سیاست

ریل کی پٹری پر قبضہ کرنے والوں کو بدترین سزا

حفیظ نعمانی

اخباروں کے صفحات اور ٹی وی کے پردے پر یا سیاسی راج کماری پرینکا گاندھی چھائی رہیں یا اُترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو اور موجودہ وزیراعلیٰ یوگی کی معرکہ آرائی چھائی رہی۔ اور جو ملک کی سب سے اہم خبر تھی وہ ان دونوں میں دب کر رہ گئی۔

ہندوستان میں آزادی کے چند سال کے بعد ہی سڑکوں پر لال جھنڈیاں لے کر ’یہ سرکار نکمّی ہے اور یہ سرکار بدلنی ہے‘ کے نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکلنے شروع ہوگئے تھے۔ لیکن وہ اتنے بے ضرر ہوتے تھے کہ نہ کسی کا راستہ رُکتا تھا نہ سڑکوں پر جام لگتا تھا۔ وقت گذرتا گیا اور واقعی سرکاریں نکمّی ہونے لگیں تو پھر احتجاج میں بھی نئے نئے نعرے لگنے لگے۔ اور دھرنے یا برت بھی۔ ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ دہلی میں جنتر منتر اور ہر بڑے شہر میں کوئی نہ کوئی پارک یا جگہ مخصوص کرنا پڑی تاکہ مخالف دِل کا غبار نکال لیں اور زندگی رواں دواں رہے۔

پھر نہ جانے کس کے کہنے میں آکر مشہور گاندھیائی نیتا انا ہزارے نے ایک برت جنترمنتر پر رکھا اور اس کی کامیابی کے بعد دوسرا دہلی کے رام لیلا میدان میں رکھا تو اسے بی جے پی اور آر ایس ایس نے گود لے لیا اور ان کی حمایت میں جیسا طوفان اٹھا اتنا تو گاندھی جی کے برت میں بھی شاید ہی کبھی اٹھا ہو۔ اس برت کا عنوان تھا کہ لوک پال کا تقرر ہونا چاہئے جو وزیروں اور وزیراعظم تک کی گوشمالی کرسکے۔ کانگریس کی حکومت تھی اس لئے بی جے پی نے دولت خانہ کا منھ کھول دیا اور ایک لاکھ آدمیوں کے کھانے پینے اور ہر پسندیدہ چیز فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ مقبولیت کے اس طوفان نے انا ہزارے کو خوش فہمی میں مبتلا کردیا اور طبیعت بگڑنے کے باوجود وہ جمے رہے اور آخرکار حکومت نے لکھ کر دے دیا کہ وہ لوک پال کا تقرر کردے گی اور انا ہزارے نے اپنا برت توڑا۔

ہم کہنا یہ چاہتے تھے کہ جو حربہ راجستھان کے گوجروں نے استعمال کیا ہے کہ پانچ فیصدی ریزرویشن کی مانگ لے کر ریل کی پٹریوں پر آکر بیٹھ گئے اور حکومت جو بھی ہو وہ زنخوں کی طرح ان کی خوشامد میں لگ گئی اور ان کو یقین دہانی کرانے لگی اور کمیٹی بناکر مذاکرات کرنے لگی کہ ریزرویشن کتنا کیسے اور کب تک دے دیا جائے گا اور گوجروں کا ٹولہ نہ اب ہٹتا ہے نہ تب بلکہ اس سے بھی زیادہ غلط حرکت شروع کردی کہ سڑکوں کو جام کردیا کہ دوسری ریاستوں اور شہروں سے نہ بس آئے گی نہ کار۔ اور پھر بھی حکومت نے نہ لاٹھی چارج کا حکم دیا اور نہ فائرنگ کا۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ ریل اور سڑک حکومت کی ملکیت نہیں ہے وہ عوام کی ملکیت ہے اور عوام کے لئے ہے۔ ایک ٹرین میں حکومت کے افسر مشکل سے 20  ہوں گے اور مسافر ہزار ان میں وہ بھی ہوں گے جو کسی کے مرنے میں شریک ہونے کیلئے جارہے ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جو بارات لئے جارہے ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جو چھٹی گذارکر ملازمت کی کرسی کیلئے جارہے ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جو چھٹی گذارنے اپنے بچوں کے پاس جارہے ہوں گے یا وہ بھی ہوں گے جو امتحان دینے جارہے ہوں گے اور وہ بھی ہوں گے جو نوکری کا انٹرویو دینے جارہے ہوں گے۔ غرض کہ ان میں سے ہر آدمی کا کام ان گوجروں کی ریزرویشن کی تقریر کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے اہم ہے۔ وہ حکومت جس نے ایک ٹرین کے مسافروں سے کروڑوں روپئے لئے ہیں کہ ان کو منزل مقصود تک پہونچائے گی وہ اگر نہیں پہونچا سکتی تو استعفیٰ دے دے یا مسافروں کو اجازت دے دے کہ اگر وہ پٹری کو خالی کراسکیں تو کرالیں اور پھر دور کھڑے ہوکر تماشہ دیکھنے کے بجائے اعلان کردے کہ ایک گھنٹہ کے بعد جو گاڑی بھری کھڑی ہے وہ اس پٹری سے گذرے گی اگر سو کٹتے اور پچاس مرتے ہیں تو وہ خودکشی لکھی جائے گی لیکن گاڑی کوئی نہیںرُکے گی۔

ریل کی پٹری پر بیٹھنے کا تماشہ ان گوجروں نے ہی شروع کیا ہے اور ان کی ہی دیکھا دیکھی جاٹوں نے پہلے سہارنپور میں اور پھر ہریانہ میں ریزرویشن کے نام پر ریلوے کا کروڑوں اور عوام کا سیکڑوں کروڑ کا نقصان کیا ہے۔ ان گوجروں میں تین چار بڈھے ہیں جن کو کوئی کام نہیں ہے وہ ہر سال یہ پکنک کرتے ہیں اور ریل کی پٹری پر جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ آس پڑوس میں سب گوجروں کے گائوں ہیں وہیں سے دودھ چائے اور کھانا آتا ہے۔ اور بزدل حکومت اعلان کردیتی ہے کہ 20  گاڑیاں کینسل کردی گئیں اور 10  کے روٹ بدل دیئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے جو حکومت کا نقصان کہا جاتا ہے وہ عوام کا نقصان ہے اس میں نہ دس روپئے ریلوے کے وزیر کے ہیں اور نہ سو روپئے نریندر مودی کے۔ حکومت اگر اسی طرح کرتی رہی تو پھر آئندہ ہر احتجاج اور مظاہرہ ریل کی پٹریوں اور سڑکوں پر ہوگا۔ اور جس دن یہ شروع ہوگیا اس دن ملک کھڑا رہ جائے گا۔

حکومت اگر ووٹ کی خاطر گوجروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تو وہ بے وقوف ہے۔ ان گوجروں سے تعداد میں بہت زیادہ وہ ہوں گے جو حکومت کی بزدلی کی وجہ سے حکومت کے خلاف ہوجائیں گے۔ آجکل سہالک ہے ہندو مسلمان سب شادی کررہے ہیں اگر دس باراتیں بھی الٹ پلٹ ہوگئیں تو پانچ ہزار ووٹ ٹوٹ جائیں گے۔ حکومت کو ہر قیمت پر ریل کی پٹریوں اور سڑکوں کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہئے اور جو مداخلت کرے ان کیلئے انتہائی سخت سزا کا قانون بنانا چاہئے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ کوئی پارٹی اس کی مخالفت کرے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close