سیاستہندوستان

سنگھ پریوار کے عزئم یا مونگیری لال کے سپنے!

عالم نقوی

ہمارے دوست رفیع خان نیازی (ممبئی ) کے ہاتھ ایک کتابچہ لگا ہے جس کے دو صفحات انہوں نے وہاٹس ایپ پر شئیر کیے ہیں۔  اس میں سنگھ پریوار کے جن  دلی و دیرینہ عزائم کا ذکر ہے وہ موجودہ سخت اور ناگفتہ بہ حالات کے باوجود ،ہمارے نزدیک مونگیری لال کے سپنوں سے زیادہ کی  حیثیت نہیں رکھتے۔ آخری صفحے کے اختتام پر لکھا ہے :

’’نوٹ : یہ پوری طرح خفیہ (پورنتا گوپنیہ)دستاویز ہے۔ کسی بھی حالت میں درج فہرست ذاتوں۔ قبائل، دیگر پسماندہ طبقوں، او بی سی یا ہندو دھرم کے ورودھ میں کام کرنے والے کسی شخص کے ہاتھوں میں نہیں لگنا چاہیے۔ مدرک (ناشر) اکھل بھارتیہ ہندو پرچار سنگھ۔ وارانسی۔ ‘‘اس کے صفحات چودہ اور پندرہ کی عبارت درج ذیل ہے :

’’23۔ آج سے لگ بھگ دو ہزار سال قبل دنیا میں بودھ دھرم بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمارے پوروج آدی شنکر آچاریہ نے گیتا میں ایک اشلوک۔ ۔ یدا یدا ہی دھر مسیہ۔ ۔ شامل کرایا گیا جس کے معنی ہیں کہ جب جب ہندو دھرم کو کوئی نقصان پہنچائےگا میں آدی شنکر آچاریہ اس دھرم یا ’ویکتی ‘(فرد ،شخص )کو ختم کرنے کے لیے ہر زمانے میں جنم لوں گا۔  آج پھر وقت آگیا ہے کہ ادھرمی امبیدکر ،پاسوان ،مایا وتی۔ ۔ ۔ کے کارن بودھ دھرم دوبارہ زندہ ہو گیا ہےہمیں پھر اس دھرم کے اثرات کو دور بینی کے ساتھ ختم کرنا ہوگا وہ ’کوٹ نیتی ‘(حکمت عملی ) اپنانی ہوگی جو ہم نے مسلمانوں کو کھدیڑنے کے لیے (اختیار کی ہے کہ ) جس پرکار (ہم نے ) بابری مسجد گرائی ،سکھوں کو کنٹرول کرنے کے لیے (انہیں ) آتنک وادی گھوشت کر کے ہم نے گھر گھر میں ان کا قتل عام کروایا۔  اب ہمارا ایک ہی اُدّیشیہ (نصب ا لعین ) ہے۔ ۔ امبیدکر کے دستور کو پوری طرح نشٹ کر کے دیش میں لوک تنر کے استھان پر رام راجیہ کی استھاپناکرنا ،بھارت کو ہندو راشٹر گھوشت کرنا، سنسکرت کو راشٹر بھاشا بنانا تتھا منو اسمرتی کے آدھار پر دستور کی نئی رچنا کرنا ،(اور )سنسد میں امبیدکر کی مورتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے استھان پر منو کی وشال پرتیما استھاپت کرنا ۔ ۔ 24۔

کچھ ادھرمی نیتا دھرم  پریورتن کے نام پر  ہندو دھرم کو توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ ہم نے اس سمسیا کو بھاجپا منتری منڈل میں اٹھایا  تو انہوں نے ہمیں یقین دلایا کہ وہ پارلیمنٹ میں جلد ہی دھرم پریورتن کے (خلاف ) ایک بل لائیں گے اور ملک میں تبدیلی مذہب پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگادی جائے گی اور اس نئے مسودہ قانون میں یہ پیرا بھی شامل کیا گیا ہے کہ اب نئی مسجدوں ،گرجا گھروں ،بودھ وہاروں اور گر دواروں کی تعمیر کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت لینی ہوگی۔  25۔ ہماری آخری کوشش یہ ہو گی کہ اب ملک میں درج فہرست ذات و قبائل ،پسماندہ طبقوں اور او بی سی کے فلاح و ترقی کی اسکیموں کو ختم کرکے ہندو آستھا کے مطابق بے زبان جانوروں کے اعلی رہن سہن ،رکھ رکھاؤ اور تحفظ کے لیے زیادہ کوششیں کی جائیں ! اس کام کو پورا کرنے کا بیڑا مینکا گاندھی نے اٹھایا ہوا ہے۔  مینکا گاندھی نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ مسلمانوں کے ’مکھیہ ویاپار ‘ گوشت کی فروخت پر پوری طرح پابندی لگا دی جائے گی اور  بھارت کو شاکاہاری دیش بنایا جائے گا کیونکہ مانساہاری(گوشت خور ) لوگ ’اَدَھرمی‘ ہوتے ہیں اور ہندو دھرم کا وِرُودھ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ہندو کٹٹر پنتھیوں سے انورودھ ہے کہ دیش میں جگہ جگہ گو شالاؤں کی تعمیر کے لیے اپنی تجاویز ارسال کریں۔ ۔ ‘‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگھ پریوار نے پچھلے سو برسوں میں قابل ذکر  کامیابی حاصل کی ہے لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپوں ،نریندر مودیوں ،نیتن یا ہوؤں  جیسے فرعونوں اور اڈانیوں  نیز امبانیوں جیسے ملکی و غیر ملکی قارونوں کی  ظاہری بالادستی  اور مظالم کی عالمگیریت کے باوجود دنیا ظلم ،تعصب اور نسل پرستی کی طرف نہیں  سماجی انصاف اور حقوق انسانی کی بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے ! اردو زبان کا یہ شعر کسی نام نہاد ادب عالیہ کا ترجمان بھلے ہی نہ ہو لیکن ایک آفاقی سچائی کا مظہر ضرور ہے کہ ؛۔۔ ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں۔ ۔ ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیں !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close