سیاست

سنگھ پریوار دستورِ ہند کو کیوں بدلنا چاہتا ہے؟

عبدالعزیز

 یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سنگھ پریوار کے سارے لوگ اوپر سے نیچے تک دستور ہند اور آزادی (Freedome) کے مخالف ہیں۔ جب وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں تو بغیر کسی جھجک اور پس و پیش کے دستور ہند میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ سیکولرزم تو ان کیلئے زہر ہلاہل سے کم نہیں۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ سیکولرزم کے لفظ کا اس قدر ’دُر اُپیوگ‘ (غلط استعمال) ہوا ہے کہ اسے بدل دینا چاہئے۔ جب اٹل بہاری واجپئی کی حکومت مرکز میں تھی تو دستور پر نظر ثانی کیلئے ایک کمیٹی کی تشکیل دی گئی تھی کہ اس میں کیا ترمیم و اضافہ ہوسکتا ہے لیکن یہ کمیٹی کسی نتیجہ پر پہنچنے سے قاصر رہی۔ اس وقت بی جے پی حکومت کے وزیر مملکت مسٹر اننت کمار ہیگڑے نے کرناٹک میں برہمن فرقہ کے جوانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج بھاجپا کی حکومت اسی لئے آئی ہے کہ وہ آئین میں تبدیلی کرے۔انھوںنے کہا کہ سیکولر لوگوں کے ماں باپ کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔ سیکولرزم لفظ کو دستور سے ہٹا دینا چاہئے‘‘۔ کانگریس کی طرف سے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں ہیگڑے کے بیان کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ آج (28دسمبر) دہلی میں گاندھی جی کی مورتی کے سامنے کانگریس کے سبھی بڑے لیڈران ہیگڑے کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے شخص کو قوم و ملک سے معافی مانگنا چاہئے یا اسے وزارت کی کونسل سے ہٹا دینا چاہئے۔

 اننت کمار ہیگڑے بھاجپا کے بگڑے نواب (fringe element) ہیں وہ وزیر مملکت سے پہلے یوگی کی طرح بیان بازی میں مشہور تھے۔ ان کو ان کی بے محابہ یا الٹ پلٹ بیان دینے کا یہ انعام دیا گیا کہ انھیں وزیر مملکت بنا دیا گیا۔ بی جے پی حکومت میں تین ساڑھے تین سال سے یہی دیکھنے کومل رہا ہے کہ جو بدمعاشی یا فتنہ انگیزی میں نام پیدا کرتا ہے اسے انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے۔ مظفر نگر کے نامی گرامی فسادیوں کو نریندر مودی نے پھولوں کا ہار پہنایا تھا اور ان سب کو لوک سبھا کے الیکشن کے ٹکٹ سے نوازا تھا۔ ان میں سے ایک دو کو مرکزی وزارت میں شامل بھی کیا ۔ ان میں ایک صاحب ڈاکٹر مہیش شرما ہیں جنھیں کلچرل منسٹر بنایا گیا جو اکثر بے شرمی اور ڈھٹائی کی باتیں کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔

  نریندر مودی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ دستور ہند ہندستانیوں کی سب سے مقدس کتاب ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر کا بھی اکثر و بیشتر دستور ہند کی ترتیب و تحریر کرنے پر تعریفی کلمات کا اظہار بھی کیا ہے مگر یہ سب باتیں محض دکھاوے کی ہیں۔ دل میں وہی ہے جو اننت کمار ہیگڑے کی زبان پر ہے۔ گجرات میں اسمبلی الیکشن کے دوران انھوں نے منی شنکر ایئر کی عشائیہ میں پاکستانی سفیر کے ساتھ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ، سابق نائب صدر جمہوریہ ہند حامد انصاری اور ہندستان کے سابق فوجی سربراہ کی شرکت کو نہ صرف ہندستان کے خلاف سازش قرار دیا بلکہ کہاکہ یہ لوگ گجرات میں احمد پٹیل کو وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھانا چاہتے ہیں۔ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں جب وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی کو چلنے نہیں دیا گیا تو بالآخر مسٹر ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد سے مل کر مفاہمت اور مصالحت کی اور راجیہ سبھا میں یہ بیان دیا کہ نہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی شخصیت پر سوال اٹھایا اور نہ حامد انصاری کی شخصیت پر کسی شک و شبہ کا اظہار کیا۔ صدر کانگریس راہل گاندھی نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے جو قابل لحاظ ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے ٹوئیٹر پر کہا ہے کہ

          Later, Rahul tweeted: "Dear Mr Jaitlie (sic) – thank you for reminding India that our PM never means what he says or says what he means.”

 (’’پیارے مسٹر جیٹلی آپ کا شکریہ! آپ نے ہندستانیوں کو ہمارے وزیر اعظم کے بارے میں (اچھی طرح سے) بتا دیا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کا مطلب وہ نہیں ہوتا اور نہ موصوف وہ مطلب و معنی لیتے ہیں جو کچھ کہتے ہیں‘‘۔)

  اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ منموہن سنگھ اور حامد انصاری کو غدارِ وطن کہہ رہے تھے مگر اس کا مطلب وفادارِ ملک تھا۔ نریندر مودی کے قول و فعل میں اس قدر تضاد ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ ملک کے دستور کو ’مقدس‘ کہتے ہیں تو اس کا مطلب بالکل الٹا ہوتا ہے کہ دستور بالکل بے کار اور بے معنی ہے اور جب وہ ڈاکٹر امبیڈکر کی تعریف کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک کو بڑا اچھا دستور دیا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انھوں نے بیکار قسم کا دستور ملک کو دیا ہے جو آر ایس ایس اور بی جے پی کیلئے بے معنی اور بیکار ہے۔ اسی طرح جب وہ یہ فرماتے ہیں کہ گئو رکھشک سماج دشمن عناصر ہیں ان کے غنڈہ گردی ناقابل برداشت ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ گئو رکھشک پُن کام (اچھا کام ) کر رہے ہیں۔ ان کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ نریندر مودی نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کی تھیں کہ ملک اور ملک کے عوام کو بڑا فائدہ ہوگا۔ آگے چل کر ملک ترقی کرے گا مگر عوام نے اس کا معنی وہی سمجھا جو مودی جی کہہ رہے تھے مگر اس کا معنی لوگوں کی سمجھ میں آج آرہا ہے کہ ملک کو نقصان ہوگا، لوگ پریشان حال ہوں گے۔

 ملک کے دستور میں شہریوں کے بنیادی حقوق، مساوات اور آزادی کی بات کہی گئی ہے اور دستور کی یہی بنیادی چیز ہے جو سنگھ پریوار کو راس نہیں آرہا ہے۔ آر ایس ایس اور ان کے لوگ دستور بدلے بغیر ملک میں ہندو راشٹر (ہندوؤں کی حکومت) قائم نہیں کرسکیں گے۔ دستور ہند ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ راستہ کی اس رکاوٹ کو وہ دور کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھاجپا سرکار کے ہیگڑے جیسے حاشیہ بردار ملک و قوم کو صاف صاف بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کو مقصد ہے کہ دستور ہند کو ختم کرکے نیا دستور گرو گولوالکر، ویر ساورکر اور دین دیال اپادھیائے کے نظریات و خیالات پر مبنی آئین بنایا جائے۔ یہ سنگھ پریوار کا ایسا خواب ہے جسے شرمندہ تعبیر دیکھنا چاہتے ہیں۔

2019ء کے لوک سبھا الیکشن کی ان کی زبردست تیاری ہے کہ دونوں ایوانوں میں اتنے ممبران ہوجائیں کہ وہ آسانی سے دستور تبدیل کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی لوک سبھا اور اسمبلیوں کا الیکشن بھی ایک ساتھ کرانا چاہتے ہیں تاکہ راجیہ سبھا میں بھی ان کی اکثریت رہے اور لوک سبھا میں بھی وہ بھاری اکثریت سے آجائیں۔ گجرات کے الیکشن کے نتائج سے اب بھاجپا کے زوال کی شروعات ہوچکی ہے۔ 2018ء میں ملک کی چار پانچ ریاستوں کا انتخاب ہونے والا ہے۔ امید ہے ملک کے عوام و خواص بی جے پی کو ان ریاستوں میں کراری شکست دیں گے اور پھر 2019ء میں ان کا اقتدار میں آنے کا خواب چکنا چور ہوجائے گا۔ ضرورت ہے کہ ساری طاقتیں جو ان کی چال کو سمجھ چکی ہیں وہ منظم و متحد ہوکر ابھی سے سرگرمی اور مستعدی کے ساتھ کام کریں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close