سیاست

سوامی، شنکر اور ائیر:  ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو؟

ڈاکٹر سلیم خان

سبرامنیم سوامی کا شمار ہندوستان کے سب سے زیادہ تعلیم یافتہ سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کی ولادت  ایک  اعلیٰ سرکاری ملازم کے گھر میں ہوئی  اوروہ  خود بھی شعبۂ شمارانیات کے ڈائرکٹر بن گئے۔ اس کے بعد انہیں راکفیلر اسکالرشپ ملی اور انہوں نے  ہارورڈ یونیورسٹی میں نوبل انعام یافتہ  ماہر معاشیات سائمن یاکزنیٹس کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادیات کی  ملازمت چھوڑ کر انہوں نے ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی میں شامل ہوکر سیاست کے میدان   قدم رکھا۔ چندرشیکھر نے انہیں وزیر بھی بنایا اور ایک طویل عرصہ تک  جنتا پارٹی میں رہ کر سیکولرزم کا راگ الاپنے کے بعدبی جے پی میں چلے گئے۔ ان کا گھر سیکولر زم کی انوکھی مثال ہے۔ پارسی بیوی اور دو میں سے ایک  دامادمسلمان اور دوسرا یہودی ہے لیکن فی الحال وہ پوری  طرح پاگل ہوچکے ہیں اور ان کو فی الحال  نفسیاتی علاج کی بہت سخت ضرورت ہے۔ ان کا پاگل پن انہیں سنگھ پریوار میں لے کر گیا یا وہاں جانے کے بعد ان کا دماغ چل گیا  یہ تحقیق کا موضوع ہے۔

اس موضوع پر تحقیق  کرنے  کا کام سنگھ پریوار کی جانب سے   ملک بھر میں گایوں کے تحفظ  اور اس کی خدمت کی نگرانی کرنے والے شعبے کے حوالے کردیا جانا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے سربراہ  اور سنگھ کے سینئر پرچارک شنکر لال نے  فی الحال مضحکہ خیز بیان سے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے  اور آرایس ایس کا نام روشن کردیا ہے۔ امید ہے  گئوماتا کی خدمت میں اپنی زندگی وقف کردینے شنکر  لال گائے کے چہیتے بیٹے سبرامنیم سوامی کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالیں ۔ اس عظیم سائنسداں نے انکشاف کیا ہے بھینس اور جرسی (بیرونی نسل کی) گائے کا دودھ پینے کی وجہ سے نوجوانوں میں جرائم کی عادت بڑھ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے سوامی جی کے گھر میں مدر ڈیری سے جو دودھ آتا ہے وہ غیرملکی گائے یا بھینس کا ہے  ورنہ بی جے پی میں شامل ہونے سے قبل  جب وہ خالص ہندوستانی گائے کا دودھ پیتے تو خاصے شریف آدمی تھے۔

ماہر مویشیات شنکرلال سنگھ بڑی عرق ریزی اور محنت  کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں ۔ ان کے مطابق  غیر ملکی  جانوروں کا دودھ تامسی (برے) اثرات پیدا کرنے والا ہوتا ہے جس سے اشتعال اور شدید غیظ کے عنصر میں اضافہ ہوتا ہے  جبکہ دیسی گائے کا دودھ ساتوک ہے جو سکون فراہم کرتا ہے  تو جرائم میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس بیان کا ایک پہلو تو یہ ہے سنگھ پریوار سے متاثر ہو کر قتل و غارتگری کرنے والوں کے لیے وہ ذمہ دار نہیں ہے بلکہ جرسی گائے کا دودھ کے سبب یہ ہوا ہے۔ کاس گنج میں ترنگا ریلی کے اندر پستول لے کر آنے والے بھینس کا دودھ پی کر آئے تھے۔ شنکر لال کا بیان دراصل اپنے بیٹے کی بدمعاشی کے لیے پڑوس کی بھابی کو موردِ الزام ٹھہرانے جیسا ہے۔

 اتر پردیش میں فی الحال دو طرح کے افسران کا بول بالا ہے ایک تو گئو رکشک یوگی جی کے اشارے پر  انکاونٹر کرنے میں مصروف ہیں جس کی تازہ مثال  وجئے درشن شرما ہے جس نے نوئیڈا میں   جیتندر یادو پر گولی چلادی شنکرلال کے مطابق وہ اورقریب کے زمانے میں  تقریباً  ایک ہزار انکانٹر میں ملوث  پولس افسر جرسی گائے کا دودھ پیتے ہوں گے اس لیے قوم انسانی حقوق کے کمیشن کو بھینس کا دودھ بیچنے والوں کو بھی  نوٹس دینا چاہیے۔  اسی  کاس گنج کے فساد پر حق گوئی  کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری افسران   پی کے پانڈے، رشمی ورون  اور دیگر انصاف پسند حضرات نادانستہ دیسی گائے کا دودھ نوش فرماتے ہیں ۔  اس تحقیق کا اولین تقاضہ ہے کہ  سنگھ پریوار کے سارے لوگوں پر دیسی گائے کا دودھ لازمی قرار دے دیا جائے اس لیے کہ ملک بھر میں پھلنے پھولنے والی درندگی میں سب سے بڑا حصہ انہیں لوگوں کا ہے۔ سنگھ کے پرچارک شنکر لال کا دعویٰ ہے کہ گائے کے ذریعہ جرائم سے پاک ہندوستان کا تصور کیا جا سکتا ہے۔

 آج کل ہند پاک  سرحد پر حالات کشیدہ ہیں اور آئے دن دونوں طرف کے فوجی ہلاک ہوتے رہتے ہیں  اس لیے ضروری ہے دونوں جانب کے فوجیوں کو مفت میں تازہ گائے کا دودھ فراہم کیا جائے تاکہ ہندپاک تعلقات درست ہوجائیں ۔ ویسے یہ افسوسناک خبر گزشتہ دنوں اخبارا ت کی زینت بنی کہ فوج نے اپنے گائے کے طبیلے  بند کرکے فوجیوں کو تھیلی کا دودھ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے ایسے میں یہ پتہ لگانا کہ دودھ کس مویشی کا ہے اور وہ گائے بھی ہے تو جرسی ہے یا دیسی ہے ایک مشکل کام ہے۔ کاش کے یہ تحقیق چند ماہ قبل شائع ہوتی اور حکومت وہ فیصلہ نہیں کرتی ویسے جیٹلی جی جس  طرح آئے دن اپنے فیصلے ازخود بدل دیتے ہیں  وزیردفاع  نرملا سیتا رامن  اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہیں اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہاں سشما سوراج اپنی آپسی رقابت کو بالائے طاق رکھ کر ان کا تعاون کرسکتی ہیں ۔ اس لیے اس تحقیق کے لیے سنگھ پرچارک نے  ہندوستانی گائے کے پیٹ  چیر کر دیکھا کہ اس میں چار چیمبر ہوتے ہیں جبکہ بیرونی گائے میں صرف  تین۔ اس چوتھے چیمبر میں دیسی گائے جو مضر اشیاء کھا لیتی ہے اس کی  ساری کثافت جمع  ہوجاتی ہے لیکن جرسی گائے یہ نہیں کرپاتی اس لیے نادانستہ سارا زہر دودھ میں آجاتا۔ اس کے لیے  بیچاری جرسی گائے یا بھینس قصوروار  نہیں ہے۔

شنکر لال جی ماہر مویشیات ہونے کے ساتھ ماحولیات کے بھی ماہر ہیں۔  انہوں نے گھوشنا کی کہ گائے آلودگی ہٹانے میں بھی تعاون کرتی ہے۔ ایک گرام گھی کا دیا جلانے سے ۱۰۰ کلو آکسیجن تیار ہوتی ہے اور تلسی کے آگے اگر دیا جلایا جائے تو اوزون تیار ہو جاتی ہے۔ اول دیا جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے آکسیجن کا تیار ہوجانا کوئی کم چمتکار نہیں تھا اوپر سے ایک گرام اور ۱۰۰ کلو کے اعداد بھی طلسمی ہیں ۔ اب تو شنکر لال ہی بتا سکیں انہوں ن ۱۰۰ کلو گیس  وزن کرنے کے لیے کون سا ترازو استعمال کیا اور انہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ وہ کاربنڈائی آکسائیڈ نہیں آکسیجن  ہے۔ جہاں تک  گمراہ سائنس دانوں کا خیال  ہے کہ گائے اور بھینس جیسے جانوروں سےمیتھین گیس کا اخراج ہوتا ہے، جو فضائی  آلودگی میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

شنکر لال جی ان سائنسی حقائق  کو یکسر مستر د کرتے ہیں  ان کی معالجاتی مہارت  کے مطابق کسی فرد کو سانس لینے تکلیف ہوتو اس کے سامنے گائے کے گھی کا دیا چلا دیا جائے اور اگر موبائیل فون کی بیٹری ڈسچارج ہوگئی ہو اس کو گوبر سے قریب کردیا جائے وہ ازخود توانائی جذب کرکے چل پڑے گا یہاں تک کہ اپنے آپ کو فون کی مضر ریڈیائی شعاوں سے بچانے کے لیے وہ اس پر گائے کا گوبر لگاتے ہیں اور حاملہ خواتین کو گوبر اور گئوموتر کا لیپ لگانے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ آپریشن کی ضرورت نہ پڑے۔   شنکر لال جی عقیدت بھری نگاہوں میں دیسی گائے خوبصورت اور پتلی جلد  والی ہوتی ہیں جبکہ بیرونی گائے موٹی جلد والی اور بدصورت ہوتی ہیں ۔ کوئی بعید نہیں کہ آگے چل کر سنگھ پریوار  عالمی سطح پر گایوں کامقابلۂ حسن منعقد کرے اور اس میں گئوماتا کو   اپنے حسن و جمال سے ساری دنیا میں بھارت ماتا  کا نام روشن کرنے کا سوبھاگیہ پراپت ہو۔

ماہر معاشیات سبرامنیم سوامی نے بجٹ اجلاس میں ایوان ِ پارلیمان  کے اندر’گئو رکشا بل ۲۰۱۷‘ کاپیش کرکے ماہر مویشیات شنکر لال کو شرمندہ کردیا۔   سبرامنیم سوامی نے راجیہ سبھا میں پرائیویٹ ممبر بل کے تحت ’گئو رکشا بل ۲۰۱۷‘ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مغل دور میں بہادر شاہ ظفر نے گئوکشی پر پابندی عائد کی تھی لیکن برطانوی حکومت میں گئوکشی کا عمل تیزی کے ساتھ بڑھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جدید سائنس میں گائے کے پیشاب کا استعمال دوا بنانے میں ہوتا ہے اور امریکہ نے اس کے لیے پیٹنٹ بھی حاصل کر لیا ہے جب کہ ہمارے رِشی منی نے ہزاروں سال پہلے اس کی تصدیق کرچکے ہیں ۔ بل سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے سبرامنیم سوامی نے ایوان بالا میں کہا ہمیں ہر گاؤں میں گئوشالہ تعمیر کرنی چاہیے اور چونکہ گائے کا گوشت کثیر مقدار میں بیرون ممالک برآمد کیا جاتا ہے اس لیے اس کاروبار میں شامل لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیےنیز قصورواروں کے لیے پھانسی کی سزا طے کرنے کا مطالبہ کیا۔

سوامی جی نےیہ  دعویٰ تو کر دیا کہ  گائے کے گوشت کی بڑے پیمانے پر برآمد ہوتی ہے لیکن  بھول گئے فی الحال ہندوستان میں گئورکشا کا دم بھرنے والی ہندوتواوادی حکومت برسرِ اقتدار ہے۔ وہ  بذاتِ خود اس کا حصہ ہیں ۔ سرکار  کی توثیق و تعاون  کے بغیر گوشت کی برآمد ناممکن ہے۔ سوامی جی نے گائے کی محبت میں خود اپنی حکومت پر گائے کا گوشت برآمد کرنے الزام لگا دیا اور  گائے ماتا کے حق  میں اسے بہادر شاہ سے زیادہ ظالم و سفاک ثابت کردیا ۔ بہادر شاہ   ظفرتو ہندوستانیوں کو بھی گائے کا گوشت کھانے کی اجازت نہیں دیتا تھا جبکہ سوامی کے بقول  یہ بزدل سنگھ  پریوار ساری دنیا کو گائے کا گوشت کھلا رہاہے۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ زعفرانی خاندان مغلیہ سلطنت  کا دشمن اور انگریزوں کا دوست کیوں ہے؟

ایوان بالا میں سی پی آئی کے رکن  پارلیمان ڈی راجہ نے اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے گائے کوسیاسی ہتھیار کی شکل میں استعمال  پر اعتراض کیا۔ انہوں نے گائے کے نام پر سماج میں پھیلائی جا نے والی نفرت اور قتل و غارتگری کی بھی مذمت کرتے ہوئے  پچھلے کچھ مہینوں میں گئوکشی کے نام پر دلتوں اورمسلمانوں  پرتشدد بھیڑ کے حملوں  کا ذکر کیا۔ ڈی راجہ نے حکومت کو دھرم سنکٹ میں ڈالنے کے لیے سوال کیا کہ  وہ   اپنا موقف واضح کرے اور بتائے کہ سوامی کے بل سے اتفاق کرتی ہے یا نہیں ؟  راجہ نے سبرامنیم سوامی کو مہاتما گاندھی کا نام لے کر گائے کے نام پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا اور متنبہ کیا کہ اگر یہ بل پاس ہو جائے  تو ملک کو زبردست مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 کانگریس کے آنند بھاسکر نے سبرامنیم سوامی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں گائے کی صحت پر دھیان ضرور دینا چاہیے لیکن گائے کو سیاسی جانور نہیں بنانا چاہیے۔ ‘‘ سماجوادی پارٹی کے جاوید علی خان نے کہا کہ ’’گائے اس قدر فائدہ مند ہے کہ اسے جانور نہیں انسان کہا جانا چاہیے۔ ‘‘ جاوید علی کو شاید نہیں معلوم کہ اس بار بجٹ میں جہاں اقلیتوں ، دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کے لیے مختص شدہ رقوم میں کمی آئی ہے  گائے کے لیے آدھار جیسا شناختی کارڈ جاری کرنے کے لیے روپیہ مہیا کردیا گیا ہے۔ اس سے تو ایسا لگتا آگے چل کر ان کے لیے  ووٹ  کارڈ بھی   نکلے گا اور ظاہر ہے کہ ساری گائیں  الیکشن میں اپنے زعفرانی بیٹوں کی  ہی حمایت کریں گی۔

سنگھ کے  ناخلف  بیٹے خود اپنے لیے تو مہنگا مگر ماتا جی کے لیے سستا کارڈ بنوائیں گے جس کی قیمت ۸ تا ۱۰ روپئے ہوگی۔ اس کام کے کے لیے جیٹلی جی کے بجٹ میں ۵۰ کروڈ روپیوں کا بندوبست ہے۔ ایک طرف تو گائے ماتا کا درجہ دینا اور پھر ان کو۲۰۰ کروڈ روپئے خرچ کرکے بہتر نسل اور ۲۰ فیصد اضافی دودھ کا ہدف طے کرکے کے لیے  مصنوعی طریقہ سے حاملہ کرنا یہ سب عجیب نہیں لگتا؟  ایک ایسے ملک میں جہاں آدھار کارڈ کی عدم موجودگی میں ایک بچی  اپنی ماں کے سامنے بھوک سے دم توڑ دیتی ہے بغیر کارڈ والی گئوماتا کا کیا حشر ہوگا یہ جاننا  بھی مشکل نہیں ہے۔ جاوید علی   نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہندوستان کو ان ممالک سے رشتے منقطع کر لینے چاہئیں جہاں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ ‘‘ بی جے پی نے اس  سنجیدہ معاملے میں ہنسی مذاق پر ناراضگی کا ا ظہار کیا لیکن بھول گئی کہ اس کی ذمہ داری کود ان کے رکن پارلیمان پر آتی ہے جس نے پارٹی سے مشورے کے بغیر یہ بل پیش کردیا ۔

  سوامی جی کو پتہ ہے کہ  پرائیویٹ ممبر بل اکثر قانونی شکل نہیں اختیار کر پاتے بلکہ خارج ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے خود ان کو ایسی حماقت سے گریز کرنا چاہیے تھا۔  ایوان میں سرکار کا موقف  رکھتے ہوئے  وزیرزراعت رادھا موہن سنگھ نے گائے کی اہمیت پر  لفاظی کی اورمویشیوں کے تحفظ کی بابت سرکاری  اقدامات  سے مطلع کیا۔ رادھا موہن نے  سوامی کو دلاسہ دیتے ہوئے مناسب حل نکالنے کاعزم  دوہرانے کے بعد بل واپس لینے کا مطالبہ بھی کردیا۔ اس طرح  گائے کے حوالے سے سنگھ پریوار کا پاکھنڈ سارے ملک کے سامنے آگیا۔ سچ تو یہ ہے سبرامنیم سوامی نے بھرے بازار میں بی جے پی کی دھوتی کھینچ لی اور ساری دنیا کو پتہ چل گیا کہ سڑکوں پر گئو ماتا کے لیے گلا پھاڑنے والے ایوان پارلیمان میں  قانون  سازی کی جرأت نہیں رکھتے۔ مثل مشہور ہے احمق دوست سے دشمن اچھا۔ تمل ناڈو کے دو پڑھے لکھے سیاستداں منی شنکر ائیر  اورسبرامنیم سوامی اور سنگھ پریوار کے عظیم پرچارک شنکر لال  فی الحال اس حقیقت   کا جیتا جاگتا نمونہ بنے ہوئے ہیں ۔ ان جیسا  رفیق و دمساز  جس کومیسرآجائے  اس پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے    

ہوئے تم دوست جس کے اس کا دشمن آسماں کیوں ہو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close