سیاست

راہل گاندھی حکومت کا خواب نہ دیکھیں

حفیظ نعمانی

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کانگریس کے صدر راہل گاندھی بھی اپنی بہن پرینکا گاندھی کے میدان میں آنے کے بعد یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ جیسے وہ اپنے پرس میں اقتدار کی کنجی ساتھ لائی ہیں۔ انہوں نے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی انتخابی مہم میں پوری طاقت سے کہا تھا کہ اگر وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے تو کسانوں کا سرکاری قرض معاف کردیں گے۔ اور وہ دوسرے مصرعہ کے طور پر کہا کرتے تھے کہ وزیراعظم کو پورے ملک کے کسانوں کا قرض معاف کردینا چاہئے۔

یہ بات جس لہجہ میں شری نریندر مودی اترپردیش کے 2017 ء کے الیکشن میں کہا کرتے تھے اسی لہجہ میں راہل گاندھی نے بھی کہا۔ پھر جب کسانوں نے ان پر بھروسہ کرکے ان کی حکومت بنوادی تو تینوں ریاستوں میں اعلان کے مطابق دو لاکھ روپئے تک کا قرض معاف بھی کردیا۔ اب اچانک انہوں نے یہ کہہ دیا کہ پورے ملک کے غریبوں کو وہ بلاتفریق کم سے کم اتنا روپیہ دینے کا وعدہ کررہے ہیں جس کے بعد انہیں خودکشی نہیں کرنا پڑے گی جس کی وضاحت کرنے والوں نے بتایا ہے کہ جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہو اسے 1500  روپئے مہینہ کے حساب سے چار یا دو قسطوں میں دیا جائے گا۔

ہمیں تو یاد ہے اور یقین ہے کہ قارئین کرام کو بھی یاد ہوگا کہ غریبی کی لائن سے نیچے زندگی گذارنے والوں کو دو روپئے کلو گیہوں اور تین روپئے کلو چاول ان کی والدہ سونیا گاندھی کی کوشش اور ضد سے ہی مل رہا ہے۔ وہ بی جے پی جو اسے اپنا کارنامہ بتاکر ووٹ لے رہی ہے وہ مخالفت تو کر نہیں سکتی تھی لیکن ہر ممکن کوشش کرتی تھی کہ یہ بل پاس نہ ہونے پائے۔ لیکن سونیا جی کی ضد اور اصرار رنگ لایا اور کروڑوں انسان آج اس کی بدولت جیسے بھی ہو پیٹ بھرلیتے ہیں۔ سونیا گاندھی نے جب یہ کام کیا تو حکومت ان کے ہاتھ میں تھی اور صوبوں کی اکثریت کانگریس سرکاروں کی تھی۔ آج صورت حال بہت مختلف ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آنے والے الیکشن کے بعد حکومت کانگریس کی ہی ہو؟ جبکہ ابھی تو اگر کسی بات پر اتفاق ہوسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ بی جے پی کی حکومت نہ بننے دی جائے۔

راہل گاندھی نے پرینکا گاندھی کو 30  سیٹوں کی ذمہ داری دی ہے اور ان میں صرف دو سیٹیں ان کے پاس ہیں 28  کے لئے سماج وادی، بہوجن سماج اور بی جے پی تینوں وہ پارٹیاں ہیں جنہوں نے 30  برس سے کانگریس کو اترپردیش میں نہیں آنے دیا ہے۔ اب اکیلی پرینکا بی بی پر یہ ذمہ داری ڈالنا کہ وہ اپنے بھائی کے ہاتھوں میں 130  کروڑ آبادی والے ملک کی باگ ڈور صرف 45  دن کی محنت سے دے دیں آسمان سے سورج اور چاند توڑکر لانے جیسی خواہش ہے۔

ہمیں نہیں معلوم کہ کسی نے سونیا گاندھی اور ان کے دونوں دلاروں کو یہ بتایا یا نہیں کہ کانگریس کے اندر کی جمہوریت جو بزرگوں نے سجائی تھی اسے پنڈت جواہر لعل نہرو نے ہی جوتے سے روند دیا تھا۔ مختصر یہ ہے کہ وہ سی بی گپتا کو پسند نہیں کرتے تھے۔ کانگریس کی صوبائی صدارت کا الیکشن ہورہا تھا سمپورنانند وزیراعلیٰ کے امیدوار منیشور دت اُپادھیائے تھے انہیں وزیراعظم کی حمایت بھی حاصل تھی۔ سمپورنانند صاحب نے جب دیکھا کہ ماحول مخالف ہے تو بوجھ ڈالنے کے لئے کہہ دیا کہ اگر گپتا جی جیت گئے تو میں استعفیٰ دے دوں گا یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی، قاضی عدیل عباسی اور عبداللطیف صاحب یعنی مسلمان ممبر گپتا جی کے ساتھ تھے۔ الیکشن ہوا تو گپتا جی تین ووٹ سے جیت گئے ڈاکٹر سمپورنانند نہرو جی کے پاس گئے اور معلوم کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے تو انہوں نے وہ کہا جو کہنا چاہئے تھا کہ جب کہہ دیا تھا کہ ہار گئے تو استعفیٰ دے دوں گا تو استعفیٰ دو۔ اور صرف گپتا جی کے جیتنے کی سزا یہ ہے کہ پھر اس کے بعد تنظیم کا کوئی الیکشن نہیں ہوا۔

آج اگر وہ زمانہ ہوتا کہ مرکز کا صدر پھر ہر صوبہ کا صدر اور یوپی سی سی، پارلیمنٹری بورڈ، ہر ضلع کی یونٹ، ہر تحصیل اور ہر بلاک کا دفتر، تو راہل گاندھی اگر یہ چاہتے کہ صرف ایک ہفتہ میں یہ معلوم ہوجائے کہ کس ضلع کی کس تحصیل کے کس کس گائوں میں ایسے کتنے ہیں جو زندگی کی ضرورت پوری کرنے بھر کا بھی نہیں کماتے۔ عمر دراز ہیں؟ معذور ہیں؟ بیوہ ہیں یا اور کوئی مجبوری ہے؟ اس کے لئے آج کے دَور میں صرف موبائل کے ذریعے بھی سروے کرایا جاسکتا تھا۔ یہ نظام جو ڈی ایم، ایس ڈی ایم، تحصیلدار، قانون گو اور پٹواری کا انگریز بناکر دے گئے ہیں اور جس سے دو دن کے اندر معلوم ہوجاتا ہے کہ ضلع میں کتنے ایکڑ میں ایکھ کھڑی ہے کتنے ایکڑ میں گیہوں بویا گیا ہے چنا اور سرسوں کی کیا تفصیل ہے؟ اور اس بنیاد پر اسمبلی میں وزیر بیان دے دیتا ہے۔

راہل گاندھی کے پاس نہ حکومت ہے نہ تنظیم ان کی بات پر کون بھروسہ کرے گا وہ اگر یہ سوچ رہے ہیں کہ جیسے تین صوبوں کے کسانوں نے بھروسہ کرکے ووٹ دیا اور انہوں نے قرض معاف کردیا۔ اسی طرح وہ اعلان کریں گے کہ ہر غریب کو بندھی ہوئی رقم دی جائے گی وہ چاہے شہر میں ہو یا گائوں میں اور سب بھروسہ کرکے ان کو اتنے ووٹ دے دیں گے کہ کانگریس کی حکومت بن جائے گی تو وہ بھی سنجیدگی سے سوچیں کہ ابھی ان کے سامنے بہت مرحلے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو عمر کے آخری دَور میں کہی جاتی ہے۔ اگر دونوں بھائی بہن مل کر کانگریس کی ان غلطیوں کا کفارہ ادا کریں جو احسان فراموشی کی شکل میں اس نے مسلمانوں کے ساتھ کی ہیں تو کم از کم ملک کے 23  کروڑ تو ان کا سب سے بڑا سہارا ہوجائیں گے۔ راجستھان میں جو مسلمانوں کے ساتھ ہوا ہے اب اگر تلاش کر کرکے ان کے قاتلوں اور پولیس کے ان ناکارہ افسروں سے بازپرس نہ کی گئی تو آگے کون مسلمان بھروسہ کرے گا؟ اچھا یہ ہے کہ جو کرنے کے کام ہیں وہ کریں اور ہوا میں قلعے بنانے کا کام مسخروں پر چھوڑ دیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close