سیاست

سماج وادی پارٹی کا داغ داغ مسلم چہرہ

حفیظ نعمانی

کئی برس پرانی بات ہے جب اعظم خاں وزیر تھے انہوں نے ایک بیان میں بڑے درد کے ساتھ کہا تھا کہ میرے بیٹے نے کہا کہ آپ سب کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ہمارے لئے بھی اتنا تو کردیجئے کہ ہم ایک دُکان لے کر بیٹھ جائیں۔ اس وقت دل میں ان کی بڑی قدرہوئی تھی اور خیال ہوا تھا کہ اعظم خاں حضرت عمر فاروقؓ کی سُنت پر عمل کررہے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی سے مایوس ہوکر بزرگ مہاجر و انصار صحابۂ کرام کو بلاکر فرمایا کہ آپ لوگ بنو ساعدہ کی ثقیفہ (بنو ساعدہ کی چوپال) میں جمع ہوکر اپنے خلیفہ کا انتخاب کرلیجئے۔ اور فرمایا کہ دیکھو جن ناموں پر بھی غور کرو ان میں میرے بیٹے کا نام نہ ہو۔

اعظم خاں کے بارے میں 2017 ء کے الیکشن کے بعد سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم جو اسمبلی کا الیکشن جیتے ہیں وہ 25 سال یا اس سے زیادہ کے نہیں ہیں۔ ابتدا میں جب یہ خبر آئی تو ہم نے اسے انتخابی ہارجیت کا الزام سمجھا جو اکثر یا تو پٹیشن دائر کرکے دل کی بھڑاس نکالی جاتی ہے یا بدنام کرکے۔ اس الیکشن میں ان کا مقابلہ نواب رامپور کے پوتے یعنی لکی میاں کے بیٹے نوید میاں سے تھا اعظم خاں صاحب نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں نہ جانے کیوں نواب خاندان سے دل کی بھڑاس نکالی۔ ہم رامپور سے خو ب واقف ہیں لیکن نواب گھرانے کے علاوہ تو ہر گھر سے واقف وہی ہوسکتا ہے جو رامپور میں رہتا ہو۔ اعظم خاں صاحب نے ہر ممکن کوشش کرلی کہ عوام کے دلوں سے نواب رام پور کی عظمت نکل جائے لیکن سیکڑوں برس کی عظمت کا ثبوت یہ ہے کہ چند روز پہلے ایک ڈبہ جس میں گھی کوار کا حلوہ تھا میرے پاس آیا جس پر سب سے موٹا موٹا لکھا تھا ’’نواب آف رام پور کی پسندیدہ دُکان‘‘ اور کرامت بھائی سوہن حلوے والے اس کے مقابلہ میں باریک تھا جبکہ ریاست کو ختم ہوئے 70 برس ہوگئے اور نواب صاحب کے انتقال کو بھی 50 کے قریب ہوگئے ہوں گے۔

نواب خاندان نے پانی زندگی کیسے گذاری اور ان کی محبت کتنی عام تھی اس کا اندازہ 1967 ء میں اس وقت بھی ہوا تھا کہ جب اندراجی نے مسلم مجلس کے لئے تین سیٹیں چھوڑ دی تھیں جن میں ایک رام پور بھی تھی وہاں سے قائد ملت کہے جانے والے ڈاکٹر فریدی صاحب امیدوار تھے لیکن انہوں نے اندراجی سے یہ شرط رکھ کہ لکی میاں آزاد بھی نہ لڑیں جس کے جواب میں اندراجی نے کہا کہ میں صرف اتنا کرسکتی ہوں کہ ان کو ٹکٹ نہ دوں۔ اس سے آگے کوئی حکم کیسے دے سکتی ہوں اور اعظم خاں کو یاد ہوگا کہ جس مسلم مجلس کا مسلمانوں میں طوفان اٹھا ہوا تھا اس کے قائد لڑنے کی ہمت نہ کرسکے۔

بات شروع کی تھی عبداللہ اعظم کے بارے میں دو برس تک اعظم خاں کے مخالف سر سے زمین کھودتے رہے اور انہوں نے ثابت کردیا کہ ان کی پیدائش رام پور کی ہے جس کے حساب سے وہ الیکشن کے وقت 25 سال سے چند مہینے کم تھے۔ خاں صاحب نے لکھنؤ کے ایک سرکاری اسپتال سے دوسری پیدائش کا سر ٹیفکیٹ لے لیا اور اس کو ہی بنیاد بناکر انہوں نے پاسپورٹ بھی بنوالیا۔ اور جب یہ سارے معاملات ثبوت کے ساتھ ہاتھ آگئے تو ان کے ان کی بیگم کے اور بیٹے کے خلاف ایف آئی آر داخل ہوگئی۔

ہم نے جہاں سے بات شروع کی تھی ایک چہرہ وہ تھا اور اب جہاں ختم کررہے ہیں ایک چہرہ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو یا تو دُکان بھر زمین مانگتا ہوا دکھا رہے تھے یا اب اسے اسمبلی کا ممبر اور بعد میں وزیر بنانے کی تیاری میں جو کسر تھی اسے 420 یعنی فریب جھوٹ اور ایک کابینی وزیر ہونے کی وجہ سے سرکاری اسپتال سے فرضی برتھ سر ٹیفکیٹ کی فراہمی کیا دونوں باتوں میں کوئی مناسبت ہے؟ خاں صاحب نے تو جب جوہر یونیورسٹی بنائی تھی اسی وقت اعلان کردیا تھا کہ تاحیات چانسلر وہی رہیں گے جبکہ یہ بات عوام کہتے تو ٹھیک تھا پھر ان پر الزام لگے کہ وقف کی زمین گرام پنچایت کی زمین اور جو بھی لے سکے اس پر قبضہ کرلیا۔ اور کنبہ نوازی کی انتہا ہے کہ بیگم جو ایک ڈگری کالج سے ریٹائر ہوئی ہیں اور بہت معقول پنشن پارہی ہیں ان کو ملائم سنگھ کی دوستی کی وجہ سے راجیہ سبھا کا ممبر بھی بنوا دیا اور اب ایک محترم سابق ٹیچر اور ایک پارلیمنٹ کے ممبر پر یہ الزام ہے کہ بیٹے کو قبل از وقت بالغ بنانے کیلئے دھوکہ فریب کذب بیانی اور دروغ حلفی کے بھی مرتکب ہوگئے۔ اور اس کے بعد بھی یہ تیور اور یہ خواہش کہ رام پور والے انہیں نواب رام پور سے زیادہ محبت دیں اور زیادہ احترام کریں۔

سیکڑوں ہندوؤں کے درمیان اگر ایک مسلم چہرہ ہو تو صرف ایک فرد کی یا ایک خاندان کی نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی، ان کے مذہب کی، ان کی پندرہ سو سالہ تاریخ کی، ان کے ان بزرگوں کی جن کے مزارات پر لاکھوں غیرمسلم جھولی پھیلاکر جاتے ہیں، ان کے ان اداروں کی جہاں اس دین کو پڑھایا جاتا ہے جس کے علاوہ کوئی دین سچا نہیں سب کی نمائندگی کی ذمہ داری ہے مکر و فریب، جھوٹ، جعل سازی اور عیاری کی گندگی میں اس مسلمان کے ہاتھ بھی رنگے ہیں تو ایک راجہ بھیا اور ایک ۔۔۔ خان میں کیا فرق ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close