سیاست

رہنے کو گھر نہیں ہے، سارا جہاں ہمارا

حفیظ نعمانی

گجرات کے الیکشن سے لے کر چھتیس گڑھ تک جو راہل گاندھی خم ٹھونک کر میدان میں تھے وہ لوک سبھا کے الیکشن کی تاریخیں آتے آتے نہ جانے کہاں گم ہوگئے؟ اب ان کا ہر قدم جس طرف اُٹھ رہا ہے وہاں نہ دوست ہیں نہ دشمن بس وہ ہیں اور ان کی کانگریس۔ انہوں نے ہر تقریر میں کہا کہ جیسے ہم نے تین ریاستوں میں حکومت بننے کے دس دن کے اندر کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ پورا کرکے دکھایا اسی طرح ہم 25  کروڑ غریبوں کو غربت کے دلدل سے ہاتھ پکڑکر نکالیں گے اور انہیں 12  ہزار روپئے مہینہ دے کر دکھائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دکھائیں گے کہ 22  لاکھ خالی آسامیاں کیسے صرف ایک سال میں بھری جاتی ہیں؟

راہل گاندھی ہر تقریر میں یہ بات ضرور کہتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت آئی یا اگر کانگریس کی حکومت آئی تو وہ ہندوستان کا آسمان اور زمین سب بدل دیں گے۔ اور ایک بات وہ اور ان کا ہر ترجمان یہ ضرور کہتا ہے کہ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں۔ اور اگر ان سے معلوم کیا جائے کہ وہ اگر اپنی بات کرتے ہیں تب بھی 2004 ء سے 2014 ء تک ان کی نہ سہی کانگریس کی تو حکومت تھی وہ ذرا اپنا 2009  ء کا انتخابی منشور اٹھاکر دیکھ لیں اور اگر یہ ثابت کرنا ہے کہ کانگریس جو کہتی ہے وہ کرتی ہے تو اقلیتوں سے متعلق جو 15  نکاتی منصوبہ اندراجی نے بنایا تھا پھر وہ راجیو گاندھی کے پاس رہا نرسمہارائو کے پاس رہا اور پھر ڈاکٹر منموہن کے پاس دس سال رہنے کے بعد کیا وہ بتائیں گے کہ اس کا کیا ہوا اور اب وہ کہاں ہے؟

راہل گاندھی ہر دن میں کئی بار یہ کہتے ہیں کہ اگر ہماری حکومت بنی۔ اب یہ دیکھنے کی بات ہے کہ حکومت کیسے بنتی ہے۔ اسے دنیا جانتی ہے کہ حکومت بنانے کیلئے لوک سبھا کے 225 ممبر ہونا چاہئیں۔ اگر کوئی سنجیدہ لیڈر جسے عوام اپنا لیڈر مانتے ہوں اس کی کوشش کرے تو وہ مختلف پارٹیوں کی مدد سے اتنے ممبر جمع کرسکتا ہے اور حکومت بنا سکتا ہے۔ ابتدا میں راہل گاندھی اسی انداز سے اُٹھے تھے۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ وہ پٹری سے اُتر گئے۔ وہ اگر دل کو بڑا کرلیتے تو اُترپردیش، بہار، بنگال، کرناٹک، پنجاب، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، کیرالہ، کشمیر، آسام، گوا اور شمال مشرقی ریاستوں سے ان کو 250  سیٹیں مل سکتی تھیں۔

ہم نہیں جانتے سچائی کیا ہے لیکن کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے موجودہ حکومت سے خفیہ سمجھوتہ کرلیا کوئی کہتا ہے کہ ان کے سامنے ایک تو حکومت تھی اور دوسری شخصیت ان کے بہنوئی کی تھی انہوں نے حکومت کو قربان کرکے بہنوئی کو بچالیا۔ اور اب ان کا ہر قدم اس طرح اُٹھ رہا ہے جس سے مودی جی کو فائدہ پہونچے۔ امت شاہ نے الیکشن سے پہلے اعلان کردیا تھا کہ اُترپردیش سے 74  سیٹیں لائیں گے بنگال سے 20  اور راہل گاندھی نے اُترپردیش میں 55  اُمیدوار تو ووٹ کاٹنے کے لئے کھڑے کردیئے اور باقی بھی کردیں گے۔ اسی طرح بنگال میں وہ نمک کا حق ادا کررہے ہیں دہلی میں وہ ساتوں سیٹیں اور ہریانہ میں تمام سیٹیں مودی کو دے رہے ہیں۔

آج تک ہر جگہ یہ ہوا ہے کہ کمزور طاقتور کے پاس مدد مانگنے گیا ہے دہلی میں کجریوال پوری اسمبلی پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور کانگریس کا ایک بھی نہیں ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ کجریوال اس بھکاری سے ساجھا کرنا چاہ رہے ہیں جس کی جیب خالی ہے اور بھکاری ساجھا کرنے پر تیار نہیں ہے۔ کجریوال نے چاہا کہ دہلی، ہریانہ اور پنجاب دونوں مل کر لڑلیں۔ جواب میں راہل نے کہا کہ ہریانہ میں وہ ایک سیٹ دیں گے اور پنجاب میں کوئی ساجھا نہیں۔ اور آخری بات یہ ہے کہ انہوں نے امیٹھی کی سیٹ مودی جی کی منھ بولی بہن اسمرتی ایرانی کے لئے چھوڑ دی اور خود کیرالہ کی اس سیٹ پر چلے گئے جس کا نام بھی کسی اُترپردیش والے نے نہ سنا ہوگا۔

رہی سہی کسر پرینکا گاندھی بندیل کھنڈ میں مایاوتی اور اکھلیش کے اثرات کو کم کرکے زیادہ سے زیادہ ووٹ کاٹیں گی اور امت شاہ کے اُمیدواروں کی راہ آسان کریں گی۔ راہل گاندھی نے دو جگہ سے لڑکر کوئی نیا کام نہیں کیا ہے لیکن اس سیٹ کو چھوڑکر جس سے ان کے چچا اور ان کے والد ہمیشہ لڑتے رہے اسے پلیٹ میں رکھ کر اسمرتی ایرانی کو دینا مودی کے سامنے ناک رگڑنا ہے۔ اگر سوچنے والے یہ سوچیں کہ جو 80  سیٹوں میں ایک سیٹ کو بھی اپنا نہ بنا سکا وہ ہر سیٹ پر کانگریس کے امیدوار کو کیسے جتائے گا؟ اور جب جیتنا نہیں ہے تو راہل گاندھی ڈاکٹر ایوب اور عامر رشادی میں کیا فرق رہ گیا؟

اب تک جو کوئی غیر بی جے پی غیرکانگریسی تیسرے مورچہ کی بات کرتا تھا وہ مسخرہ نظر آتا تھا۔ اب جتنے لوگ حکومت کی تبدیلی ضروری سمجھتے ہیں انہیں ممتا بنرجی اور دوسرے لیڈروں کو ساتھ لے کر تیسرا محاذ بنانا چاہئے اور جو شترو جیسے زخمی کانگریس میں چلے گئے ہیں ان کے بارے میں اطمینان رکھنا چاہئے کہ بغیر بلائے آجائیں گے۔ ایک مسئلہ ملک میں چہرہ کا بھی ہے ہم پوری سنجیدگی سے لکھ رہے ہیں کہ بڑے سنہا صاحب کو آگے کردینا چاہئے اور انہیں تیسرے مورچہ کا قائد بنا دینا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close