سیاست

سب کا ساتھ سب کا وکاس: بھاگ 2

حفیظ نعمانی

آنے والے لوک سبھا الیکشن کے لیے کانگریس اپنا انتخابی منشور اس طرح بنانا چاہتی ہے کہ اس میں ہر طبقہ کی اُمنگوں کو پورا کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں اس نے ایک میٹنگ دہلی میں بھی کی تھی جس میں مسلم دانشور، سیاست داں اور ملّی رہنما شریک تھے اور کانگریس کی قیادت اس کا نشانہ تھی۔ اسی طرح کی دوسری میٹنگ جے پور میں ہوئی جس کے مخاطب سابق وزیر سلمان خورشید اور سچن راؤ تھے۔ مسلم دانشوروں نے کہا کہ راجستھان میں صرف ایک وزیر کیوں مسلمان بنایا گیا اور وہ تمام ادارے جن کے سربراہ اور ذمہ دار مسلمان بنائے جاتے ہیں ان کے بارے میں کیوں خاموشی ہے؟

ہمارا خیال ہے کہ کانگریس کے دَور میں راہل گاندھی سے پہلے اس انداز سے نہ کسی نے سوچا اور نہ کیا۔ جن سیاسی دانشوروں نے راہل گاندھی اور کانگریس لیڈروں کو متوجہ کیا ہے وہ یہ اور بتادیں کہ تین صوبوں میں جو مسلمانوں نے پوری طرح کانگریس کو ووٹ دیئے ہیں وہ ان کی مجبوری تھی۔ وہ بی جے پی کو ہرانا چاہتے تھے اور مایاوتی یا اکھلیش یادو نے اپنے اُمیدوار کھڑے تو کئے تھے لیکن وہ حکومت بنانے کے لئے نہیں بلکہ اپنی حیثیت بنانے کیلئے تھے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مسلمانوں نے عقل سے کام لیا اور کانگریس کی حکومت بنوادی۔ اب ان صوبوں میں کامیابی کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ مسلمان نے کانگریس کو معاف کردیا۔ مسٹر راہل گاندھی کی طرف مسلمان اُمید بھری نظروں سے اس لئے دیکھ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد راجیو گاندھی کی طرح ارون نہرو جیسے مسلم دشمن کو آستین میں نہیں پالا اور تینوں صوبوں میں کالے بال والوں کے ہوتے ہوئے سفید بال والوں کے تجربہ کو اہمیت دی۔

ایسے مسلمان بہت کم ہیں جو اتنی باریک نظر سے معاملات کو دیکھیں اس لئے ان کو اب ساری توجہ اترپردیش، بہار، بنگال اور تمل ناڈو میں دینا چاہئے۔ جہاں وہ پارٹیاں موجود ہیں جو بی جے پی کو ٹکر دے سکتی ہیں اور مخلص ہیں۔ ان کو کمزور کرنے کی غلطی نہ کریں بلکہ وہ جو بچپن میں ہم سب نے یہ کھیل کھیلا ہے کہ ایک لائن کھینچ کر کہاکہ اسے نہ مٹاؤ نہ کاٹو مگر چھوٹا کردو اور دوسرے نے ایک بڑی لائن برابر میں کھینچ کر اسے چھوٹا کردیا وہی کھیل کانگریس کو کھیلنا چاہئے کہ مدھیہ پردیش میں ویاپم گھوٹالے کی تحقیقات کا اعلان کرکے اس کا بھی اعلان کرنا چاہئے کہ وہ جو آٹھ نوجوان مسلمان سی می سے متعلق تھے اور ان کا مقدمہ بالکل کنارے آگیا تھا وہ جیل سے کیسے بھاگے انہیں نئے کپڑے کیسے اور کس نے دیئے اور ان کو پولیس نے کیسے مارا جسے انکاؤنٹر کہا گیا؟ یہ بات ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں کہ ان کا قصور صرف ایک پوسٹر تھا جس میں بابری مسجد بنی تھی اور کئی زبانوں میں لکھا تھا کہ

الٰہی بھیج دے محمود کوئی

وزیراعلیٰ کمل ناتھ ہائی کورٹ کے اس جج کو بھی بلائیں جس نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ الزام صحیح ہے کہ وہ جیل سے بھاگے تھے ان سے کہا جائے کہ وہ ان جیسے آٹھ لڑکوں کو ان دیواروں پر چڑھ کر بھاگتا ہوا دکھائیں۔

مسٹر راہل گاندھی کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ جن تین ریاستوں میں حکومت بدلی ہے وہ نظر بھی آنا چاہئے کہ بدل گئیں صرف وزیر اور سکریٹری تبدیل ہونے کا نام حکومت بدلنا نہیں ہے راجستھان ہی مسلمانوں نے بھرپور مدد کی ہے اور ان کے تعاون سے ہی حکومت بنی ہے۔ اور راجستھان میں وہ ریاست ہے کہ جہاں سب سے زیادہ بے قصور مسلمانوں کو صرف اس الزام میں پیٹ پیٹ کر مارا گیا ہے کہ وہ گائے لئے جارہے تھے۔ ان کی گائیں بھی چھینی ان کا روپیہ اور موبائل بھی چھینے اور ایسے ہر کیس میں پولیس بھی شریک ہے۔ اگر راجستھان میں مسلم دانشوروں نے آدرش تھانے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو ان چوکیوں کو اور ان راستوں کی بندشوں کو بھی ختم ہونا چاہئے جو گؤ رکشکوں نے یہ کہہ کر بنائے تھے کہ پولیس رشوت لے کر مسلمانوں کو چھوڑ دیتی ہے ہم انتظام خود کریں گے اور ہر اس واقعہ کی تحقیقات کرانا چاہئے اور جس جس تھانے کے پولیس والے وہاں تماشائی بنے رہے اور جو بھی ذمہ دار ہو سب سے ہر واقعہ کا حساب لینا چاہئے۔ مسلمانوں نے جان پر کھیل کر کانگریس کی حکومت اس لئے نہیں بنوائی ہے کہ وزیر بدل دیں بلکہ اگر اوپر سے نیچے تک سب کچھ نہ بدلا تو پھر حکومت کہاں بدلی اور بدلنے والوں کو کیا ملا؟

آنے والے الیکشن میں راہل گاندھی اترپردیش کے لئے پریشان ہیں بہار میں تو ان کا حق مل جائے گا لیکن بنگال میں خود ان کی پارٹی سی پی ایم کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ ان کے لئے اتنے کم وقت میں یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے کہ جو کوئی انہیں ان کی مرضی کے مطابق سیٹیں نہ دے وہاں ہر سیٹ پر لنگڑے لولے کھڑے کرکے ووٹ کاٹے جائیں اور بی جے پی کو کامیاب بنایا جائے۔ وہ ہر اس جگہ پوری طاقت سے لڑیں جہاں ان کا اور بی جے پی کا مقابلہ ہے اور کوشش کریں کہ ان کے ووٹ کاٹنے کیلئے کوئی نہ آئے اور جہاں وہ نہیں ہیں وہاں وہ ٹانگ نہ اَڑائیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ کانگریس کی عمر سب سے زیادہ ہے لیکن ارون نہرو کی وجہ سے راجیو گاندھی صاحب نے اور اپنی فطرت سے مجبور نرسمہا راؤ نے پارٹی کو اتنا کمزور کردیا کہ وہ اپنے بل پر ہر جگہ مقابلہ نہیں کرسکتی۔ لیکن اس کا ایک ہی علاج ہے کہ راہل بابا اپنی دادی اپنے باپ اور دوسرے لیڈروں کی طرح اس طعنہ سے ڈرنا چھوڑدیں کہ جب کوئی کام مسلمانوں کے فائدہ کا کرنے کا ارادہ کیا، آر ایس ایس نے گولہ داغا کہ مسلمان کی منھ بھرائی ہورہی ہے؟ اور کرنے والے نے ڈر کر ہاتھ کھینچ لیا۔ کانگریس کی سب سے مضبوط طاقت مسلمان تھے اسے کانگریس سے دور اسی خاندان نے کیا ہے اور صرف راہل گاندھی ہی اسے واپس لاسکتے ہیں بس وہ یہ دکھادیں کہ پندرہ سال کے بعد مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ بدل گئے اور پانچ سال کے بعد راجستھان بالکل بدل گیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ راہل گاندھی مسلمانوں کو گلے لگائیں اور کہیں کہ ’سب کا ساتھ۔ سب کا وکاس‘ مودی جی تو صرف کہتے ہی رہے اور ہم نے کرکے دکھا دیا ’سب کا ساتھ۔ سب کا وکاس‘۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close