سیاستہندوستان

روزگار کا بحران اور ریزرویشن کا شور

سید منصورآغا

اپنے محترم قارئین سے معذرت خواہ ہوں کہ گزشتہ ہفتہ کا کالم بعنوان ’’فیل گڈ فیکٹر، دس فیصد ریزرویشن اورکلکتہ ریلی ‘‘کچھ زیادہ ہی ثقیل ہوگیا جس کا احساس بعد میں ہوا۔ بہراس میں لکھا تھا کہ عام زمرے والوں کے لیے دس فیصد رزرویشن سے کسی کو ملنا ملانا کچھ نہیں۔ اوریہ وعدہ کیا گیا تھا اس ہفتہ اس پرتفصیل سے عرض کیا جائیگا۔ یہ بھی لکھا تھا کہ سرکاری زمرے میں ملازمتیں ہیں ہی نہیں، کوٹا کہاں سے مل جائے گا۔

رپورٹ نہ دبادینے پراستعفے: اس سے قبل کہ اس پر بات کی جائے، آج (بدھ، 30جنوری ) کی اس خبرپرتوجہ درکارہے کہ گزشتہ پیر  (28جنوری) کو نیشنل کمیشن برائے اعداد وشمار کے کارگزارچیرمین پی سی موہنن اورایک رکن جے وی میناکشی نے اپنے عہدوں سے استعفی دیدیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے اس کمیشن کے تحت روزگاراوربے روزگاری سے متعلق نیشنل سیمپل سروے کی تیارکردہ سنہ 2017-18کی رپورٹ کو دبالیا ہے جو دوماہ پہلے سرکار کی دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جارہی ہے اس میں نوٹ بندی کی وجہ سے جو بے روزگاری بڑھی ہے اوراپنا کوئی کام کرنے والے یا چھوٹی موٹی کمپنیوں وکارخانوں میں ملازمت کرنے والے جو لاکھوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، اس کا بھانڈاپھوٹ جائے گا۔ انتخاب کیونکہ سرپر ہیں اس لئے یہ نااہل سرکار نہیں چاہتی کہ عوام کو پتہ چلے کہ نوٹ بندی کی حماقت نے بے روزگار ی میں کتنا ابردست اضافہ کردیا ہے؟ حالانکہ وعدہ ہرسال ایک کروڑ نئے روزگارپیداکرنے کا کیاگیا تھا۔

روزگارکے دروازے بند:

یوں اس صورتحال کا اندازہ پہلے بھی کئی رپورٹوں سے ہوچکا تھا کہ بے روزگاری بے تحاشہ بڑھ رہی ہے اور روزگار کے دروازے بند ہیں۔ بے روزگاری اورروزگارکے لیے مارا ماری کا اندازہ اس سے کیجئے کہ مہاراشٹراسمبلی کے کینٹین میں 13ویٹرس کی تقرری کے لیے سات ہزارسے زیادہ درخواستیں آئیں۔ اگرچہ مطلوبہ تعلیمی لیاقت صرف درجہ چارتھی مگر بیشتردرخواست گزار گریجوئیٹس تھے۔ جن 13کو چنا گیا ان میں 12گریجوئیٹ ہیں۔ ایسا ہی راجستھان میں ہوا۔ جنوری 2018 میں چپراسی کی 18 جگہوں کے لیے 12453درخواستیں آئیں، یعنی ایک جگہ کے لیے 700امیدوار۔ ان میں 129انجنئر، 23لاء گریجوئیٹ، اور پوسٹ گریجوئیٹ تھے۔

مارچ 2018 میں خبرآئی کہ ریلوے میں ڈرائیور،گنگ مین، سوچ مین، ٹریک مین، کیبن مین، ہیلپراور پورٹرس کی 90 ہزارخالی جگہوں کے لیے 2کروڑ 80لاکھ درخواستیںآئیں یعنی ایک جگہ اور300امیدوار۔ درخواست دینے والوں میں بڑی تعداد اعلیٰ ڈگری یافتہ نوجوانوں کی ہے جب کہ ان اسامیوں کے لیے معمولی لیاقت درکار ہے۔ مسٹروویک کول کے ایک تجزیاتی مطالعہ کے مطابق اس تعداد کا مطلب یہ ہے کہ 18تا29سال کی عمرکے جتنے نوجوان اس وقت سرکاری ملازمت کے اہل ہیں انمیں ہر پانچ میں سے ایک نے درخواست دی ہے۔

اب زرا ممبئی کا حال دیکھئے۔ مہانگرپولیس نے سپاہیوں کی 1137جگہوں کے لیے امیدواروں میں 167ایم بی اے، 423انجنئر، 543پوسٹ گریجوئیٹ، تین لاء گرئجوئیٹ اور 167 بزنس اڈمنسٹریشن کے گریجوئیٹ ہیں۔ ہریانہ پولیس میں سپاہیوں کی بھرتی ہوئی جن میں بی ٹیک اورایم ٹیک ڈگری یافتہ150نوجوان کانسٹبل بھرتی ہوئے۔ مغربی بنگال کے ضلع جادھو پور میں چپراسی کی70اسامیوں کے لیے 11ہزاردرخواستیںآئیں جن میں پی ایچ ڈی، ایم ایس سی، ایم ٹیک، بی ایس سی،بی ٹیک گریجوئیٹ اور پوسٹ گریجوئیٹ ہیں جبکہ تعلیمی لیاقت صرف آٹھویں پاس درکار تھی۔ تمل ناڈو پبلک سروس کمیشن نے گاؤں کی سطح پر کام کرنے والے کلرکوں کی 9500اسامیوں کے لیے جن کی کم سے کم لیاقت ہائی اسکول تھی، ٹسٹ لیا۔ 20لاکھ درخواستیں آئیں جن میں 992پی ایچ ڈی، 23ہزارایم فل، ڈھائی لاکھ پوسٹ گریجوئیٹ اور آٹھ لاکھ گریجوئیٹ تھے۔

ا ب زرایوگی جی کے یوپی کا حال بھی سن لیجئے۔ اترپردیش پولیس کے مواصلات محکمہ میں ڈاک برداروں کی 62 جگہوں کے لیے درخواست دہندگان میں 81700 گریجوئیٹس ہیں، جن میں 28000پوسٹ گریجوئیٹ اور 3700پی ایچ ڈی ہیں۔ یوپی میں ہی 2015میں 368ابتدائی ملازمتوں کے لیے 23لاکھ درخواستیں آئیں جن میں دولاکھ انجنئر، 255پی ایچ ڈی تھے۔ مدھیہ پردیش میں گزشتہ جنوری میں چپراسی کی 738جگہوں کے لیے 2لاکھ 81 ہزاردرخواستیں آئیں۔ پرنسپل رجسٹرار مسٹراے کے سریواستو نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ تعداد تو نہیں معلوم البتہ درخواست دہندگان میں اعلیٰ ڈگری یافتہ شامل ہیں جبکہ مطلوبہ لیاقت صرف آٹھویں پاس ہے۔

ٖحقیقت یہ ہے:

اس طرح کی تفصیلات اوربھی ہیں۔ ان سب سے کیا ظاہرہورہا ہے؟ سرکاری محکموں میں روزگار نہیں۔ اس کا اثر یہ ہے کہ پراؤیٹ سکٹرمیں جب ایک اسامی کے لیے سینکڑوں امیدوار ہونگے توان کو پیسہ نہیں ملے گا۔ اگست 2018 میں جب مہارشٹرا میں مراٹھے ریزرویشن مانگ رہے تھے، مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اخبارنویسوں کے سوال کے جواب میں پوچھا تھا، ’’نوکریاں ہیں کہاں جن میں ریزرویش دیا جائے‘‘ اس کی تصدیق 2016-17 کے اقتصادی سروے سے ہوتی ہے جس بتایاگیاہے 2013-14 میں روزگار میں5% اضافہ کے مقابلے، جو یوپی اے حکومت کا آخری سال تھا۔ مودی جی کے سرکار میں آتے ہی یہ شرح 4.9فیصد رہ گئی یعنی 20 ہزار روزگار کم ہوگئے۔ روزگار پر نوٹ بندی سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔ اب اگر سرکار نے سمپل سروے کی وہ رپورٹ دبائی نہ ہوتی جس کا ذکراوپر آیا تو ٹھیک ٹھیک پتہ چلتا کہ نوٹ بندی کے بعد بے روزگاری میں کتنا زبردست اضافہ ہوا ہے۔ لوجیکل انڈین کی گزشتہ سال مارچ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2017 کے آخر تک ملک میں بیروزگاری کی شرح ریکارڈ بلندی پر پہنچ گئی تھی۔ اسوقت تین کروڑ دس لاکھ نوجوان بے روزگار تھے یا کوئی معمولی دھندہ کررہے ہیں۔ اس بے روزگاری کی چلتے ہی اسکل انڈیا کی اسکیم بھی فیل ہوگئی۔ لڑکے سرٹی فکیٹ لئے پھرتے ہیں اورکوئی پوچھتا نہیں۔

بیروزگاری میں یہ اضافہ کوئی بے سند الزام نہیں۔ مودی سرکار میں وزیرمحنت بندارو دتہ تریہ نے خود مئی 2017میں اعتراف کیاتھاکہ’ اس وقت ملک میں بے روزگاروں میں اضافہ ہورہا ہے۔ ‘ (India was undergoing ‘jobless growth’ ) انہوں نے کہا تھا کہ ان کی وزارت گزشتہ تین سال (2016-17; 2015-16; 2014-15)کے اعداد وشمار ترتیب دے رہی ہے اورجلد ہی ان تین برسوں کی رپورٹ شائع کردی جائے گی۔ لیکن جون 2018میں مودی سرکار نے 2017-18کی کواٹرلی رپورٹ بھی شائع نہیں ہونے دی اورامت شاہ نے یہ کہہ کراس کی دفاع کی تھی کہ اس میں خود روزگار والوں کے اعداد وشمارشامل نہیں۔

ایک نظرکوٹے پر:

اب ایک نظرکوٹے پر بھی۔ سرکاری ملازمتوں میں ایس سی؍ ایس ٹی اوراوبی سی کو ملاکر کوٹا پورا 50 فیصد بنتا ہے۔ باقی 50فیصد جنرل ہے۔ مگرحال یہ ہے کہ یہ ایس سی؍ایس ٹی اوراوبی سی کوٹا بھرا ہی نہیں جاتا۔ کہہ دیا جاتا ہے مقررہ لیاقت کے امیدوارنہیں ملے۔ اوروہ اس لیے نہیں ملتے کہ تعلیمی نظام ناقص ہے۔ صرف ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں، لیاقت پیدا نہیں کی جاتی۔ دستیاب اعدادوشمارسے پتہ چلتا ہے کہ ریلوے میں ان کوٹے والوں کی تعداد صرف 31.18فیصد ہے۔ حکومت کے دیگر71 محکموں میں ان کی تعداد کل 37فیصد، ایچ آرڈی میں 33فیصد سے کم، اور سی اے جی میں 33فیصد ہے۔ جب 50فیصد کوٹے والوں کو انکا پورا حصہ نہیں ملتا تو دس فیصد والوں کی کا کیا گارنٹی؟ البتہ اتنا ضرور ہے دس فیصد کانام آسانی سے کیا جاسکتا ہے کہ یوں بھی یہ ملازمتیں ان کے ہی بھائی بندوں کو ملنی ہیں۔

حقیقت یہ ہے اس سرکار کی غلط اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے روزگار پر سخت مارپڑی ہے اورنہایت ڈھٹائی سے خود سرکاری محکموں کی تیارکردہ رپورٹیں شائع نہ کرکے اس خراب حالت پرپردہ ڈالا جارہا ہے اورسری رام مندر،شری رام مجسمہ اور دیگرایسے ہی موضوعات کا اٹھاکرعوام کی آنکھوں پر بھی پردہ ڈالا جارا ہے؟ کیا عوام اپنی پردہ پڑجانے دیں گے؟ جواب مئی تک مل جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close