتے ہیں ان کا ٹھکانہ بنا یا نہیں۔ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کو کچھ بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اہم ترین مسئلہ ٹرافک کا ہے جو آتا ہے وہ روتا ہوا آتا ہے کہ 15 منٹ کا راستہ اور ڈیڑھ گھنٹے میں آئے ہیں۔ صرف وہ راستے جو میٹرو کی وجہ سے گلیاں بن گئے ہیں وہی نہیں ہر سڑک کے دونوں طرف پولیس نے پیسے لے کر ناجائز قبضے کرا رکھے ہیں اور ہر طرف ر شوت ہے۔

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اگر کام کی کثرت ہے یا وزیراعلیٰ کی دلچسپی کے کام دوسرے ہیں تو اُن کے پاس دو نائب ہیں جن میں سے ایک دس برس شہر کے میئر رہ چکے ہیں اور تعلیم کا محکمہ ان کے پاس ہے۔ انہوں نے اپنے محکمے میں جتنا کیا ہے اس کا نتیجہ ہے کہ نقل کی اُمید میں فارم بھرنے والے دس لاکھ بچوں کو یقین ہوگیا کہ وہ نقل نہیں کرپائیں گے اور انہوں نے امتحان نہیں دیا۔ یہ صرف ہائی اسکول اور انٹر میں ہی نہیں ہوا جب بی اے کے امتحانات شروع ہوئے ہیں۔ جو بچی میری دیکھ بھال کے لئے میرے پاس رہتی ہے وہ کرامت حسین کالج میں امتحان دے کر آئی تو بتایا کہ ہر کلاس میں کیمرے لگے تھے دو لڑکیوں نے آپس میں بات کرلی تو دو منٹ میں پرنسپل نے آکر ٹیچر سے کہا کہ آپ کے کمرہ میں کسی نے کسی سے بات کیوں کی؟

اُترپردیش کی ان دو سیٹوں کے الیکشن کی طرف سے پہلے تو ہر طرف بددلی تھی لیکن مس مایاوتی کے اعلان کے بعد اب ہر کسی کی نظر اس پر ہوگئی ہے۔ بی جے پی تو اپنی عزت بچانے کے لئے جتنا بھی خرچ کرے کم ہے اکھلیش یادو بھی 2019 ء کو نظر میں رکھتے ہوئے کوئی کمی نہیں ہونے دیں گے۔ وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ وہ وزیراعظم جو 2014 ء میں 56 اِنچ کا سینہ لے کر الیکشن میں اُترے تھے اپنے ہی ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کی بدولت 36 اِنچ کے رہ گئے تھے پھر نیرو مودی اور ان کے ماما نے ساڑھے بارہ ہزار کروڑ ہضم کرکے اور وزیراعظم کے علم میں ہونے کے بعد ملک سے فرار ہوکر ان کا سینہ 26 اِنچ کا کردیا ہے۔ اب وہ کیرتی چدمبرم کو پکڑیں یا راہل گاندھی کے رشتہ دار کو اس سے ان کے سینہ پر گوشت نہیں آئے گا۔

اگر 2019 ء کا الیکشن لڑتے وقت یہ نہ سوچا جائے کہ وزیراعظم کون بنے گا تو ملک سے بی جے پی کے اقتدار کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے مار سے ہی کیا کم تھے کہ اب کسان اور وہ نوجوان جو 2014 ء میں مودی جی کو کاندھوں پر بٹھاکر لائے تھے وہ اب ان کو ہٹانے کے بارے میں منھ کھول کر باتیں کررہے ہیں اور مہنگائی کا یہ حال ہے کہ گائوں میں بھی سبزی کے وہی دام ہیں جو شہر میں ہیں اگر پھول پور کا اور گورکھ پور کا الیکشن سنجیدگی سے لڑایا جائے تو نتیجہ وزیراعظم کی نیند حرام کرنے والا ہوسکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close