سیاستہندوستان

زور زبردستی ایک بیمارسوچ

ابراہیم جمال بٹ

حال ہی میں شمالی کشمیر کپواڑہ میں عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں تین فوجی موت کی نیند سوگئے اور دو عسکریت پسند جان بحق ہو گئے ،جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے  مارے گئے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے سماج میں ایک ایسا تشدد جاری ہے جس کا کہیں کوئی خاتمہ نظر نہیں آرہا ہے۔‘‘ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے جموں وکشمیر کے عوام سے قیامِ امن اور اختتامِ تشدد کے لیے آگے آکر اپنا تعاون دینے کی اپیل کی۔

وزیراعلیٰ کایہ بیان اس حدتک صد فیصد مبنی بر حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر میں ’’تشدد جاری ہے‘‘ مگر یہ آدھا سچ ہے کیونکہ بیان میں تین باتوں کا کوئی اشارہ موجود نہیں کہ جاریہ تشدد کے بھینٹ  کسے چڑھایا جارہاہے ؟ کن ہاتھوں سے چڑھایا جارہاہے ؟ اس تخرب و تشدد کے اصل اسباب و محرکات کیا ہیں ؟ ضمنی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخرکیاوجہ ہے کہ تشدد وبربر یت کی انتہا کر کے کشمیرکی امن پسند قوم کا خون ناحق بہایا جا رہا ہے، جب کہ یہاں کے عوام الناس کی اصل شاخت اور مسلمہ پہچان یعنی انسان دوستی، کشادہ ذہنی اور مہمان نوازی کا دنیا معترف ہے؟ غور طلب ہے کہ خاتون وزیراعلیٰ نے موجودہ ناگفتہ بہ حالات کے تناظر میں زیر بحث بیان کے ایک حصے میں بر ملا اعتراف کیا کہ ’’اس تشدد کا خاتمہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے‘‘ ۔

ان سے سوال یہ ہے کہ ’’تشدد کا خاتمہ‘‘ کیونکرناممکن بناہوا ہے ؟ کون ’’تشدد کے خاتمے ‘‘ سے گریزاں ہے ؟ کس کی تجوری میں ’’ تشدد‘‘ کا منافع جمع ہورہاہے اور کس کے مقدر میں اس کے خسارے آرہے ہیں ؟ ان سوالوں کے ساتھ ساتھ اگر وزیر اعلیٰ صاحبہ کے اُن بیانات کو بھی ملحوظ نظر رکھا جائے جن میں انہوں نے بارہاکشمیر کی بگڑتی صورت حال کے تعلق سے ببانگ ِ دہل’’چند لوگوں ‘‘ پر الزام لگایا کہ وہ حالات میں بگاڑ پیدا کر نے اور تشدد کے ذمہ دار ہیں ، تو موصوفہ کے خیالات کی تصویر ذرا ساصاف ہو کر سامنے آئے گی۔محبوبہ مفتی نے کشمیر کے نامساعد حالات کے بارے میں ماضی ٔ قریب میں اپنے اعداد وشمار کا پٹارا کھول کر یہ فتویٰ بھی دے ڈالا تھاکہ یہ ’’امن دشمن ‘‘ طبقہ مجموعی آبادی کا لگ بھگ پانچ فیصد ہے،اور یہ کہ آبادی کا یہ حصہ نہیں چاہتا کہ وادیٔ کشمیر میں امن وآشتی کا ماحول قائم ہو۔

اس پر نکتہ وروں نے سوال اُٹھا یا کہ’’ پانچ فی صد سر کشوں ‘‘ کے مقابلے میں پچانوے فی صد اکثریت کیوں ’’مٹی کے مادھو‘‘ بنی ہوئی ہے ؟ پھر ایک اور یہ عجوبہ حال ہی میں ہو اکہ سری نگر میں انتخابی بائیکاٹ میں پانچ فی صد پچانوے فی صد پر بھاری پڑے …کیوں ؟ وزیراعلیٰ کے پاس ان سوالوں کاکوئی جواب نہیں کیونکہ ان کی بیان بازی کا نچوڑ یہی ہے کہ اول ان کی تنخواہ حلال ہو ، دوم منصب کا تقدس رہے نہ رہے مگر ان کی کرسی کی سلامتی یقینی بنے ۔ یہ تو مانی ہوئی بات ہے کہ اس کے لئے انہیں بھی اپنے پیش روؤں کی تقلید میں کشمیر کی آتشیں صورت حال کو کسی عوامی تحریک کا شاخسانہ، کسی حل طلب مسئلے کی گونج ،کسی سیاسی بے چینی کی صداے بازگشت، کسی قومی کاز کا ثمرہ ماننے سے نہ صرف انکار کرنا ہوگا بلکہ زمینی حقائق کی گردن مروڑتے ہوئے صرف دلی میڈ عینک سے حالات کو دیکھنا پرکھنا ہوگا اور بیک بینی ودوگوش دلی کی زبان سے ہی ان پرتبصرہ کرناہوگا۔ یہی طرز ِ سیاست سنتالیس سے لے کر آج تک دلی کے تمام چہیتے کشمیر ی حکمرانوں کا کلمہ ٔ اول رہا ہے۔ اس لئے ہند نواز پی ڈی پی پر ’’نرم علیٰحدگی پسندی ‘‘ کی تہمت لگانے والے محبوبہ مفتی کی ان لن ترانیوں پر انگشت بدنداں ہوں کہ نہیں مگر کشمیری عوام جانتے ہیں کہ یہ جماعت اہل کشمیر کے ہرے زخموں کی مرہم کاری کے لئے کام نہیں کر رہی ہے بلکہ عوام کو نئے نئے زخم دینے کے لئے جن سنگھ کے شانہ بشانہ سرگرم عمل ہے ۔ اس کے گرینڈ الائنس دستاویز میں حریت اور پاکستان سے دلی کی بات چیت، بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی یا ایسے ہی ودسرے سبز باغ کرسی ٔ اقتدار کے حصول کے بعد آؤٹ ڈیٹ الفاظ کا پلندہ  ہے اور کچھ نہیں ۔

 وزیر اعلیٰ سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ وہ’’ پانچ فیصد‘‘ لوگ جو امن کے رنگ میں بھنگ ڈالنے‘‘ کا کام کر رہے ہیں ، اگر ان سے نمٹنا لاکھوں فورسز اور پولیس کے لئے اتنا مشکل ہے تو  95فیصد لوگوں سے قیام ِ امن کی اپیل کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟دراصل بات یہ ہے کہ سربراہِ حکومت خاص کر حالیہ انتخاب کے عوامی پیغام سے اس قدر بوکھلاہٹ میں آگئی ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں اور انہیں کیا کہنا چاہیے۔ نیز حکومت اس بات سے پوری طرح واقف ہے کہ یہ پانچ فیصد نہیں بلکہ پچانوے فیصد لوگ ہیں جو نہ صرف محبوبہ جی کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں بلکہ دلی کی ماردھاڑ ، دباؤ دھونس پر مبنی پالیسی بھی انہیں قبول نہیں بلکہ وہ دل وجان سے چاہتے ہیں کہ کشمیر کا کوئی منصفانہ حل ڈھونڈ کر اہل کشمیر کو بھی عزت وآبرو اور امن وآشتی سے جینے کا موقع دیا جائے ۔ اس کے برعکس یہ ایک سیاسی پہیلی ہے کہ ۸ ؍ جولائی سے لگاتار کشمیر میں اُبال کے پس منظر اور پیش منظر سمجھ کر کوئی مثبت سیاسی پیش قدمی کر نے کی بجائے مرکزی حکومت اور جموں وکشمیر کی مخلوط سرکار وادی کشمیر کے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔

کوئی مہاشئے سجھاؤ دے رہا ہے کہ کشمیر کی پوری آبادی کو تامل ناڈو کے پناہ گزیں کیمپوں میں منتقل کر کے وادی کو اکثریتی طبقہ سے خالی کرایا جائے ، کوئی بک رہاہے کشمیر پر بمباری کی جائے ، کوئی کہہ رہاہے جن سینا کا گھٹن کیا جائے ۔ یوں نہ صرف غیر ریاستی لوگوں کی دھمکیاں اہل کشمیر کو مل رہی ہیں بلکہ حکومت ہند کے منصبوں پر فائز لوگوں کی طرف سے ایسے ایسے اوٹ پٹانگ بیانات سامنے آرہے ہیں جو کشمیریوں کو خوف زدہ کرنے اور انہیں مارنے مٹانے کے خوفناک مشورے ہی کہلا سکتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اتر پردیش میں بھاجپا سرکار کے مابعد بھارت کی مختلف ریاستوں میں تجارت و تعلیم وغیرہ کی غرض سے مقیم کشمیریوں کوریاست بدر ہونے کے الٹی میٹم کھلے عام دئے جا ر ہے ہیں ۔ گذشتہ ماہ جب بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی دورہ جموں پر آئے تو انہوں نے اہل کشمیر سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’ریاست کے لوگوں کے لیے دو ہی راستے ہیں :’’سیاحت یا عسکریت‘‘ ۔ اس کے بعد بی جے پی کے سینئر لیڈر ،ممبر پارلیمنٹ اور متنازعہ بیانات کے لیے مشہور سبرامنیم سوامی نے سوشل ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ میں کہا کہ ’’وادی کشمیر میں جاری مزاحمت کا حل یہ ہے کہ انہیں اسی طرح وہاں سے نکال دیا جائے جیسے کشمیری پنڈتوں کو نکالا گیا۔ انہیں کچھ برس تامل ناڈو کے پناہ گزین کیمپوں میں رکھا جائے ۔ ‘‘

اس ٹویٹ پر ابھی فضا میں ارتعاش پیدا ہو ہی رہاتھا کہ جموں وکشمیر میں مخلوط سرکار کے کابینہ وزیر چندر پرکاش گنگا نے کشمیر وادی میں نوجوانوں کی مزاحمت یا پتھرائو سے نمٹنے کے لیے ’’گولی ہی کو کارگر علاج قرار دے کر کہا کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے کشمیریوں کی مزاحمت کو دبایا جا سکتا ہے۔ اس پر انہوں نے تعصب ،کند ذہنی اور جنونیت کا اظہار ان الفاظ میں کیا : ’’ وادی کشمیر میں یہ مزاحمت کار لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے نہیں مانیں گے۔‘‘ اس کے بعد بھاجپا کے قومی جنرل سیکرٹری اورکشمیر معاملات کے انچارج رام مادھو نے اپنے ایک بیان میں فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں پر ظلم وتشدد ڈھائے جانے کے واقعات کی جوازیت میں کہا ’’محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔‘‘ یعنی فوج کو اختیار ہے جو چاہے کشمیری عوام سے کر گزرے ۔اس کے ساتھ ہی یو پی ہند نواز لیڈر امت جینی جو کہ اتر پردیش نو نرمان سینا کے سربراہ ہیں ،نے اُتر پردیش کے اہم چوک چوراہوں پر ہورڈنگس کھڑے کرکے وہاں پر مقیم کشمیری طالب علموں ، تاجروں اور نجی ملازمت پر مامور کشمیریوں کو ’’اتر پردیش چھوڑدو ورنہ…!‘‘ کی بھیانک دھمکی دی۔ اسی پر بس نہ ہوا بلکہ ویشو ہندو پریشد کے لیڈر پروین توگڑیا نے بھارتی فورسز پر ہونے والے پتھراؤ کو روکنے کے لیے کشمیر پر ’’کارپیٹ بمباری‘‘ کی وکالت کی ۔

انہوں نے اپنے روایتی تلخ لہجے میں کشمیریوں کو دھمکی دے کر کہا کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیر پر شدید بمباری کرنی چاہیے۔ ایسے بیانات کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے ۔ جموں وکشمیر میں سرگرم مختلف سیاسی وغیر سیاسی تنظیموں کے علاوہ دینی انجمنوں نے تیکھا ردعمل ظاہر کیا۔بھارت نواز این سی نے اپنا پینترا بدلتے ہوئے کشمیری عوام سے کہا کہ ’’ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ ‘‘ حالانکہ یہی وہ جماعت ہے جس نے دلی میں بھاجپا کو گلے لگاکر اس کے عوض عمر عبداللہ نے وزارتِ خارجہ کی ملازمت حاصل کی اور گجرات قتل عام اور اٹونومی قرارداد کا بر ے حشر کے باجود شیام پرساد مکھرجی کے آل اولاد سے اپنا ناطہ ’’اس ہاتھ لے اس ہاتھ دے‘‘ کے تاجرانہ اصول کے تحت جوڑا اور ۴۷ء کی تاریخ کا اعادہ کر نے میں کوئی پس وپیش نہ کیامگر اب اہل کشمیر کے جذبات اور حریت سے بات چیت پرا پنی سیاسی دوکان چمکارہی ہے ۔

ہندنوازوں کے کشمیر حامی ا ور کشمیر مخالف بیانات سے اگرچہ وادی کے عام لوگ لاتعلق ہیں ، تاہم ذی حس و باشعور لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ایسی نقلی ہمدردیوں اور دھمکیوں بھرے بیانات کیا معانی رکھتے ہیں ۔ آج کی دنیا میں دھمکیاں اور دھماکے سیاست کے معمولات بنے ہیں ۔ امر یکی صدر ٹرمپ دھمکیاں اورپہاڑ نما بم مختلف ممالک میں نہتوں پر برساکر اپنی چودھراہٹ کا پھریرا لہرارہاہے ، اسرائیل فلسطین پر جنگ وجارحیت تھوپ کر اپنی انانیت کا سکہ اور اپنی حیوانیت کا راج چلارہاہے، سنگھ پریوار کشمیر پر جارحانہ اتیاچار کر کے اور ہندوستان کے مسلمانوں  سمیت دلتوں عیسائیوں کا جینا حرام کرکے دلی کے تخت وتاج پر بلا شرکت غیرے قابض ہونے کا لائسنس پا رہا ہے ۔ ان تین قوتوں کی سیاسی اور عسکری پلاننگ سے ان کے شکار ممالک اور قومیں بہت سارے ناقابل یقین مصائب ومشکلات سے دوچار ہیں ۔

ایسے میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی سیاست پر یہ ہنسنے کا مقام ہے کہ وہ قیامِ امن یا تشدد کے خاتمے کے لیے اُن دکھ زدہ ومظلوم عوام سے اپنا تعاون مانگ رہی ہیں جن کے اپنے لخت جگر ان کی حکمرانی میں قبروں میں اُتارے گئے یا اندھے بنائے گئے یا جیلوں میں سڑ رہے ہیں یا ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پولیس اور فوج  کے ہتھے چڑھ رہے ہیں ۔ یہ وہیں بے نوا عوام ہیں جن کے راج دُلاروں کا اس سرکار کی چھتر چھا یا میں صرف اس لیے خون بہایا گیا کہ وہ کہیں برہان مظفر کے جان بحق ہونے پر ماتم کناں تھے ، کہیں اپنا پیدائشی حق مانگنے کے ’’جرم ‘‘میں گولیاں ، پیلٹ ، قید وبند، آگ زنیاں ، گھروں کی توڑ پھوڑ اور بستیوں کی تباہیوں کا نشانہ بنائے گئے۔ کیاوہ نوجوان جنہیں قبروں میں ابدی نیند سلادیا گیا اور وہ کم عمر بچے جن کی آنکھوں کی بصارت چھین لی گئی عوام کے لخت ہائے جگر نہیں ،کوئی آسمانی مخلوق تھے ؟

ریاستی حکومت نے بجائے ا س کے اپنا احتساب کیا ہوتا،اس نے عوام کے تازہ زخموں کو کر یدتے ہوئے سری نگرا ور اسلام آباد میں انتخابی اکھاڑہ سجایامگر لوگوں نے بائیکاٹ کر کے پی ڈی پی کو خاص کر آٹے دال کابھاؤ بھی بتادیا اور ہوا کارُخ بھی بتادیا ۔ یہاں تک کہ کشمیر کی وہ بہنیں اور بیٹیاں جووادی کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال پر اپنا غم و غصہ ظاہر کر نے کے لئے پُرامن احتجاج کر رہی تھیں ان پر بے تحاشا طاقت کا استعمال کر کے حکومت وقت نے کوئی بہادری دکھائی یا بزبان ِ حال یہ بتا دیا کہ ہم سے خیراور معاملہ فہمی کو کوئی اُمید نہ رکھنا ۔

دراصل وادیٔ کشمیر کی مخلوط سرکار ہی نہیں بلکہ بھارت کی مرکزی سرکار بھی فی الوقت دونوں کشمیرکرائسس سے سیاسی طور نمٹنے میں مکمل طور ناکام ہوئی ہیں ، اس لئے یہ کشمیریوں پر یکے بعد دیگرے خوف ودہشت کے حربے استعمال کر کے عوامی مزاحمت کو پچھاڑنے کی ناکام کوششوں میں لگی ہوئی ہیں ۔ اس کی ایک کڑی یہ ہے کہ سرکار نے بیک جنبش قلم یہاں موبائل فون ،فیس بک ، واٹس اَپ اور انٹرنیٹ پر بار بار بندش عائد کر دی جا رہی ہے۔ فی الحال ایک ماہ کے لیے حکومت ہند نے پوری وادی میں انٹرنیٹ پر تالا بندی کا فرمان جاری کر دیا۔ اس کے علاوہ کالجوں اور سکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں کا حق بجانب غم وغصہ کنٹرول کرنے کے لیے کبھی تعلیمی اداروں کو ہی مقفل کر دیا جاتا ہے کبھی احتجاجی طلبہ وطالبات کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا غیر ضروری استعمال کیا جارہاہے ، حتیٰ کہ اب ناراض طالبات کے خلاف زنانہ پولیس فورس تشکیل دی جارہی ہے۔

ناگفتہ بہ حالات کے اس تناظر میں عوام سے تعاون کی اپیل کرنا بیان برائے بیان کی مشق لاحاصل لگتی ہے ۔ اگر واقعی حکمرانوں کو عوام کے احساسات کی قدردانی ہوتی ہے تو کپواڑہ جھڑپ کے دوران کام آنے والے جنگ جوؤں کے آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے جب عام لوگوں نے فورسز سے نعشیں مانگیں تو ان پر بے تحاشہ پل پڑنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ فورسز نے نہ صرف نعشیں اپنی تحویل میں رکھ کر عوام کو مشتعل کیا بلکہ بر سر موقع ایک معمر شخص کی جان لے کر ہی دم لیا ۔ یہ کہاں کی عوام دوستی ہوئی ؟ نیز سرکاری دعوے کے مطابق اگر وادی میں صرف150عسکریت پسندفعال ا ور سرگرم ہیں تو ان کے لئے افسپا ،آٹھ لاکھ فوجیں اور نئی وردی پوش بٹالنیں بنانے کا کیا تُک ہے؟ وادی ٔکشمیر کے لوگ فطرتاً امن پسند ہیں تاہم جب تک انہیں وہ ماحول نہیں دیا جائے گا جس میں انہیں عزت و وقار اور اپنی شناخت سمیت جینے کی ضمانت نہ ہو وہ کسی صورت امن کی خالی خولی اپیلوں کو محض زبانی جمع خرچ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے اور یاد رکھئے کہ ا من کی پہلی سیڑھی کشمیر مسئلے کے پُرامن اور قابل قبول حل سے شروع ہوتی ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ابراہیم جمال بٹ

کشمیر کے کالم نگار ہیں

متعلقہ

Close