سب کا ساتھ، سب کا وکاس:  ملک کے لیے بڑا چیلنج

ڈاکٹر مظفرحسین غزالی

موجودہ سرکار اپنی میقات کاآخری بجٹ پیش کرچکی ہے۔ بجٹ نے کسی کی امید پر پانی پھیرا تو کئی کے آنگن میں جم کر بارش والی کیفیت کااحساس دلایا۔ برسراقتدار پارٹی کے افراد، سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے ذمہ داروں نے بجٹ کو امید افزا بتایا تو حزب اختلاف کمیاں تلاشتا دکھائی دیا۔ وزیراعظم نے اسے کسانوں، غریبوں وپسماندہ طبقات کا بجٹ بتاتے ہوئے نئے بھارت کی تعمیر کرنے والا بتایاجبکہ پچھلے بجٹ کو سب کے خوابوں کابجٹ بتایا تھا۔ اس بار کے بجٹ کو وہ ’سب کاساتھ سب کا وکاس‘ کرنے والا بجٹ نہیں کہہ سکتے۔ ویسے اس میں ملک کے پہلے شہری راشٹرپتی سے لے کر اس کے ان داتا کسان، سب کیلئے کچھ نہ کچھ ہے۔ البتہ یہ کچھ نہ کچھ، کچھ کیلئے فوراً حاصل ہونے والی سوغات کی شکل میں ہے، اور زیادہ ترکیلئے ایسے وعدوں کی شکل میں،  جنہیں سرکاریں پورا کرنے کی تب تک فکر کرتی ہیں، جب تک ان سے متاثر ہونے والے ووٹر کی شکل میں دکھائی دیں۔ اسی لئے کئی لوگ بجٹ کو سبز باغ دکھاکر گمراہ کرنے والا بتارہے ہیں۔

بجٹ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر، نائب صدر، گورنر اور ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ والائونس سے متعلق فیصلے کو لاگو کرنے میں سرکار کو کوئی رکاوٹ نہیں آنے والی ہے، لیکن دس کروڑ خاندانوں یعنی پچاس کروڑ لوگوں کو پانچ لاکھ روپے کے کیش لیس علاج کی سہولت،ٹی بی کے مریضوں کو اچھی غذا فراہم کرنے کیلئے600 کرور روپے مہیا کرانے، 24 نئے میڈیکل کالجوں کا قیام اور ضلع اسپتالوں کا اپ گریڈیشن کرنے، بے گھروں کو گھر اور نئے خاندانوں کو بجلی دستیاب کرانے،2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے، ان کی فصل کے لاگت سے ڈیڑھ گنے دام دلوانے، دوہزار کروڑ روپے سے زراعت بازار تیارکرنے، پانچ سو کروڑ روپے سے آپریشن گرین چلانے اور بھیڑ، بکری، گائے، بھینس وغیرہ جانوروں کو پالنے والوں کو کریڈٹ کارڈ مہیاکرانے جیسے بجٹ کے اعلانات بلاشبہ غریبوں، بے گھروالوں، کسانوں اور دیہی آبادی کو لبھانے والے ہیں لیکن پڑتال کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت ووٹروں سے کئے گئے وعدوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔

ایک سال میں سرکار کتنا کام کرپائے گی یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ فی الحال جو کام جاری ہیں، اگر وہ بھی پورے ہوجائیں تو حکومت کی بڑی کامیابی مانی جائے گی۔ مثلاً 2014میں نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر میں کہاتھاکہ 70 سالوں میں کچھ نہیں ہوا۔ ابھی بھی 18 ہزار گائوں میں بجلی نہیں ہے۔ انہوں نے ان گائوں تک بجلی پہنچانے کا عہد کیاتھا، موجودہ بجٹ میں 1.75 کروڑ خاندانوں کو بجلی دینے کا اعلان کیاگیا۔ حکومت نے دین دیال اپادھیائے گرام جیوتی یوجنا کے تحت گائوں کے الیکٹریفکیشن کاکام کیا۔ ا س کی رفتار اتنی دھیمی ہے کہ گائوں کو الیکٹریفائی کرنے میں کئی سال اور لگیں گے۔ یہ اس وقت ہے جب کسی گائوں کے دس فیصد لوگوں کو بجلی کنکشن مل جانے پر پورے گائوں کا الیکٹریفکیشن ہونا مان لیا جاتا ہے۔ رہا سوال کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا تو اس بجٹ سے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں پر عمل ہوتا نہیں دکھائی دے رہا۔ تمام کسان تنظیمیں سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کو لاگو کرنے کی مانگ کرتی رہی ہیں۔ حکومت نے 22 ہزار دیہی ہاٹ (ہفتہ واری بازار) کو چھوٹی منڈیوں کی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ قابل استقبال ہے لیکن ان کو بنانے یا آپریشن گرین چلانے اور کریڈٹ کارڈ جاری کرنے کیلئے رقم کہاں سے آئے گی، اس پر بجٹ خاموش ہے۔ کیاآنے والے دنوں میں سرکار کے ذریعہ تعلیم وصحت کی طرح اس کیلئے بھی سیس لگائے گی؟

حکومت نے ماحول میں آرہی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے ہر کھیت کو پانی دینے پر زور دیا ہے۔ اس وقت کھیتی لائق زمین کے 50 فیصد حصہ کی آبپاشی نہیں ہوپارہی ہے۔ ان زمینوں میں آبپاشی کی سہولت بڑھانے سے فصلوں کی پیداوار بڑھائی جاسکتی ہے۔ وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے آبپاشی کو حکومت کی ترجیح بتایا۔ اسی منصوبہ کے تحت ندیوں کو آپس میں جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ جو کسان زمینی پانی سے کھیتی کی سینچائی کرتے ہیں ان کیلئے سولرانرجی کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے۔ ٹمپریچر کے بڑھنے کے چلتے کھیتی سے ہونے والی آمدنی میں بھاری نقصان ہونے کا شک ظاہر کیاجارہاہے۔ اعدادوشمار کے مطابق کل کھیتی کے علاقے میں 15 سے 18 فیصد اور غیر آبپاشی والے علاقے میں سرکار کی کوششوں سے 25 سے 28 فیصد میں کمی ہونے کے آثار ہیں۔ لیکن کسان سینچائی کی راشنگ کولے کر ناراض ہیں۔

صحت وتعلیم کیلئے سیس3 فیصد سے بڑھاکر 4 فیصد کردیا ہے۔ اس بڑھوتری کا اثر صحت، تعلیم سے لے کر سبھی زمروں پر پڑنے والا ہے۔ اس سے پہلے مودی سرکار سوچھ بھارت کیلئے بھی سیس لگا چکی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی جیب سے پیسہ توگیا لیکن بھارت ابھی بھی سوچھ نہیں ہوپایا۔ موجودہ بجٹ میں یہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ نوودے اسکولوں کی طرز پر ایس سی، ایس ٹی کیلئے ایکلوے اسکول شروع کئے جائیں گے۔ یہ اسکول20 ہزار آبادی والے آدی واسی علاقوں میں بھی بنائے جائیں گے۔ ایکلوے اسکول رہائشی ہوں گے۔ ان میں داخل ہونے والے بچوں کا پورا خرچ سرکار اٹھائے گی۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت آدی واسی علاقوں میں جو اسکول، ہاسٹل، پرائمری ہیلتھ سینٹر ہیں ان کی حالت کیا ہے۔اکثر اسکولوں میں اساتذہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے کئی کئی اسکولوں کو ملانا پڑا ہے۔ ہیلتھ سینٹرس میں ڈاکٹرس نہیں ہیں۔ ہاسٹلوں کی حالت اور بھی خراب ہے۔ بہتر ہوتاسرکار آدی واسیوں کو ایکلوے تک محدود کرنے کی جگہ انہیں مین اسٹریم میں لانے کیلئے ٹھوس قدم اٹھاتی۔

دس کروڑ خاندانوں کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کو لے کر ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی صحت اسکیم ہے۔ امریکی صدر اوبامہ کیئر کی طرح۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ملک چین نے اپنی 95 فیصد آبادی کو صحت کی سہولت فراہم کررکھی ہے۔ باقی بچی آبادی کو بھی کور کرنے کا کام چل رہاہے۔ سرکار کی موجودہ اسکیم سے غیر ملکی انشورینس کمپنیوں کیلئے بھارت کا دورازہ کھلے گا۔ دس کروڑ خاندانوں کو اس کا کتنا فائدہ ہوگا یہ تو بعد میں معلوم ہوگالیکن انشورینس کمپنیوں کو کام فراہم کرنے والوں کو ان کی فیس پہلے ہی مل جائے گی۔ سرکاری اسپتالوں کا مریضوں کے تئیں منفی رویوں سے کون واقف نہیں، رہا سوال پرائیویٹ اسپتالوں کا تو ان کا پورا فوکس پیسے کمانے پر ہوتا ہے۔ البتہ 1.5 لاکھ ہیلتھ اینڈ ویلنس سینٹر قائم ہونے سے عام صحت بہتر ہونے کی توقع ہے۔

بجٹ میں نوکر ی پیشہ ومڈل کلاس کیلئے کچھ خاص نہیں ہے۔ نوکری کرنے والوں کو کنوینس ومیڈیکل کی ملنے والی34200 روپے کے فائدے کو بڑھاکر 40000کردیا گیا ہے۔ اس سے ٹیکس میں قریب تین سو روپے کا فائدہ ہوگا لیکن سیس کے نام پر اس سے زیادہ ان کا ٹیکس کٹ جائے گا۔ اسی طرح مڈل کلاس کو کیپٹل گین کے نام پر دس فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ کارپوریشن کیلئے ٹیکس میں پانچ فیصد کی کمی کی گئی ہے۔ اجولا یوجنا کے تحت 8کروڑ خواتین کو رسوئی گیس کا کنکشن مفت فراہم کیا جائے گا۔ خواتین واطفال ترقی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ای پی ایف میں خواتین کی حصہ داری8 فیصد کردی گئی ہے اور غریب حاملہ خواتین کو حمل کے دوران اچھے کھان پان کیلئے چھ ہزار روپے دینے کاانتظام کیا گیا ہے۔ اضافہ اقلیتی بجٹ میں بھی ہوا ہے لیکن بہت معمولی صرف505 کروڑ۔ اب یہ 4700 کروڑ روپے ہوگیا ہے، جس میں 2453 کروڑ روپے تعلیمی لحاظ سے مضبوط کرنے کیلئے ان سات منصوبوں کیلئے رکھے گئے ہیں جو اسی سال سے شروع کئے جارہے ہیں۔ اقلیتوں کا بجٹ ان کی تعداد اور سچر کمیٹی کی سفارشوں کے مطابق آگے لانے کیلئے انتہائی ناکافی ہے۔ یہ بجٹ صرف اقلیتوں کیلئے ہی نہیں دلتوں کیلئے بھی زیادہ امیدافزا نہیں ہے۔

گائوں، غریب، کسان، صحت اور خواتین پر بجٹ میں زور دینے کی وجہ پر غور کرنے سے اندازہ ہواکہ یہ بجٹ آنے والے انتخابات کو سامنے رکھ کر تیار کیاگیا ہے۔یوپی کے بلدیاتی اور گجرات کے اسمبلی انتخابات میں یہ بات صاف طورپر سامنے آئی تھی کہ بھاجپا کا مڈل کلاس یا شہری لوگوں نے ساتھ دیا لیکن دیہی علاقوں میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ حکومت نے بجٹ کے ذریعہ اس طبقے کوسادھنے کی کوشش کی ہے۔ دنیا کے سب سے زیادہ نوجوان بھارت میں ہیں۔ دوکروڑ نوکریاں ہر سال دینے کے نام پر بھاجپا 2014 میں ان کا ووٹ حاصل کرچکی ہے۔ روزگار نہ ملنے سے نوجوان مایوس ہیں۔ بجٹ کے ذریعہ اس بڑی تعداد کو بہتر زندگی دینے کی طرف ٹھوس قدم اٹھایا جاسکتا تھا جس میں سرکار ناکام رہی ہے۔ شاید اسی لئے نوجوانوں کو فرقہ وارانہ نعروں میں الجھاکر رکھا گیا ہے۔ جوان طاقت کے استعمال سے ملک کو بہت آگے لے جایا جاسکتا تھا لیکن اس کی صحیح منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے دیہی، غریب اور پسماندہ طبقات کو سادھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے سب کا ساتھ سب کا وکاس اب بھی ملک کیلئے چیلنج ہے۔



⋆ مظفر حسین غزالی

مظفر حسین غزالی

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

متشدد کیوں ہورہے ہیں بچے؟

بچوں کی مسکان والدین کی خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتیں سب کو بسا اوقات بھلی لگتی ہیں۔ انہیں شرارتوں سے ماہر تعلیم کو بچے کی تخلیقی صلاحیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے اسکول یا کلاس کے ساتھیوں کو اپنے رشتہ داروں پر فوقیت دیتے ہیں۔ اس کی وجہ دوران تعلیم بننے والی دوستی ہوتی ہے۔ کئی بار یہ دوستی لمبی عمر تک باقی رہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے