سیاست

زوال کے آخری مرحلے کی دستک!

عالم نقوی

بظاہر یہ زوال کے آخری مرحلے کا آغاز ہے ! بھارت میں ہسپانیہ کا تجربہ دہرایا جائے گایا فلسطین و بوسنیا کا ،یا بیسویں اور اکیسویں صدی کے تمام تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی با لکل ہی نیا تجربہ  ہم نہیں جانتے ۔ اس کی تفصیل اور وضاحت بھی سر دست ممکن نہیں لیکن یہ جو کچھ ہوا ہے وہ اَراکان سے ہندو کُش تک اہل ایمان کے لیے نئے مصائب کا پیش خیمہ ضرور ہے ۔ یاجوج اور ماجوج کا ظہور تو قیامت سے قبل ہونا ہی ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ اب حضرات عیسیٰ و مہدی علیہم ا لسلام کی آمد سے پہلے شاید ہی کچھ درست ہو سکے ۔ عراق و افغانستان ،لیبیا و الجیریا کے بعد یمن و سیریا ،میانمار و غزہ اور فلسطین میں جو کچھ چل رہا ہے اس کے دیکھتے ہوئے بر عظیم ہند ۔ پاکستان و بنگلہ دیش کی طرف سے مطمئن رہنے کا ویسے بھی کوئی جواز نہیں ہے ۔

سنگھ پریوار کو بتدریج ملتے رہنے والی تمام کامیابیوں کا اصل ذمہ دار کانگریس پریوار ہے جس نے کم و بیش ساٹھ سال تک حکومت کی ہے اور دَر پردہ، سنگھ پریوار کی فسطائیت کو پروان چڑھایا ہے ۔حکمراں پارٹی اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ریاست کے تمام ستونوں میں سنگھ پریوار سے وابستہ و پیوستہ افراد کی جڑیں مضبوط کرنے کا کام تو کانگریس ہی نے کیا ہے ۔

رہے ہم اور ہماری بے بصیرت لیڈر شپ تواُس کی اکثریت نے اپنا رُخ درست کرنے اور مؤمنانہ فراست کے ساتھ اپنی ترجیحات معین کرنے کا کام کہاں کیا !؟ سیاست اور قیادت کے نام پر ہم تو بیشتر وہی کرتے رہے ہیں جو نہیں کرنا چاہیے تھا ۔اور جو کام بہر قیمت و بہر صورت ہمیں جاری رکھنے چاہیے تھے وہی ترجیحات کے آخری درجے میں رہے ! ہم  نے MEANSکو ENDسمجھ لیا ،جو محض وسیلہ ہو سکتے تھے انہیں مقصد کا درجہ دے دیا !جو مقصود و مطلوب تھا ،جو نصب ا لعین تھا اسی کو بھلا دیا ۔

اسلام نافذ ہونے کے لیے آیا ہے لیکن، اس کے لیے قوت طاقت  اور اقبال کی بلندی چاہیے ،جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دی، سو ہماری قوت ناپید اور ؤہوا اُکھڑ گئی ، پھر اقبال کو تو گم ہو نا ہی تھا ۔ہمیں صلہ رحمی کرنے ،اسراف نہ کرنے اور دشمنی میں بھی عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کا حکم تھا مگر ہم قطع رحمی ،اسراف اور ظلم و نا انصافی اور بد دیانتی کے قومی دھارے میں بہتے ہی چلے گئے ۔ ہم نے اپنے معاملات خراب کر لیے ،تعلیم حاصل کی تو حکمت چھوڑ دی ،اللہ نے عقل دی تھی لیکن فراست اور غلبے کے لیے ایمان کی شرط رکھی تھی جس کے فقدان کے نتیجے میں قدم قدم پر بے وقوف تو بنائے ہی گئے مغلو بی کے آخری درجے میں بھی پہنچ گئے ۔ اور یہ تو ابھی ہماری گناہگار آنکھوں نے بھی دیکھا کہ میمنا شیر سے کہہ رہا تھا کہ حضور ! ہم تو صدیوں سے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے آئے ہیں ،ہم تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،بھلا بھائی کو بھائی سے کیا خطرہ ؟

 لیکن ہم مایوس نہیں ہوتے ،اس لیے کہ مایوسی کفر ہے اور بحمد للہ مسلم ہیں کافر نہیں ! اور اسی لیے ہم کسیاحساس کمتری و مغلوبی میں بھی مبتلا نہیں  ۔ہم جانتے ہیں کہ دردجب حد سے گزرتا ہے  تو دوا ہو جاتا ہے !اور یہ کہ عزت اور ذلت ملک و اقتدار سب اللہ سبحانہ تعالی ٰ کے اختیار میں ہے ۔

 وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ اسپین اور بوسنیا نہیں ہندستان ہے وہاں کوئی معین ا لدین چشتی نہیں تھے ،یہاں ہیں ۔وہاں کوئی نظام ا لدین اولیا نہیں تھے ،یہاں ہیں ،وہاں کوئی بختیار کاکی ،سالار مسعود غازی اور حاجی وارث علی اور امداد ا للہ مہاجر مکی نہیں تھے یہاں ہیں ! اور یہ فرق بہت بڑا فرق ہے ! رہے اقتدار و حکومت  تو وہ کبھی ایک  جگہ نہیں رہتے ۔کل جو صاحبان اقتدار تھے آج نہیں ہیں ،جو آ ج ہیں وہ کل نہیں رہیں گے ۔کیونکہ یہ دنیا عالم اسباب ہے ! تاریخ گواہ ہے کہ ظلم ،اسراف اور فساد کے ساتھ کوئی حکومت بہت دن نہیں چل سکتی اور اللہ سبحانہ کا وعدہ ہے کہ وہ ایک دن مستضعفین فی ا لارض ہی کو اس دنیا کا امام و پیشوا بنا کر رہے گا ! اور یہ اُس قادر ِمطلق کا وعدہ ہے جو ہماری طرح نہ بھولتا ہے ،نہ اونگھتا ہے نہ ہی سوتا ہے اور نہ وعدہ خلافی کرتا ہے ! فھل من مدکر ؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close