سیاستہندوستان

ریزرویشن کا مطالبہ: فیشن زدہ سیاست

شہاب مرزا

مہاراشٹر میں مراٹھوں نے ریزروشین کے لئے بند کا اعلان کیا تھا۔ پچھلے سال شروع ہوئے  مراٹھا کرانتی مورچہ پر امن سے پر تشدد بن گیا ہے۔ تعلیم اور روزگار میں تحفظات کو لے کر شروع ہوئے احتجاج ۲؍لوگوں کی جان لے کر بھی حتم نہیں ہوا۔ اس احتجاج میں ایک نوجوان نے ندی میں کود کر اپنی جان دی اور ایک کسان زہر کھاکر اپنی جان دی کل تن لوگوں نے خود کشی کی کوشش کی جس میں سے دو کی موت واقع ہوگئی۔ مراٹھا سماج کا مہاراشٹر میں کافی رسوخ رہا ہے پہلا مراٹھا سماج کا آبادی کا تناسب زیادہ ہے۔ ۱۱؍ کروڑ کی آبادی میں ۳۱ فیصد مراٹھے مہاراشٹر میں بسے ہوئے ہیں۔ دوسری بات ۱۹۶۰ میں مہاراشٹر بننے کے بعد سے اب تک وزیر کابینہ اور سیاست میں مراٹھوں کا بڑا حصہ رہا ہے یہاں تک کہ کانگریس کید ور اقتدار میں ۱۸؍ وزیراعلیٰ بنے جس میں سے ۱۲ وزیراعلیٰ مراٹھا سماج سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جب دوسری ذاتوں کے افرادیا ایک مسلمان کو بھی وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا تب بھی اقتدار کی دوڑ میں مراٹھوں کے ہاتھ ہی رہی ہے۔ مہاراشٹر میں ۵۹ فیصد گائوں کے سرپنچ مراٹھا! سیاسی طور پر سب سے بااثر طبقہ بھی مراٹھا سماج کا ہیں۔

۲۰۱۶ اور ۲۰۱۷ کے درمیان ۵۱ خاموشی پر امن کرانتی مورچہ نکالنے والوں کا اب لگتا ہے کہ صبر کا باندھ ٹوٹ چکا ہے۔ پر امن اور لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلنے والے اب اپنی حکمت عملی سے مایوس ہوتے جارہے ہیں پر امن احتجاج اب تشدد اختیار کرچکا ہے جس کی زد میں اورنگ آباد پیٹھن بیڑ احمد نگر سانگلی کولہا پور سوئیگائوں رگنا گری ستارا شولاپور آچکے ہیں۔ اور اب یہ اپنی مانگ کو لے کر مشتعل ہوگئے ہیں اسی لئے اورنگ آباد میں ایک نوجوان نے گوداوری ندی میں چھلانگ لگاکر اور ایک کسان نے زہر کھا کر خودکشی کرلی پتھرائو میں زخمی ایک کانسٹبل کی بھی جان چلی گئی۔ صحیح قدم اٹھاتی تھی تو پر امن احتجااج تشدد میں تبدیل نہی ں ہوتا عام زندگی مفلوج نہیں ہوتی۔ تین جانیں نہیں جاتی اور اسکول کالجس بھی بند نہیں کرنے پڑتے۔ مراٹھا سماج میں احساس کمتری اور شکست کی ایک وجہ تو ان کی دو سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہونا ہے۔

جب تک کانگریس کا اقتدار رہا جب تک مراٹھا سماج کا اقتدار میں حصہ رہا۔ جب بی جے پی دور اقتدار آئی مراٹھا سماج بے چین ہوئی۔ اور ان کا غصہ بے قابو ہوتا جارہا ہے۔ مراٹھا سماج سیاسی اور مالی اعتبار سے مہاراشٹر میں مضبوطی کے ساتھ براجمان ہے۔ پھر انہیں ریزروشین کی کیا ضرورت اور ریزرویشن کیا غنڈہ گردی اور تشدد سے حاصل ہوگا؟ لاکھوں کی تعداد میں پر امن احتجاج کرنے والے مراٹھا سماج کے لیڈر اگر اب تشدد پر اتر آئے تو مہاراشٹر ڈرہی دن میں جل جائے گا۔ جس طرح سے مراٹھا سماج نے احتجاج کیا احمد نگر میں ۱۰ لاکھ اور ممبئی میں ۲۰ لاکھ لوگ ریزرویشن کے لئے سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ دنیا آگے بڑھنے میں مصروف ہے اور ہندوستان میں خود کو پسماندہ ثابت کرنے کی دوڑ چل پڑی ہے۔ ریزرویشن کے مطالبے کو فیشن بنادیا گیا ہے۔

ہریانہ میں جاٹ راجستھان کے گوجر مہاراشٹر کے مراٹھا یہ وہی لوگ ہیں جو برسوں سے اقتدار میں رہے اور اب ریزرویشن کی تحریک چلارہے ہیں حکومت پہلے نظر انداز کردیتی ہے پھر قانون بنادیتی ہے اور بعد میں عدالت اسے مسترد کردیتی ہے دستور کے حوالے دے کر اسے نامناسب قرار دے دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلمان نہ سیاست میں حصہ دار ہیں اور نا ہی ان کا کوئی رسوخ رہا پھر ان سے ریزرویشن بچے گا تو مسلمانوں کو ملے گا۔ مسلمان نہ سیاسی اعتبار سے مضبوط ہے او رنا ہی مالی اعتبار سے صرف ووٹ بینک کے اعتبار سے مضبوط ہے جس میں ۴ الگ الگ جماعتیں مسلمانو ں کے ٹھیکیدار ہیں۔ مسلمانو ں کو مذہب کے نام پر نہیں پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن چاہئے اب انتخابات قریب ہے تو مراٹھوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی ریزرویشن کا لالی پاپ دینے کی امید ہے مسلمانوں کے تعلق سے سچر کمیٹی اور دیگر کئی کمیٹیوں نے بتادیا ہے کہ مسلمانو ں کی حالت دلتوں سے بدتر ہے اس لئے مراٹھوں کے ریزرویشن کے ساتھ ساتھ سرکار کو ریاست کے مسلمانوں کو ۵ فیصد ریزرویشن پر بھی ہمدردی سے غور کرنا چاہئے۔ لیکن حکومت مسلمانوں کے ساتھ کھلے تعصب کا مظاہرہ کررہی ہے۔ او رمسلمان اس طرح کی تعداد میں سڑکوں پر احتجااج بھی درج کرواچکے ہیں۔ فائدہ کیا ہوا کچھ نہیں اور مسلمانو ں کو یہ بات باورکروادی گئی ہے کہ اگر وہ سڑکوں پر اپنے حق مانگنے اتریں گے تو گولیاں اور لاٹھیاں انہیں کے لئے دی گئی ہیں۔ جس طرح کا احتجاج مراٹھا کرانتی مورچا اور بھیما کورے گائوں کے وقت ہوا اس طرح کا احتجاج اگر مسلمان کرتے تو اب تک لاشوں کے ڈھیر لگ گئے ہوتے اس کی کئی زندہ مثالیں ہیں۔

بھیونڈی میں قبرستان کی جگہ پر پولیس اسٹیشن کا معاملہ میں پولیس نے احتجاجیوں پر فائرنگ کی تھی اور اس وقت کہ وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ جواب گولی سے دیا جائے گا۔ اس کے بعد مکہ مسجد بم دھماکہ ا سمیں بھی مسلمان ہلاک ہوئے۔ گرفتاریاں بھی مسلمانوں کی ہی ہوئی اور فائرنگ مسلمانوں پر ہوئی۔ مسلمان اس طرح کے احتجاج کا سوچ بھی نہیں سکتے اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو پولیس کی گولیاں ان کے سینوں او رلاٹھیاں پیٹھ کی نظر ہوگی اس کی ایک زندہ مثال اورنگ آباد فسادات ہیں پہلے مسلمانو ں کی املاک جلائی گئی۔ فائرنگ مسلم نوجوانوں پر کی گئی۔ ایک نوجوان شہید ہوگیا پھر کومبنگ آپریشن مسلم بستیوں پر کیا گیا اور بے قصور مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں بھرا گیا۔ اس کی اصل وجہ کمزور قیادت آپسی انتشار اور مسلکی اختلافات ہے۔ اگر مضبوط قائد مل بھی جائے تو وہ اپنے لئے پہلے سوچتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close