سیاست

راج ببر کے استعفے کی خبر کی اہمیت کیا ہے؟

حفیظ نعمانی

اُترپردیش کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر کے استعفے کی خبر شام سے رات تک ہر چینل پر آتی رہی۔ صبح کے اخباروں سے معلوم ہوا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور ابھی وہی صدر ہیں۔ راج ببر نے مزید تفصیل جو بیان کی اس کا حاصل یہ تھا کہ اب کوئی عہدیدار نہیں ہے۔ اب نہ کوئی ورکنگ کمیٹی ہے اور نہ کوئی جنرل سکریٹری نہ پی سی سی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اب سب کچھ نیا بننے والا ہے۔

جہاں تک راج ببر کا تعلق ہے وہ تو کاغذی کارروائی کریں نہ کریں انہوں نے اس دن سے اپنے کو پارٹی سے الگ تھلگ کرلیا تھا جب راہل گاندھی نے اپنے معتمد پی کے کے ذریعہ اکھلیش یادو سے مل کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جن لوگوں کو 13 مہینے پہلے کی بات یاد ہوگی تو انہیں یاد آجائے گا کہ 2017 ء کا الیکشن لڑنے کے لئے نئی قیادت دہلی سے ایک خوبصورت بس میں لکھنؤ آئی تھی جس میں نئے صدر راج ببر الیکشن انچارج غلام نبی آزاد اور کامیاب ہونے کے بعد وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی مسز شیلا دکشت سوار تھیں۔ اور سب کارروائی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے صحافی م افضل بھی تھے۔

تقریباً ایک مہینے تک پرشانت کشور کی رہنمائی میں مشرقی یوپی کا سروے کیا گیا جس میں کھاٹ پنچایتیں بھی تھیں نائب صدر راہل گاندھی بھی مسلسل دوروں میں ساتھ رہے۔ اور بعد میں معلوم ہوا کہ پرشانت کشور نے اندازہ کیا کہ کانگریس اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ الیکشن اپنے بل پر لڑے اور کامیاب ہو۔ شاید راہل گاندھی نے پرشانت کشور کو ہی ملائم سنگھ سے گفتگو کرنے پر مامور کیا اور اس خبر کے بعد پہلے تو شیلاجی واپس گئیں اس کے بعد غلام نبی آزاد اور یوپی کے صدر راج ببر سامنے سے ہٹ گئے۔ اور مذاکرات ہوتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف اتنی سیٹیں دینے پر اکھلیش یادو تیار ہوئے جن کے بارے میں راج ببر سوچ بھی نہیں سکتے تھے لیکن کانگریس کے مالک و مختار ہر شرط ماننے کے لئے تیار ہوگئے۔ اور جب کانگریس کے دفتر میں یہ اعلان کیا گیا کہ کانگریس کتنی سیٹوں پر لڑے گی اور سماج وادی پارٹی کتنی سیٹوں پر لڑے گی یہ اعلان کرنے والے نہ صدر راج ببر تھے اور نہ اُن کے ترجمان ۔ اور جو اعلان کررہے تھے وہ ایسے کررہے تھے جیسے آخری رسوم کی خبر دے رہے ہیں۔

اُترپردیش سے پہلے بہار کے الیکشن ہوچکے تھے وہاں جو بھی کانگریس کے صوبائی صدر ہوں انہوں نے مہاگٹھ بندھن میں شریک ہونے کا حق ادا کردیا اور انہوں نے جہاں جہاں اُن کے امیدوار تھے وہاں لالو یادو کو بلایا اور لالوجی نے دل کھول کر کانگریس کے اُمیدوار کو ووٹ دلائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 25 ایم ایل اے جیت گئے۔ جبکہ ہم نے کسی ٹی وی چینل پر نہ راج ببر کو دیکھا نہ غلام نبی آزاد کو اور اس کا ہی نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس جو سیٹ کبھی نہیں ہاری وہ بھی ہار گئی۔ غلام نبی آزاد اور راج ببر دیکھ رہے تھے کہ مودی جی الیکشن کو ہندو مسلمانوں کے بجائے گہرے ہندو اور ہلکے ہندو میں تقسیم کررہے ہیں اور بی جے پی کے پورے لاؤ لشکر کے سامنے اکیلا اکھلیش یادو ہے۔ یہ وقت تھا کہ راہل گاندھی راج ببر اور غلام نبی آزاد سب میدان میں کود پڑتے اور مودی جی پر ہر طرف سے حملے کرتے۔

کانگریس کا ہی نہیں ہر پارٹی کا اب یہ طریقہ ہوگیا ہے کہ ایک سطری حکم دے دیا اور کسی کو صدارت سے ہٹا دیا اور ایک سطری حکم سے کسی کو بنا دیا۔ ریتا بہوگنا جوشی کانگریس کی صدر ہی تھیں جنہیں ذراسی بات پر ہٹا دیا اور وہ پارٹی چھوڑکر بی جے پی میں چلی گئیں۔ ہمیں یاد نہیں کہ کسی کو اس کی خدمت اور کارکردگی کی بنیاد پر صدر بنایا ہو۔

راج ببر کے بارے میں معلوم ہوا تھا وہ سچ تھا یا جھوٹ کہ ان کے نام کے بارے میں پرینکا گاندھی نے مشورہ دیا تھا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو پرینکا گاندھی کو راج ببر کے بارے میں اس سے زیادہ کیا معلوم ہوگا کہ وہ پرکشش ہیں بولتے اچھا ہیں اور نئی نسل اُن کے نام اور کام سے واقف ہے۔ لیکن یہ تو نہیں معلوم تھا کہ مزاج کیسا ہے یا تنک مزاج کتنے ہیں؟ پارٹی کی ذمہ داری اسے دینا چاہئے جو پارٹی کے بڑوں کا فیصلہ آنکھ بند کرکے قبول کرے۔ جتنے دن بھی راج ببر صدر رہے اس عرصہ میں سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ کانگریس کو سماج وادی پارٹی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا ہے۔

رہی یہ بات کہ کانگریس کو کتنی سیٹیں ملیں اور سماج وادی پارٹی کتنی سیٹوں پر لڑے گی یہ فیصلہ راہل گاندھی کو کرنا تھا اور جب انہوں نے کردیا تو صوبائی صدر کو ہر سیٹ پر جانا تھا اور سماج وادی پارٹی کی سیٹ پر بھی حمایت کرنا تھی اس لئے کہ یہ بڑوں کا فیصلہ تھا۔ جن صوبوں میں علاقائی پارٹیاں بہت مضبوط ہیں وہ کانگریس سے لڑکر ہی بنی ہیں ان کے بارے میں یہ سوچنا کہ وہ اپنی کرسی کانگریس کو دے دیں گی حماقت ہے اور اترپردیش بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس لئے کانگریس اپنے کو زندہ تو رکھے مگر مورچہ نہ لے بلکہ علاقائی پارٹیوں سے دوستانہ سودا کرے اور ان صوبوں میں ساری طاقت لگائے جہاں صرف بی جے پی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close