سیاست

سب جان گئے کہ شیر کے دانت ٹوٹ چکے ہیں

حفیظ نعمانی

اگر کوئی گھنے جنگل میں شیر کے سامنے خالی بندوق تان کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہوجائے تو یہ اس کا ثبوت ہے کہ اس کے دل سے شیر کا خوف اور اس کی ہیبت نکل گئی ہے اور اگر وقت پڑجائے تو وہ بندوق کو لاٹھی بناکر بھی شیر کا سامنا کرسکتا ہے بھاگے گا نہیں۔

2014ء میں جب شری نریندر مودی نے حلف لے لیا اور پھر وہ اپنی پوری فوج کے ساتھ پارلیمنٹ کی سیڑھیوں کے قریب آئے تو اچانک انہوں نے داخل ہونے سے پہلے سیڑھی پر ماتھا ٹیکا اور اس کے بعد وہ اندر داخل ہوئے۔ ہال میں جب انہوں نے تقریر کی تو وہ اس مودی سے بالکل الگ تھے جس نے تین مہینے تک ووٹ مانگے تھے۔ اب جو تقریر کی تو وہ بلاشبہ ایک مدبر اور ایک مفکر کی طرح بول رہے تھے انہوں نے اس تقریر میں جو کہا تھا اگر وہ کردیا ہوتا تو آج بھی راہل گاندھی یا نوجیوت سنگھ سدھو کی کیا سونیا گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی بھی یہ ہمت نہ ہوتی جو کل نظر آئی۔ اس تقریر کی تمام باتیں دہرانے اور کئے ہوئے وعدوں کو کیا یاد دلایا جائے سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ جس پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ملک اور 120  کروڑ انسانوں اور کروڑوں جانداروں کی قسمت ہے ان میں سیکڑوں قاتل بے ایمان ملک دشمن اور ہر جرم کے مجرم ہیں۔ ان کے بارے میں مودی جی نے پوری طاقت سے کہا کہ ان میں جتنے داغی ہیں وہ صرف ایک سال کے اندر سب جیل میں ہوں گے۔ لیکن وہ سب آج بھی ان ہی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔

اس تقریر کو چار سال ہونے والے ہیں اور وزیراعظم وعدہ پر وعدہ وعدہ پر وعدہ کرتے جارہے ہیں مگر کسی ایک کے خلاف پہلی پیشی بھی نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس کے اجلاس میں ہر مقرر نے ان کے وعدے یاد دلائے۔ ہم 2014 ء کے وعدوں کو دوسروں کے لئے چھوڑکر اس کے بعد جو کہا اس کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا تو لحاظ کیا ہوتا؟ یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ ان کی ضد تھی اور یہ حقیقت ہے کہ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میں کتنی بڑی غلطی کررہا ہوں اور اس سے ملک کتنے برس پیچھے چلا جائے گا وہ سونیا گاندھی، مایاوتی اور اکھلیش یادو کو ننگا بھوکا کرنے کی ضد میں یہ فیصلہ کربیٹھے اور اس کے نتیجے میں جب انہوں نے لوگوں کو تڑپ تڑپ کر مرتے دیکھا تو وہ چیخ پڑے اور قوم سے بھیک مانگی کہ مجھے بس 50 دن دے دو پھر دیکھو کہ تمہارا ملک کیسا کندن بن کر دمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ وہ بھیک تھی جو بھکاریوں سے ایک ناتجربہ کار مانگ رہا تھا اور کون تھا جو کہتا کہ چلو ہم نے 52 دن دیئے اب دکھائو؟ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ اب ملک گوبر کا کنڈا بن کر رہ جائے گا۔ دنیا کا ہر ملک الگ مزاج اور فطرت کا مالک ہوتا ہے۔ ہندوستان بند مٹھی اور کھلی مٹھی کا ملک ہے کروڑوں کا کاروبار بند مٹھی کے بل پر ہوتا تھا مودی جی نے سب کی مٹھی کھول دی جس سے کاروبار آدھا رہ گیا۔ گذشتہ چار برسوں میں انہوں نے صرف ایک طریقہ اپنایا کہ جس نے جو مانگا وہ دینے کا وعدہ کرلیا اور ووٹ لے کر بھول گئے۔

وہ کانگریس جو 2014 ء میں 44 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی اور اس پر ایسی ہیبت طاری ہوئی تھی کہ اجلاس ہوتا تھا، بل پیش ہوتے تھے اور پاس ہوجاتے تھے اسی کانگریس نے اس سال صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے جب مودی جی کھڑے ہوئے تو انہیں سننے سے انکار کردیا اور وہ 90  منٹ گلا پھاڑتے رہے اور ان کی مخالفت میں 90  منٹ شور ہوتا رہا۔ اور اس سے پہلے یہی وزیراعظم جگہ جگہ یہ کہتے سنے گئے کہ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جاتا میں دل کا درد کہنے کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں۔

چار سال سے سونیا گاندھی اتنی چپ تھیں کہ ہر زبان پر ان کی بیماری کا ذکر تھا لیکن کانگریس اجلاس میں 17 مارچ کو جب وہ بولیں تو محسوس ہوا کہ ان کی صحت تو راہل سے بھی اچھی ہیں سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جو صرف نوٹ بندی کے بعد راجیہ سبھا میں آئے تھے اور چند منٹ اپنی بات کہہ کر چلے گئے تھے انہوں نے بھی یہ کہنا ضروری سمجھا کہ مودی جی نے ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وہ صرف خودنمائی کرتے ہیں ۔ وہ کانگریس جس کے بارے میں مودی جی کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیتے تھے اور کانگریس ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتی تھی کہ پارٹی کو کیسے محفوظ کیا جائے آج مودی جی کی ناتجربہ کاری اور جھوٹے وعدوں اور جھوٹی یقین دہانیوں کی بدولت ایسی ہوگئی کہ مودی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے یہ دکھا رہی ہے کہ ہم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ خالی بندوق سے ہی شیر کو ڈرا رہے ہیں۔

مودی جی نے وزیراعظم ہوتے ہوئے جمہوریت کا خون کیا ہے۔ وزیراعظم بننے کے بعد کوئی اپنی پارٹی نہیں چھوڑتا لیکن 70 سال کی تاریخ میں کسی وزیراعظم نے اس طرح اپنی پارٹی کا تیسرے درجہ کا ورکر بن کر الیکشن نہیں لرا جیسا ہر الیکشن میں مودی جی نظر آتے ہیں۔ اُترپردیش کے الیکشن میں وہ بدترین فرقہ پرست نیتا بن کر سامنے آئے۔ اور الیکشن کو سیاست کے میدان سے مذہب کے میدان میں لے گئے۔ انہوں نے پوری طاقت اس پر صرف کردی کہ اکھلیش یادو گھٹیا ہندو ہے جو مسلمانوں کا زیادہ خیال کرتا ہے۔ اور اس بات کو بدل بدل کر اتنے انداز میں کہا کہ اکھلیش یادو کو کہنا پڑا کہ میں بھی تو ہندو ہوں۔ جس صوبہ میں 22 کروڑ انسان رہتے ہوں ان میں چار کروڑ کے لگ بھگ مسلمان ہوں وہاں کے وزیراعلیٰ کو گھٹیا ہندو اور مسلم نواز کہنا کیا ایک وزیراعظم کے شایانِ شان ہے؟ گجرات میں تو وہ آدتیہ ناتھ یوگی سے بڑے ہندو ہوگئے کہ گجراتی ہندوئوں کو احمد پٹیل سے ڈرایا کہ کانگریس انہیں وزیراعلیٰ بنا دے گی۔

اور جو کچھ مودی جی نے گوا، منی پور، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں پیسوں کے بل پر کیا وہ ایک وزیراعظم کے کرنے کے کام تھے؟ یہ حقیقت ہے کہ گرگٹ بھی اتنے رنگ نہ بدلتا ہوگا جتنے رنگ ہمارے وزیراعظم بدلتے ہیں۔ اور یہ وہ ملک ہے جہاں مولانا آزاد، رفیع احمد قدوائی، فخرالدین علی احمد، ڈاکٹر سید محمود جیسے نہ جانے کتنے مسلمان وزیر رہے اور انہوں نے ملک کو بلندیوں پر پہونچایا۔ آج اس ملک میں ہندوئوں کو یہ کہہ کر ڈرایا جارہا ہے کہ اگر تم نے ہمیں ووٹ نہ دیا تو ایک مسلمان وزیراعلیٰ بن جائے گا۔ مودی جی کے کرموں کا پھل ہے کہ اب ان کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی ہے اور اب ان کے ساتھی ان کو چھوڑکر جارہے ہیں یا بستر باندھ رہے ہیں۔ وزیراعظم اور امت شاہ کے نزدیک اصول اور نظریہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کوئی کیسا ہی ہو اگر وہ پارٹی میں آجائے تو وہ بھی پیارا ہے جب نریش اگروال جیسے بدنام کو اس حال میں لیا جاسکتا ہے کہ وہ صرف ایک بات کہہ رہے کہ مجھے ٹکٹ نہیں دیا تو میں نے پارٹی چھوڑ دی۔ ایسے ہی کباڑ سے امت شاہ نے دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بنائی تھی اور وہ بھول گئے کہ گندہ پانی جتنی تیزی سے آتا ہے اتنی ہی تیزی سے واپس چلا جاتا ہے۔ اور اب جب موقع پرست دیکھ رہے ہیں کہ ہر ضمنی سیٹ بی جے پی ہار رہی ہے تو وہ سب پارٹی میں رہ کر کیا کریں گے جو کچھ لینے آئے تھے۔ 2016 ء میں کس کی ہمت تھی کہ مودی سرکار کی تبدیلی کی بات کرتا۔ مودی جی خود اس کے ذمہ دار ہیں کہ لوگ 2019 ء میں کسی تبدیلی کی بات کررہے ہیں اور یہ تو یقین ہے کہ حکومت ان کی بنی تو وہ اتنی کمزور ہوگی کہ اس کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close