سیاست

سرحدوں پر تناؤ ہے کیا؟

مدثر احمد

ملک میں ہند۔ پاک کے تنازعے کو لے کر خوب چرچہ ہے، عوام کی نظریں میڈیا پر ہے کہ کب کیا ہوگا تو دوسری جانب حکومت کی نظر ووٹوں پر ہے کہ کتنے ووٹ حاصل کرسکیں گے۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ و بی جے پی کے ریاستی صدر بی یس یڈویورپا نے تو کھلے عام قبول ہی کرلیا کہ کشمیر کے پلوامہ حملے اور پاکستان کی سرحد میں گھس کر ہونے والی ہندوستانی فوج کی کارروائی انہیں کرناٹک میں 22سیٹیوں پر کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک پائیگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی حکومت آنے والے پارلیمانی انتخابات کے مدنظرپاکستان پر حملے کرنے کا اعلان کررہی ہے ؟۔

پچھلے پانچ سالوں سے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی عوام کو صرف اعلانات کرتے ہوئے بیوقوف بنایا تھا۔ رام مندر کی تعمیر، گائو رکشا کے لئے قانون، کالے دھن کی واپسی، دائود ابراہیم کی گرفتاری، پاکستان کو ہندوستان کے سامنے جھکنے پر مجبور کرنا، ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے جو وعدے وزیر اعظم نریندر مودی نے کئے تھے ان تمام وعدوں کو تو وہ پورا نہیں کرپائے البتہ انہوںنے ملک کی عوام کو نوٹ بندی، مہنگائی، گھوٹالوں والی حکومت، گروہی تشدد کے ذریعے سے ملک کے اقلیتوں و دلتوں کا قتل عام ہوا۔ نہ رام مندر بنا نہ ہندو راشٹر بنا۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا۔ رافیل طیاروں کی خریداری میں رشوت خوری ہوئی۔ ادھانی و امبانی جیسے کارپوریٹ گھرانے آباد ہوئے۔ سرکاری کمپنیاں بی یس ین یل، وی آئی یس یل، ہیچ اے یل جیسی کمپنیاں تباہ ہوئیں۔ کھانے پینے سے لے کر بیت الخلائوں پر تک سوچھ بھارت کے نام ٹیکسوں کی اندھا دھن وصولی کی گئی۔

نریندر مودی نے اپنے غیر ملکی دوروں پر 5000 ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ رقم خرچ کی جسکے نتیجے میں ہندوستانی معیشت کو فائدہ تو نہیں ہوا البتہ ہندوستان کے کارپوریٹ گھرانوں کو خوب ٹھیکے ملے۔ تعلیم کا بھگواکرن کیا گیا۔ بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پکوڑے بیچنے کا مشورہ دیا گیا۔ رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام کو مشکلات میں ڈالا اور جب اس پر سوال اٹھے تو نالیوں سے بائیو گیس پیداکرنے کی صلاح دی گئی۔ ملک کی معیشت تباہ ہونے لگی۔ میڈیا کمپنیوں کو بی جے پی کی رکھیل بنالیا گیا۔ صحافیوں کو کٹ پتلیاں بنایا گیا۔ جس قدر بھی ہوسکے ملک کو تباہی کی راہ میں لے جایا گیا۔ نہ کشمیر کا مسئلہ حل ہوا نہ کاویر ی ندی کا مسئلہ حل کیا گیا۔ کیرل میں آنے والی تباہی پر مرکزی حکومت نے 700 کروڑ روپئے خرچ کیے تو گجرات میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے کے لئے یونیٹی اسٹیچو کے نام پر 3000 کروڑ روپئے صرف کئے۔ ان تمام ناکامیوں کو لے کر آخر وزیر اعظم نریندر مودی کیسے انتخابات میں جاسکتے ہیں۔

اب انہوںنے اپنی شطرنج کی چال کا ایک اہم مہرہ اپنایا۔ راجہ نے اپنے بچائو کے لئے پیادوں کو استعمال کرنا شروع کیا اور یہ پیادے ہماری فوج ہے۔ پہلے پلوامہ حملہ جس کے تعلق سے اب تک صاف نہیں کیا گیا کہ ان حملوں کا ذمہ دار کون ہے، کس کی نااہلی کی وجہ سے ملک کے 50 فوجی شہید ہوئے۔ اسکے فوری بعد سرجیکل اسٹرائک کرنے کا دعویٰ۔ پھر کچھ گھنٹوں بعد پاکستانی سرحد میں گھس کر پاکستان پر حملہ کرنے کا دعویٰ۔ اس پورے کھیل میں کوئی شہید ہورہاہے تو وہ ہے ملک کے فوجی۔ ہمارے اپنے فوجی، جنہیں سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی ہے انہیں فوجیوں کو الیکشن کا پمفلٹ بنا یا جارہاہے۔ شہیدوں کے خون سے بی جے پی حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کی تیاری کررہی ہے۔

ہاں یہ ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے لیکن ملک کی سلامتی کے نام پر جس طرح سے فوج کا استعمال کرتے ہوئے سیاست کی جارہی ہے وہ جمہوریت کے لئے داغ ہے۔ داغ اچھے لگتے ہیں لیکن مودی نے فوجیوں کے خون کے داغ کا استعمال جس طرح سے کیاہے اس سے ملک کی تاریخ پر ایک بدنماداغ بیٹھ رہاہے اور آنے والی نسلیں نریندر مودی کو شاید ہی کبھی معاف نہیں کرینگے۔

پچھلے پانچ سالوں میں ملک کے ہزاروں کسان اپنے مسائل کی وجہ سے خود کشی کرتے رہے اب ملک کے فوجیوں کو ایک طرح سے خود کشی کروائی جارہی ہے۔ اگر جنگ ہی سب مسائل کا حل ہوتا تو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں وہی ممالک آگے ہوتے جنہوںنے جنگیں کی تھیں، وہی ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہوتے جنہوںنے ان جنگوں میں حصہ لیا تھا لیکن آج وہ ممالک ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ہم ہندوستانی ہزاروں مسائل کا شکار ہوکر بھی حقیقی دشمن سے لڑنہیں پارہے ہیں۔ ہمارے دشمن تو بے روزگاری ہے، تعلیمی پسماندگی ہے۔ بھوک مری ہے۔ غربت و افلاس ہے۔ رشوت خوری ہے۔ بے ایمان سیاستدان ہیں۔ بے ایمان حکومتیں ہیں۔ صحت کے مسائل ہیں جب ان مسائل سے ہم جنگ جیت جائیں تو یقینی طورپر ملک کا کوئی دشمن نہیں ہوگا۔ ان سب باتوں کے بعد ہم اتنا ہی کہیں گے کہ الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے ہمیں دہشت گردوں کے حملے سہنے پڑرہے ہیں، ہمیں پڑوسی ملک دشمن دکھائی دے رہا ہے۔

بقول راحت اندوری

" سرحدوں پر تناؤ ہے کیا؟

ذرا پتہ لگا ئو چنائو ہے کیا ؟۔ "

اس شعر سے ہی عوام اندازہ لگالیں کہ ملک میں کیا ہورہاہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close