سیاستطنزو مزاح

رافیل کے آگے سب فیل

ڈاکٹر سلیم خان

للن نے پوچھا کیوں بھائی کلن  کیا تمہیں پتہ ہے ۲۰۱۹؁ میں وارانسی سے کون الیکشن لڑے گا؟

کلن بولا یار قسم سے للن تم بھی کبھی کبھی بچکانہ سوال کردیتے ہو ۔ بچہ بچہ جانتا ہے کہ مودی جی لڑیں گے ۔ اس میں کیا شک ہے؟

وہ تو مجھے بھی  پتہ ہے لیکن کیا وہ اپنے آپ سے لڑیں گے ؟ میں پوچھ رہا ہوں  ان کے سامنے امیدوار کون ہوگا؟

کلن نے کچھ دیر سوچ کرکہا کہ میرا خیال ہے اس بار اروند کیجریوال کو ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس والے  مل کراپنا امیدوار بنادیں گے۔

لیکن کیجریوال کا تو ان سب سے پنگا ہے۔ وہ بھلا اس کو  اپنا امیدوارکیوں بنائیں گے؟

کلن نے کہااس لیے گزشتہ با ر کیجریوال نے ۲ لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے ۔

لیکن وقت بدل گیا ہے۔ جب سے کیجریوال نے جیٹلی اور گڈکری سے معافی مانگ لی، مانو نہ مانو اس کا سار ارعب  داب خاک میں مل گیا۔

اچھا بھائی اب تم ہی بتادو کہ  مودی جی کو کون ٹکر دے گا؟

للن بولامیرا تو خیال  ہےحزب اختلاف کو چاہیے کہ وہ آلوک ورما کو اپنا مشترکہ امیدوار بنائے اور کیجریوال بھی اس کی حمایت کریں؟

یہ آلوک ورما کون ہے بھائی ؟ میں نے اس کا نام بھی نہیں سنا، یہ ہاتھی پر ہے یا سائیکل کی سواری کرتا ہے۔

دیکھو ایسا ہے کہ اس کے  ہاتھ  میں نہ جھاڑو ہے اور نہ وہ سائیکل یا ہاتھی پر سوار ہے۔

اچھا تو کیا کمل کا مقابلہ کمل سے ہوگا یا شیوسینا کے تیر کمان سے؟

للن بولا آلو ک ورما ایسا بے وقوف  بھی نہیں کہ زنگ زدہ تیر کو ٹوٹی ہوئی کمان پر چڑھائے۔

اچھا بابا یہ تو بتاو کہ یہ تمہارا آلوک ورما ہے کون؟

ارے وہی  معزول سی بی آئی کا سربراہ جسے جبراً چھٹی پر بھیج دیا گیا۔

تو کیا اب وہ اپنی بیکاری کو دور کرنے کے لیے سیاست میں قدم رکھے گا ؟ لیکن اس کو لوگ ووٹ کیوں دیں گے؟

اس لیے  کہ وہ مودی اور شاہ سے نہیں ڈرتا ۔ وزیراعظم کے  لاکھ سمجھانے بجھانے کے باوجود استھانہ  پر شکنجہ کسنا معمولی بات  نہیں ہے کیا سمجھے ؟

وہ تو ٹھیک ہے مگر مودی جی نے اس کو معزول بھی تو کردیا ۔

جی ہاں لیکن وہ پھر بھی خوفزدہ نہیں ہوا۔ اس نے سپریم کورٹ  کے دروازے پر دستک دی  توسرکار ڈر گئی اور کہنے پر مجبور ہوگئی  کہ ورما عہدہ  برقرار ہے۔

یار للن یہ تو کمال ہوگیا  لیکن یہ اسی لیے ہوسکا کہ یہ  ہندوستان ہے سعودی عرب ہوتا تو جمال خشفجی کی طرح بے دردی سے قتل کر دیا جاتا۔

جی ہاں لیکن سعودی عرب نے تو جمال کو پردیس میں مارا جبکہ جسٹس برج گوپال  لویا کو انکار کرنے پر اپنے ہی دیس میں ماردیا گیا۔

جی ہاں مجھے پتہ ہے ۔لویا قتل   کے دو گواہوں  کوبھی موت کی نیند سلا دیا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ   اس پر ٹرمپ نے تشویش کا اظہار نہیں کیا۔

بھئی ہم لوگ وارانسی سے چل کر  بہت دور نکل گئے۔ اچھا  یہ بتاو کہ اگر آلوک نےانتخاب لڑا تو اس کا نشان کیا ہوگا ؟

رافیل لڑاکا جہاز اور کیا ؟  جس  بدعنوانی کی  تفتیش نے آلوک سے اس کا  عہدہ چھینا ہے اسے وہ  کیسے بھول سکتا ہے؟

جی ہاں کلن تمہاری بات درست ہے ۔ مجھے یقین ہوتا جارہا ہے کہ  اس بار یہ فرانسیسی لڑاکا جہاز کمل کو کھلنے نہیں دے گا۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close