راہل پہلے ماضی کو پڑھیں پھر فیصلہ کریں

حفیظ نعمانی

گجرات میں اب تک جو الیکشن ہوئے ان میں ہم نے یہ دیکھا کہ مسز سونیا گاندھی اور راہل گاندھی مہمان لیڈروں کی طرح آئے اور مختلف مقامات پر تقاریر کرکے چلے گئے اور وزیر اعلیٰ نریندر مودی ڈیرہ جمائے بیٹھے رہتے تھے اور وہ جہاں بھی بیٹھے ہوتے تھے وہاں جلسہ ہورہا ہوتا تھا کیونکہ ان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ چپ بیٹھ ہی نہیں سکتے۔ پورے ملک میں ہر پارتی میں قحط الرجال ہے ایسے لوگ ہی ختم ہوگئے جو ہزار دو ہزار کے مجمع میں کھڑے ہوکر اپنی بات کہہ سکیں ۔ احمد پٹیل راجیہ سبھا کے ممبر ہیں اور سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر ہیں گجرات ان کا گھر ہے لیکن دو ہفتے سے راہل مسلسل آرہے ہیں اور وہی بول رہے ہیں نہ غلام نبی آزاد ہیں نہ راج ببر ہیں نہ احمد پٹیل ہیں اور نہ کوئی اور لیڈر۔

اس وقت کانگریس کی پوزیشن وہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی سے مقابلہ کررہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کانگریس کے ایک لیڈر تھے انہوں نے بھی ایک مہینہ پہلے راجیہ سبھا الیکشن کے موقع پر استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب وہاں کوئی ایسا لیڈر نہیں ہے کہ اگر پارٹی جیت جائے تو اس کے گلے میں مالا ڈال کر اسے مکھ منتری بنایا جائے پارٹی سے استعفیٰ نہ دیا ہوتا تو شنکر سنگھ واگھیلا ایسے ضرور تھے۔

کانگریس کے تھوڑے سے ووٹوں کے علاوہ راہل کے پاس جو کچھ ہے وہ سیاسی پارٹیاں نہیں ہیں بلکہ گروپ ہیں جو مودی جی یا بی جے پی سے ناراض ہیں اور ان کی ناراضگی زیادہ تر اس پر ہے کہ ان کے ساتھ حکومت نے بہت برا سلوک کیا ہے ان میں پٹیل ہیں جنہوں نے ریزرویشن مانگا تو جن لاٹھیوں سے ان کا استقبال کیا اور جس طاقت سے اسے دبایا وہ اپنوں کے ساتھ نہیں دشمنوں کے ساتھ کی جاتی ہے اور صرف 20  سال کی عمر کا ہیرا جیسا اُبھرکر جن تیوروں کے ساتھ آیا تھا اور جیسی حمایت اسے ملی تھی اس نے بھی سارے ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔ ضرورت تو اس کی تھی مودی اس سرخ ہیرے کو کوہِ نور کی طرح سنبھال کر رکھتے اور ملک کی قیادت کی تربیت دیتے۔ انہوں نے اسے ڈنڈوں سے ایسا پٹوایا جیسے سانپ نکل آیا ہو، پورا گجرات خطرے میں آگیا ہو۔ بہرحال ہاردِک پٹیل کانگریس کو جتانے کے لئے نہیں بی جے پی کو ہرانے کے لئے کانگریس سے ہاتھ ملا رہے ہیں ان کے علاوہ بڑی تعداد میں دلت ہیں ۔ اگر دلتوں کا کوئی لیڈر ہوتا تو اب تک بی ایس پی جیسی پارٹی کب کی بن گئی ہوتی۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی بے عزتی کی تکلیف سے تڑپ رہی ہے اور اب مودی کے پاس الفاظ نہیں ہیں جو اُن کے زخموں پر مرہم کا کام کریں ۔ راہل گاندھی کو اگر پروردگار گجرات کی حکومت دے دے تو وہ اس کی خدمت کریں جنہوں نے حکومت دلائی ہے انہیں ایک ایک مٹھی بھر کے خوش کریں بلکہ بڑے اور اہم محکمے ان کو دیئے جائیں اور انہیں سکھایا جائے کہ طاقت کے ساتھ حکومت کیسے ہوتی ہے؟

1967 ء میں راہل گاندھی کی دادی کے زمانہ میں 9 صوبوں میں کانگریس حکومت بکھر گئی۔ پھر ہر جگہ جن کانگریس بنی اور سب مخالف پارٹیوں نے سنیوکت ودھائک بناکر پارٹی بنالی اور حکومت بن گئی۔ لیکن کانگریس سے جن سنگھ جتنی دور تھی اتنی ہی سوشلسٹ پارٹی کمیونسٹ پارٹی سوتنتر پارٹی اور ری-پبلیکن پارٹی بھی ایک دوسرے سے دور تھیں نتیجہ یہ ہوا کہ سال دو سال میں سب حکومتیں گرگئیں اور 1969 ء میں نئے الیکشن ہوئے اور انہوں نے اپنی مدت پوری کی لیکن یہ مسئلہ آخر آخر تک رہا کہ وہ میری نہیں سنتا اور میں اس کی نہیں سنتا۔ راہل گاندھی کو چار انگ کو ملاکر ایک انگ بنانا ہے اور ہر انگ کی ضد ہوگی کہ میرا انگ انگ پہلے۔ اس وقت راہل کو ہر بات دوسروں کی مان لینا چاہئے اور جیسے بھی ہو مودی کو گجرات میں ہرا دینا چاہئے اس سے ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ اور خود کوئی عہدہ نہ لے کر اپنی نگرانی میں حکومت چلوانا چاہئے وہ راہل کی ضرورت اور خلوص کو دیکھ کر خود کہیں گے کہ آپ سنبھالئے۔ کوشش یہ ہونا چاہئے کہ جن کے دلوں میں احساس کمتری ہے ان میں احساس برتری ہوجائے اور وہ اپنے کو راجہ سمجھنے لگیں ۔ بعد کی باتیں بعد میں ہوں گی۔

راہل گاندھی کو 1967 ء اور 1969 ء یاد نہ ہو تو 1977 ء تو یاد ہوگا حکومتوں کا بننا اور بگڑنا ایسا تماشہ ہورہا تھا جیسے شہر شہر مداری کٹھ پتلی کا تماشہ دکھا رہے ہیں ۔ 1977 ء میں جب جے پرکاش نرائن اور آچاریہ کرپلانی نے مرار جی ڈیسائی کو وزیر اعظم بنایا تو معلوم ہوتا تھا کہ اب دس برس تو کوئی تبدیلی ہوگی نہیں ۔ اور دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ راج نرائن نے ایک پارٹی ایک ممبری شرط رکھی اور کہا جو جنتا پارٹی کا ممبر ہے وہ دوسری کا نہیں ہوگا تو سب سے پہلے جن سنگھ بھاگی اور پھر ایک کے بعد ایک کا نمبر لگ گیا اور نوبت یہ آگئی کہ گجرال صاحب چودھری چرن سنگھ اور چندرشیکھر سب کو کانگریس نے حمایت دی تو وہ وزیر اعظم بنے اور پھر پوری عمارت دھڑام سے گرگئی۔

گجرات میں اگر قسمت ساتھ دے تو اپنی حکومت پر ضد نہ کریں ایک ایک سال کے لئے وزیر اعلیٰ بنوائیں خود نگرانی کرتے رہیں اور آخر میں اپنا نمبر رکھیں اور کوشش کریں کہ تینوں ساتھیوں میں اتحاد رہے اور سب ایک دوسرے کی مدد کریں احمد پٹیل سب پر نظر رکھیں اور پیار سے سمجھائیں کہ ایک پارٹی کی بہت طاقت ہوتی ہے سب کانگریس میں شامل ہوجائیں ۔ چودھری چرن سنگھ نے ناراض وزیروں کو خوش رکھنے کے لئے ایک بار کہا تھا کہ میں وزیر اعلیٰ رہوں گا اور قلم دان میرے پاس جنرل ایڈمنسٹریٹر کے علاوہ کوئی نہ ہوگا۔ اگر کوئی نازک وقت آئے تو یہ نسخہ بھی بہت کارگر ہے۔ ضرورت اس وقت صرف یہ ہے کہ مودی کا غرور ٹوٹے اور وہ تسلیم کریں کہ مجھے حکومت کرنا نہیں آتی اور میں نے جو کیا غلط کیا۔



⋆ حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی
حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے