سیاستہندوستان

رافیل ڈیل: مودی حکومت کے لیے دوسرا بوفورس حادثہ نہ بن جائے

فرانس کے سابق صدر کے انکشافات نے پھر ایک بار اس بات پہ مہر لگا دی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ریلائنس کی ایک ایجنسی کی طرح کام کررہی ہے۔

صفدر امام قادری

اب یہ سوالات زیادہ اہم نہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آگے اور کتنے منظم انداز سے مالی خردبرد کے کارنامے انجام دے گی اور اس کے وزرا ایسے کاموں پر حکومت کا کس انداز سے بچاو کرتے ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ بار بار یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ملک کے صنعت کاروں اور کاروباریوں کے اشارے پر چل رہی ہے۔ اس کا مقصد عام سماج کی فلاح نہیںہے اور نہ ہی ملک کی تعمیر و ترقی میں اس کی کاوشیں نظر آتی ہیں۔ حکومت جیسے ہی چار سال مکمل کرکے آخری برس کی طرف بڑھ رہی ہے، شاید اسے بھی اندازہ ہے کہ اگلی بار اسے حکومت کا پھل پھول حاصل نہیں ہوگا اور عوام کی طرف سے اسے راندۂ درگاہ قرار دے دیا جائے گا۔ایسی حالت میں اس کا مطمحِ نظر واضح ہے کہ وہ بہرطور اپنی حکومت کے آخری لمحے میں لوٹ کھسوٹ کر کچھ اس طرح سے رقم جمع کرلے جس سے سبک دوشی کے زمانے میں کام کاج چل سکے اور اس کے کارندے اپنا ٹھاٹ باٹ قائم رکھ سکیں۔

راجیو گاندھی کی حکومت کے دور میں مشہور بوفورس کانڈ سامنے آیا اور پارلیامنٹ سے لے کر سڑکوں تک اس زمانے کی اپوزیشن نے اس پر حکومت کو بیک فٹ پر کرنے میں کامیابی پائی تھی ۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے استعفیٰ سے یہ سلسلہ شروع ہوا تھا اور الیکشن میں کانگریس کی ایسی شکست ہوئی جس کا کسی نے اندازہ نہیں کیا تھا۔ پندرہ برس کانگریس کو حکومت سے باہر رہنا پڑا اور نہرو خاندان کے لیے تو اب بھی انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اس زمانے میں سب سے پہلے اس معاملے میں پارلیامنٹ کا چکا جام کرنے کی بہت کامیاب حکمتِ عملی اپنائی گئی تھی اور ایوان میں کانگریس کے چھکے چھوٹ گئے تھے۔ کانگریس سے دھیرے دھیرے نکل کر لوگ الگ ہونے لگے اور حکومت کو اس موضوع پر واضح صفائی دینے کے لیے مجبور کرنے لگے۔ حالاںکہ یہ سچ ہے کہ بوفورس کی جانچ کے انداز پر بعد میں بھی سوالات قائم ہوئے مگر کسی بڑی مچھلی کے پھنسنے کا حتمی موقع اب تک ہاتھ نہیں آیا۔ یہ ضرور ہوا کہ اس سے عوام تک ساری باتیں پہنچیں اور آنے والے وقت میں انتخاب کے مرحلے میں عوام کے فیصلے نے یہ ثابت کردیا کہ حکومت میں اب نئے چہرے ہوںگے اور چوری بے ایمانی کے الزامات کے تمغوں کے ساتھ جی رہے حکمرانوں کو اقتدار کی قدرِ اول میں نہیں دیکھا جاسکے گا۔

اس وقت بھی وقت کچھ آج ہی کے جیسا تھا۔ ایک سال کے اندر الیکشن ہونے والے تھے۔ یاد آتا ہے کہ بعض لوگوں نے ذرا دیر سے استعفیٰ اس لیے دیا کہ وہ پہلی بار ایوان کے رکن بنے تھے اور ان کی معیاد چار برس نہیں ہوئی تھی۔ ضابطے کے مطابق انھیں پنشن کے معقول فائدے نہیں مل سکتے تھے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رک رک کر ایک حکمتِ عملی کے تحت ہی بڑی تعداد میں پارلیامنٹ کے ارکان نے استعفیٰ دیا اور حکومت پر متواتر یہ دباو بنائے رکھا کہ یہ حکومت بے ایمان ہے اور اسے اقتدار میںر ہنے کا حق حاصل نہیں ہے، اس لیے اسے فوراً انتخابات کی طرف بڑھنا چاہیے اور عوام سے نئے سِرے سے اجازت لے کر ایوان میں آنا چاہیے۔ جیسا ہر حکومت کرتی ہے، اس وقت بھی کانگریس نے پوری بے شرمی کے ساتھ اپنا بچاوکیا تھا اور بہت مجبوری کے عالم میں ہی پارلیامنٹ کی کمیٹی جانچ کے لیے بنائی گئی۔ بعد میں اور ایجنسیوں نے بھی اس طرف اپنی کوششیں کیں مگر مکمل نتیجہ اب تک سامنے نہیں آیا۔

رافیل معاہدے میں کئی چیزیں سامنے کی ہیں۔ فرانسو اولاندنے یہ واضح کیا ہے کہ رافیل معاہدے میں ضابطے کے مطابق اسے ایک ہندستانی شراکت دارشامل کرنا تھا، اس سلسلے سے حکومتِ ہند نے صرف ایک نام انل امبانی کی کمپنی ریلائنس ڈیفنس کو آگے بڑھایا تھا۔ حکومتِ فرانس کے پاس انتخاب اور نامنظوری کے لیے کوئی موقع نہیں تھا۔ اس لیے اربوں روپے کے اس معاہدے میں امبانی پارٹنر کے طور پر سامنے آئے۔ رہ رہ کر ہندستان کے عوامی حلقے میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ایک ایک کرکے تمام طرح کے معاملات امبانی اور اڈانی یا چند منتخب صنعت کاروں کو سپرد کررہی ہے۔ سخت لفظوں میں تبصرہ کرنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ملک کو ان کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے یا بیچ دیا ہے۔ یہ اس لیے ہورہا ہے کیوںکہ ۲۰۱۴ ء کے الیکشن میں امبانی اور اڈانی جیسے صنعت کاروں نے نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے اپنے خزانے کے دروازے کھول دیے تھے اور انھی کی بدولت نریندر مودی نے اپنا اشتہاری سلسلہ قائم کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں نچلے پائیدان سے اوپر اٹھ کر صفِ اول کے لیڈر بنے اور بالآخر وزیر اعظم کی کرسی پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے۔اب مودی حقِ نمک ادا کررہے ہیں۔

حسبِ توقع بھارتیہ جنتا پارٹی کے شہ زور وزرا اور ٹی۔وی۔ پر پورے زوروشور سے آوازہ کسنے والے کارکنان اچانک سامنے سے ہٹ گئے ہیں ۔ ہر بات میں اپنی ہٹ دھرمی کے لیے مشہور پارٹی کے ترجمان ابھی ہوا کا رُخ بھانپ رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع نے بڑا میکانیکی بیان دیا ہے کہ وہ حقائق جمع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ حسبِ سابق نریندر مودی اور امت شاہ خاموش ہیں۔ طوفان ذرا تھمے اور مخالفین کی انرجی کم ہو تب دھیرے دھیرے الگ الگ گوشے سے صفائی کی تیاری ہوگی۔ ارون جیٹلی مورچہ سنبھالیں گے اور ان کے ساتھ ساتھ منہ زور اور فضول گوئی کے لیے مشہور افراد کی ٹیم سامنے آئے گی۔ لوگ یہ سوال شروع کرچکے ہیں کہ من کی بات عوام سے کرنے والے وزیر اعظم آخر دیش کے سلگتے ہوئے سوالوں پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ خاص طور سے جب داغ ان کے گریبان پر نظر آرہا ہو تو سچ بولنے کے لیے انھیں کم سے کم ظاہر کی ہی بات تو عوام کے سامنے پیش کرنی ہی چاہیے۔ مگر انھیں تین ریاستوں کے انتخابات اور پھر آئندہ پارلیامنٹ کے لیے عام انتخاب کی تیاری کرنی ہے جسے حقائق کے بجاے جھوٹ کی بنیاد پر عمارت تعمیر کرکے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ابھی کی سیاسی صورتِ حال یہ ہے کہ حزبِ اختلاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔اسی سے موثر قیادت کے فقدان میں بھاجپا کو آگے بڑھنے کے لیے مواقع در مواقع حاصل ہورہے ہیں۔ راہل گاندھی میں یہ صلاحیت نہیں نظر آتی کہ وہ وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی طرح میدان میں اترآئیں اور سیاست دانوں سے لے کر عوام تک ان کے پیچھے چل پڑیں۔ وشوناتھ پرتاپ سنگھ تجربہ کار بھی تھے اور تھوڑے وقفے ہی کے لیے سہی مگر وہ قربانی دینے کے لیے تیار تھے۔ کانگریس کو دو ٹکڑے صرف بوفورس کے معاملے پر کر دینے پر وہ کامیاب رہے۔ خاص طور سے راجیو گاندھی کی کابینہ ٹوٹ گئی اور ان کے سب سے قریبی لوگ ان سے الگ ہوگئے۔ راہل گاندھی اب بھی نقلی انداز میں سیاسی قیادت انجام دے رہے ہیں۔ پورے انتیس برس میں ان کی ماں اس طرح کی نقلی قیادت کرتے کرتے آخر میں اپنے بیٹے کے حق میں عہدے سے دست بردار ہوئیں۔ انھیں یہ بات معلوم تھی کہ ان کی قیادت کو قبولِ عام کا درجہ کیوں کر ملے گا اور خاص طور پر دوسری جماعتوں کے سیاسی لیڈر ان کے پیچھے صف بندی کرنے کے لیے کیوں تیار ہوںگے؟
اصل مسئلہ اپوزیشن کو یکجا ہونے کا ہے۔ ملائم سنگھ یادو کی بھاجپا سے اندرونی سانٹھ گانٹھ پر ایک عالم انھیں شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ لالو یادو اب باہر سے ہی تماشا دیکھ سکتے ہیں۔

شمالی ہندستان میں اپوزیشن کے یہ مقبول چہرے تھے۔ کمیونسٹ پارٹیوں میں اب جیوتی بسو کی طرح کوئی ایسا لیڈر نہیں جس کی قیادت تسلیم کرنے میں پریشانی نہیں ہو۔ نتیش کمار رفتہ رفتہ اپنی امیج بڑھانے میں کامیاب ہوئے تھے مگر انھیں بڑے سلیقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی مٹھی میں قید کرلیا اور اگر وہ نکلیں بھی تو آسانی سے حزبِ اختلاف کے لیڈر نہیں بن سکتے۔ ممتا بنرجی لگاتار جدوجہد اور اقتدار میں رہنے کی وجہ سے سب سے تجربہ کار ہیں مگر دشواری یہ ہے کہ انھیں مختلف پارٹیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا بالکل ہی کوئی تجربہ نہیں اور اکثر ان کے مزاج میں یہ بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ڈھاک کے وہی تین پات۔ لے دے کر اب بھی راہل گاندھی ہی قومی امیج رکھنے والے لیڈر ہیں۔ اب تک ان کے بزرگ کانگریسی لیڈر جن میں بڑے بڑے لوگ، تجربہ کا راور فکر و نظر کے حامل افراد شامل ہیں؛ وہ اندر سے جوڑ توڑ اور سازشیں کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ اگر ایک بار وہ سیاسی پارٹی کے ارکان کی طرح پورے ملک کی غیر فرقہ واریت کی آواز بن کر راہل گاندھی کے ساتھ آئیں اور باقی صوبائی حکومت اور صوبائی لیڈروں کو اعتماد میں لے کر دس گیارہ مہینے کے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے میدان میں اتر آئیں تو یہ بالکل کوئی مشکل بات نہیں ہوگی کہ نریندر مودی کی حکومت کو بے نقاب کرسکیں اور عوام کی بند آنکھیں کھول کر نئی حکومت کی راہ ہموار کریں۔ رافیل معاہدہ سے بے شک اس جنگ کا بہترین آغاز ہوسکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صفدر امام قادری

شعبۂ اردو، کالج آف کامرس، پٹنہ

متعلقہ

Back to top button
Close